سندھ بلڈنگ حیدرآباد کے کرپٹ افسران کارروائی سے محفوظ
شیئر کریں
ریجنل ڈائریکٹر نواز سمیجو کی جانب سے مکمل رپورٹ پیش نہ کرنے پر شکوک پیدا ہونے لگے
اورنگزیب رضی اور دیگر افسران کے منظور کردہ نقشوںاور فائلوں کو ری اوپن کرنے کا مطالبہ
ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کے خلاف مبینہ کرپشن، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دیگر بے ضابطگیوں کے الزامات کے باوجود کارروائی اور انکوائری میں تاخیر پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ شہری اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو انکوائری مکمل کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اگر الزامات میں صداقت موجود ہے تو ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام کی جانب سے معاملے کی تحقیقات جاری ہونے کے باوجود اب تک کوئی حتمی رپورٹ منظر عام پر نہیں آسکی، جس کے باعث مختلف سوالات جنم لے رہے ہیں۔ خاص طور پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کے خلاف انکوائری میں پیش رفت کیوں نظر نہیں آرہی اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں تاخیر کی وجوہات کیا ہیں۔متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ مزمل ہالیپوٹو کی جانب سے انکوائری کے عمل میں سست روی سمجھ سے بالاتر ہے ، جبکہ ریجنل ڈائریکٹر نواز سمیجو کی جانب سے بھی اس معاملے پر مکمل رپورٹ پیش نہ کیے جانے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ تمام حقائق شفاف انداز میں سامنے لائے جائیں تاکہ افواہوں اور شکوک و شبہات کا خاتمہ ہوسکے ۔شہری تنظیموں اور متاثرہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی سمیت اسسٹنٹ ڈائریکٹر ساجد قائمخانی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب خانزادہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنید آرائیں اور انسپکٹر شہاب الدین زرداری کی جانب سے منظور کیے گئے تمام نقشہ جات، این او سیز اور متعلقہ فائلوں کو دوبارہ کھولا جائے اور ان کا تفصیلی آڈٹ کرایا جائے ۔مطالبہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ تمام فائلوں اور نقشہ جات کی غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال سے اصل حقائق سامنے آجائیں گے اور اگر کسی سطح پر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کا بھی تعین ہوسکے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ شفاف تحقیقات ہی اس پورے معاملے میں "دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی”کرسکتی ہیں۔عوامی و سماجی حلقوں نے اعلیٰ حکام، متعلقہ سیکریٹری اور اینٹی کرپشن سمیت دیگر اداروں سے اپیل کی ہے کہ معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے اور اگر کسی بھی افسر یا اہلکار کا کردار مشکوک ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے ۔(نمائندہ جرأت)


