منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات
شیئر کریں
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی
مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی
کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری چالان جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرا دیا گیا ہے۔ پولیس نے مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔تفتیش کے مطابق ملزمہ کے لاہور میں موجود ایک بینک اکائونٹ میں 6 کروڑ 39 لاکھ روپے موجود تھے۔ ملزمہ مبینہ طور پر سادہ کوکین 20 ہزار روپے فی گرام جبکہ "گولڈن اسٹف” 40 ہزار روپے فی گرام فروخت کرتی تھی۔ کراچی اور لاہور میں اس کے خلاف مجموعی طور پر 27 مقدمات درج ہیں۔چالان کے مطابق مفرور ملزمان میں حمیرا، صابرہ، اینا، اعزاز اور حمزہ شامل ہیں، جبکہ تفتیش میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انمول عرف پنکی گزشتہ 16 برس سے منشیات کی تیاری اور فروخت کے دھندے سے وابستہ رہی ہے۔تفتیشی دستاویزات کے مطابق ملزمہ نے اپنے سابق شوہر رانا ناصر سے کوکین تیار کرنے کا طریقہ سیکھا اور طلاق کے بعد خود منشیات کا کاروبار شروع کر دیا۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ کراچی اور لاہور میں بار بار اپنی رہائش تبدیل کرتی رہی۔چالان میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں پنکی نے اپنی ساتھی ملزمہ صابرہ کے ذریعے لوکل بسوں کے ذریعے کوکین کراچی منتقل کی۔ صابرہ کو ہر چکر کے عوض 50 ہزار روپے ادا کیے جاتے تھے۔ بعد ازاں 2019 میں اکائونٹس منجمد ہونے کے بعد صابرہ اور پھر حمیرا کے نام پر بینک اکائونٹس استعمال کیے گئے، جبکہ ایک اور ملزمہ اینا مبینہ طور پر ہر کھیپ کے بدلے 70 ہزار روپے وصول کرتی تھی۔پولیس کے مطابق کراچی میں منشیات کی ترسیل کے لیے اعزاز، حمزہ اور عاقب نامی رائیڈرز کا نیٹ ورک استعمال کیا جاتا تھا۔ ملزمہ آن لائن آرڈرز وصول کرتی اور خریداروں کو ذیشان اور سہیل کے بینک اکانٹس فراہم کیے جاتے تھے۔ ادائیگی کی تصدیق کے بعد منشیات مختلف رائیڈرز کے ذریعے صارفین تک پہنچائی جاتی تھی۔چالان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ذیشان کے پانچ اور سہیل کے دو بینک اکائونٹس سامنے آئے ہیں، جبکہ ذیشان کے ایک اکائونٹ میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشنز کا سراغ ملا ہے۔ مزید یہ کہ ملزمہ نے سمیر کے نام پر بھی متعدد اکائونٹس کھلوا رکھے تھے اور اس کا اے ٹی ایم کارڈ بھی ملزمہ کے قبضے سے برآمد ہوا۔تفتیش کے مطابق ملزمہ کے لاہور میں موجود ایک بینک اکائونٹ میں 6 کروڑ 39 لاکھ روپے موجود تھے۔ ملزمہ مبینہ طور پر سادہ کوکین 20 ہزار روپے فی گرام جبکہ "گولڈن اسٹف” 40 ہزار روپے فی گرام فروخت کرتی تھی۔ کراچی اور لاہور میں اس کے خلاف مجموعی طور پر 27 مقدمات درج ہیں۔تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کی سفری تفصیلات حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے کو خط ارسال کیا گیا ہے، جبکہ برآمد شدہ منشیات اور دیگر اشیا کے کیمیائی تجزیے کی رپورٹس بھی طلب کی گئی ہیں۔ متعلقہ اداروں سے رپورٹس موصول ہونے کے بعد حتمی چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔


