انسان خوش فہمیوں کا قید ی!
شیئر کریں
اونچ نیچ
۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
فریڈرک نطشے نے کہا تھا: ”جو شخص اپنے اندر کے عفریتوں سے لڑتا ہے، اسے خبردار رہنا چاہیے کہ وہ خود عفریت نہ بن جائے”،روسی
ادیب لیو ٹالسٹائی کی کہانی ”ایوان ایلیچ کی موت” ایک ایسا آئینہ ہے جس میں انسان اپنی پوری زندگی کی شکست کو دیکھ سکتا ہے۔ یہ محض ایک
شخص کی موت کی کہانی نہیں، بلکہ یہ زندگی کے اس فریب کا پردہ چاک کرتی ہے جس میں انسان خود کو خوش فہمیوں میں قید رکھتا ہے۔
ایوان ایلیچ ایک عام سا انسان ہے، مگر وہ عام اس معنی میں نہیں کہ وہ ناکام ہو،بلکہ اس معنی میں کہ وہ مکمل طور پر سماج کے اصولوں کے
مطابق کامیاب ہے۔ وہ ایک جج ہے، عزت دار ہے، معاشرتی حیثیت رکھتا ہے، اس کی شادی ہے، گھر ہے، دوست ہیں، محفلیں ہیں، اور
ایک ایسا چہرہ ہے جو دیکھنے والوں کو مطمئن کرتا ہے کہ یہ شخص ”خوش” ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی زندگی میں”حقیقی خوشی” کا کوئی وجود
نہیں۔ وہ ہر فیصلہ اس بنیاد پر کرتا ہے کہ ”لوگ کیا کہیں گے”۔ اس کی شادی محبت نہیں، بلکہ سماجی ضرورت ہے۔ اس کی خوشی اصل نہیں، بلکہ
اداکاری ہے۔ وہ زندہ ہے، مگر جیتا نہیں۔ ایک دن اچانک اسے ایک معمولی سی چوٹ لگتی ہے، جو آہستہ آہستہ ایک جان لیوا بیماری میں بدل
جاتی ہے۔ یہ بیماری صرف جسم کو نہیں کھاتی۔۔یہ اس کی پوری زندگی کے جھوٹ کو بے نقاب کرنے لگتی ہے۔ شروع میں وہ انکار کرتا ہے۔ پھر
وہ امید کا سہارا لیتا ہے۔ پھر وہ ڈاکٹروں کے پاس جاتا ہے، جو اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتے ہیں جیسا وہ خود عدالت میں دوسروں کے
ساتھ کرتا تھا۔۔سرد، رسمی، بے حس۔ یہاں ایک گہرا فلسفیانہ موڑ آتا ہے۔
ایوان ایلیچ کو پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ وہ صرف ایک ”کیس” بن چکا ہے، ایک ”مسئلہ”، ایک ”جسم”۔ انسان ہونے کی ساری معنویت
اس سے چھین لی جاتی ہے۔ جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے، اس کی تکلیف صرف جسمانی نہیں رہتی۔۔وہ ایک روحانی اذیت میں بدل جاتی
ہے۔ اس کے گھر والے اس سے محبت نہیں کرتے، بلکہ اس کی موجودگی سے تنگ ہوتے ہیں۔ اس کی بیوی اس کی بیماری کو ایک بوجھ سمجھتی
ہے۔ اس کے دوست اس کی حالت دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں، اور جلدی سے موضوع بدل دیتے ہیں۔ ہر کوئی اس کی موت سے ڈرتا ہے،
کیونکہ وہ انہیں اپنی موت کی یاد دلاتی ہے۔ ایوان ایلیچ کے لیے سب سے بڑا دکھ یہ نہیں کہ وہ مر رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اکیلا مر رہا ہے۔ یہ
تنہائی انسان کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ آخری لمحے میں کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں جا سکتا۔ جب درد ناقابل برداشت ہو جاتا ہے، تو
ایوان ایلیچ ایک سوال سے دوچار ہوتا ہے: ”کیا میری زندگی واقعی وہی تھی جو ہونی چاہیے تھی”؟ یہ سوال اس کے وجود کو ہلا دیتا ہے۔ وہ اپنی
پوری زندگی کو دیکھتا ہے۔۔اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ جو وہ ”درست” سمجھتا تھا، دراصل ایک فریب تھا۔ اس نے کبھی سچائی کے
ساتھ زندگی نہیں گزاری۔ اس نے کبھی دل کی آواز نہیں سنی۔ وہ ہمیشہ سماج کے بنائے ہوئے راستے پر چلتا رہا، بغیر یہ سوچے کہ یہ راستہ اسے
کہاں لے جا رہا ہے۔ یہ احساس کسی بھی جسمانی درد سے زیادہ خوفناک ہے۔ جب موت بالکل قریب آ جاتی ہے، تو ایک عجیب سا سکون
اس کے اندر پیدا ہونے لگتا ہے۔ وہ پہلی بار دوسروں کے بارے میں سوچتا ہے۔۔اپنے بیٹے کے بارے میں، جو اس سے سچی محبت کرتا
ہے۔ وہ اپنی بیوی کے لیے بھی ہمدردی محسوس کرتا ہے، جو اپنی محدود سمجھ کے باعث اس سے دور رہی۔
یہاں وہ ایک عجیب حقیقت کو چھوتا ہے، محبت ہی وہ واحد چیز ہے جو زندگی کو معنی دیتی ہے۔ اور جیسے ہی وہ اس سچ کو قبول کرتا ہے، اس کا
خوف ختم ہو جاتا ہے۔ موت، جو اب تک ایک سیاہ غار لگ رہی تھی، اچانک ایک روشنی میں بدل جاتی ہے۔ اور وہ مر جاتا ہے۔ یہ کہانی اس
لیے دردناک نہیں کہ ایک شخص مر جاتا ہے۔۔بلکہ اس لیے کہ وہ پوری زندگی ”زندہ ہونے کا ڈھونگ” کرتا رہا، اسے سچائی کا احساس صرف
موت کے دروازے پر ہوا، اور یہ احساس ہر قاری کو اپنی زندگی پر شک کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ سماجی کامیابی حقیقی
کامیابی نہیں، مصروفیت زندگی نہیں، اور سب سے بڑھ کر اگر انسان نے سچائی اور محبت کے بغیر زندگی گزاری، تو وہ دراصل زندہ ہی نہیں رہا۔
”ایوان ایلیچ کی موت” ایک کہانی نہیں، ایک آئینہ ہے۔ جو بھی اسے پڑھتا ہے، وہ صرف ایوان ایلیچ کو نہیں دیکھتا۔۔وہ خود کو دیکھتا ہے۔ اور
شاید یہی اس کا سب سے بڑا درد ہے، کیونکہ ہر انسان کے اندر کہیں نہ کہیں ایک ایوان ایلیچ چھپا ہوتا ہے، جو آخری لمحے تک خود سے یہی
پوچھتا رہتا ہے: ”کیا میں نے واقعی زندگی گزاری تھی”؟
”ایوان ایلیچ کی موت” جب پاکستانی تناظر میں دیکھی جائے تو یہ محض ایک فرد کی کہانی نہیں رہتی بلکہ یہ ایک پورے پاکستانی انسان،
پاکستانی سماج اور پاکستانی ریاست کی اجتماعی موت کی داستان بن جاتی ہے، ایک ایسی خاموش، سست، مگر یقینی موت جس کا احساس سب کو
ہے مگر اعتراف کوئی نہیں کرتا۔ یہاں ایوان ایلیچ کوئی ایک جج نہیں بلکہ وہ ہر وہ پاکستانی ہے جو صبح آنکھ کھولتے ہی ایک ایسے نظام کا حصہ بن
جاتا ہے جسے وہ خود بھی غلط سمجھتا ہے مگر اس کے خلاف کھڑا ہونے کی ہمت نہیں رکھتا، وہ جس ریاست میں سانس لے رہا ہے وہاں انصاف
ایک خریدی جانے والی چیز ہے، جہاں قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے تیز دھار خنجر ہے، جہاں سچ بولنا حماقت اور جھوٹ بولنا ہنر
بن چکا ہے، یہ احساس آہستہ آہستہ اس کے وجود کو کھانے لگتا ہے، مگر جیسے ایوان ایلیچ ڈاکٹروں کے پاس جاتا ہے ویسے ہی یہ پاکستانی انسان
بھی اداروں کی طرف دیکھتا ہے۔۔عدالت، پولیس، بیوروکریسی۔۔مگر وہاں اسے علاج نہیں ملتا بلکہ مزید بے حسی ملتی ہے، وہ دیکھتا ہے کہ
یہاں انسان نہیں بلکہ فائلیں چلتی ہیں، یہاں درد نہیں بلکہ مفاد بولتا ہے، یہاں انصاف نہیں بلکہ تعلقات فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس
کی زندگی ایک اذیت میں بدل جاتی ہے، مگر یہ اذیت صرف اس کی اپنی نہیں بلکہ پورے سماج کی اجتماعی اذیت ہے، ایک ایسا معاشرہ جہاں
ہر شخص دوسرے کے دکھ سے نظریں چرا رہا ہے، کیونکہ ہر ایک کو اپنے اپنے خوف نے قید کر رکھا ہے، کوئی آواز نہیں اٹھاتا کیونکہ ہر ایک کو اپنی
باری کا ڈر ہے۔ اس پاکستانی ایوان ایلیچ کے لیے سب سے بڑا عذاب یہ نہیں کہ وہ ایک خراب نظام میں جی رہا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اس نظام
کے خلاف کچھ نہیں کر پا رہا، وہ اندر ہی اندر گل رہا ہے، اسے معلوم ہے کہ سب کچھ غلط ہے مگر وہ خود بھی اسی غلطی کا حصہ بنا ہوا ہے، یہی اس کی
سب سے بڑی اخلاقی شکست ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی تکلیف، وہ رات کو سوتے وقت خود سے نظریں نہیں ملا سکتا، مگر صبح اٹھ کر پھر
وہی چہرہ پہن لیتا ہے جو سماج نے اس کے لیے تیار کیا ہے۔ پھر ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب وہ خود سے وہی سوال پوچھتا ہے ”کیا میں نے واقعی
زندگی گزاری ہے”؟اور اس سوال کا جواب اس کے اندر ایک چیخ بن کر گونجتا ہے کہ نہیں، یہ زندگی نہیں تھی بلکہ ایک مسلسل سمجھوتہ تھا، ایک
مسلسل جھوٹ تھا، ایک مسلسل خودفریبی تھی، اس نے کبھی سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کی کوشش نہیں کی، کبھی ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی،
کبھی اپنے اندر کے خوف کو چیلنج نہیں کیا، وہ صرف بہاؤ کے ساتھ بہتا رہا، اور اب جب وہ رک کر دیکھتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کہیں
پہنچا ہی نہیں، وہ ساری زندگی ایک دائرے میں گھومتا رہا۔ اور جب یہ شعور اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو ایک عجیب سا سکوت اس کے اندر اترنے لگتا
ہے، وہ پہلی بار سمجھتا ہے کہ اصل مسئلہ نظام سے پہلے خود انسان ہے، وہ خود بھی اس بگاڑ کا حصہ تھا، وہ خود بھی اس خاموشی کا مجرم تھا، اور شاید
یہی احساس اس کے اندر ایک ہلکی سی روشنی پیدا کرتا ہے، مگر یہ روشنی بہت دیر سے آتی ہے، اتنی دیر سے کہ اس کے پاس اسے زندہ کرنے کا
وقت نہیں بچتا۔ یہی اس کہانی کا سب سے تلخ پہلو ہے کہ پاکستانی انسان کو بھی سچائی کا احساس تب ہوتا ہے جب وہ اپنی پوری زندگی تقریباً
گزار چکا ہوتا ہے، جب وہ تھک چکا ہوتا ہے، جب اس کے پاس بدلنے کی طاقت نہیں رہتی، اور پھر وہ اسی خاموشی کے ساتھ اس نظام کا
حصہ بنتے بنتے ختم ہو جاتا ہے۔
یہ کہانی اس لیے دردناک نہیں کہ یہاں موت ہے بلکہ اس لیے کہ یہاں زندگی نہیں ہے، یہاں ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں لوگ زندہ
ہونے کا ڈھونگ کرتے ہیں، ایک ایسی ریاست ہے جو اپنے شہریوں کو سہارا دینے کے بجائے انہیں آہستہ آہستہ توڑتی ہے، اور ایک ایسا
انسان ہے جو سچ جانتے ہوئے بھی خاموش رہتا ہے، اور شاید سب سے بڑی المیہ یہی ہے کہ یہاں ہر کوئی ایوان ایلیچ ہے مگر کوئی خود کو پہچاننے کو تیار نہیں، اور جب پہچانتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے، اتنی دیر کہ زندگی صرف ایک سوال بن کر رہ جاتی ہے ”کیا ہم نے واقعی
کبھی جینا سیکھا تھا”؟
٭٭٭


