میگزین

Magazine
تازہ ترین : عمران خان کی حکومت ہٹانے سے متعلق سائفر امریکی میڈیا میں ہی افشا ہو گیا فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے تحریک انصاف کااسمبلیوں سے استعفے دینے پرغور،محمود اچکزئی ، ناصر عباس سے اختیارات واپس لینے کیلئے دبائو پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم آبنائے ہرمزکی ناکہ بندی ، ملک میں گیس قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ قبضہ مافیاز کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا،وزیر داخلہ سندھ کراچی کو حق دو کے بینرز جو دکاندار بنائیں گے ان کو سِیل کر دینگے، مرتضیٰ وہاب افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید سندھ بلڈنگ، اسکیم 24گلشن اقبال میں غیر قانونی تعمیرات کا راج

ای پیج

e-Paper
مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟

مسلم ،تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟

ویب ڈیسک
جمعرات, ۱۶ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

محمد آصف

مسلم تیرا انداز بدل کیوں نہیں جاتا؟ یہ سوال محض ایک مصرع نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی صدا ہے ۔ جب ہم
اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ زوال، انتشار اور کمزوری نے ہماری اجتماعی زندگی کو گھیر رکھا ہے ۔ حالانکہ تاریخ گواہ
ہے کہ یہی امت کبھی علم، عدل، شجاعت اور تہذیب کی معلم تھی۔ آج اگر ہم بار بار ٹھوکر کھا کر گرتے ہیں تو سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ ہم سنبھل
کیوں نہیں جاتے ؟ کیا ہمارے پاس رہنمائی کی کمی ہے ؟ کیا ہمارے پاس نظریہ نہیں؟ کیا ہمارے پاس قرآن و سنت کی روشنی موجود نہیں؟
اصل مسئلہ رہنمائی کا فقدان نہیں بلکہ عمل کا فقدان ہے ۔ ہم نے اپنی اصل پہچان، اپنے اسلاف کی روایات اور اپنے دین کی حقیقی روح سے
دوری اختیار کر لی ہے ، اسی لیے بار بار گر کر بھی سنبھلنے کا حوصلہ پیدا نہیں ہوتا۔
تفریق اور تفرقہ بازی ہماری سب سے بڑی کمزوری بن چکی ہے ۔ اگر ہمیں تقسیم، فرقہ واریت اور لسانی و نسلی جھگڑے راس نہیں آتے
تو ہم آفاق کے سانچے میں کیوں نہیں ڈھل جاتے ؟ اسلام نے تو ہمیں ایک امت قرار دیا تھا، رنگ و نسل، زبان و وطن کی بنیاد پر تقسیم ہونے
کا درس نہیں دیا۔ قرآن ہمیں اخوت اور وحدت کا سبق دیتا ہے ، مگر ہم نے چھوٹے چھوٹے اختلافات کو بنیاد بنا کر اپنے دلوں میں دیواریں
کھڑی کر لی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری اجتماعی قوت منتشر ہو گئی ہے ۔ اگر ہم وسیع تر انسانی اور اسلامی اخوت کے سانچے میں ڈھل جائیں،
اپنے مفادات سے بلند ہو کر امت کے مفاد کو ترجیح دیں، تو ہماری طاقت کئی گنا بڑھ سکتی ہے ۔ آج دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہیں جو اتحاد،
نظم اور مشترکہ مقصد کو اپناتی ہیں۔ ہم بھی اگر اپنے اندر وحدت پیدا کر لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم دوبارہ عروج کی راہ پر گامزن نہ ہو سکیں۔
غلامی کا طوق کسی بھی باوقار انسان کو زیب نہیں دیتا۔ اگر ہمیں ذہنی، فکری، معاشی اور سیاسی غلامی گوارا نہیں تو پھر ہمارے خون میں
غیرت کیوں نہیں کھولتی؟ ہم دوسروں کی تہذیب، سوچ اور نظام کو آنکھیں بند کر کے قبول کر لیتے ہیں، مگر اپنی اقدار اور روایت پر فخر کرنے
میں جھجک محسوس کرتے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کا مظہر ہے کہ ہم نے اپنی خودی کو کمزور کر لیا ہے ۔ خودی وہ قوت ہے جو انسان کو باوقار بناتی
ہے ، اسے حق کے لیے کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے ۔ جب تک ہمارے اندر غیرتِ ایمانی بیدار نہیں ہوگی، ہم کسی بھی میدان میں سربلند نہیں
ہو سکتے ۔ غلامی صرف زنجیروں کا نام نہیں بلکہ فکر کی غلامی بھی اتنی ہی خطرناک ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے تعلیمی، معاشی اور سیاسی نظام کو خود
انحصاری کی بنیاد پر استوار کریں اور اپنی شناخت کو فخر کے ساتھ اپنائیں۔
ایمان ہماری سب سے بڑی دولت ہے ۔ اگر ہماری سانسیں اللہ کی امانت ہیں تو پھر موت کا خوف ہمارے دلوں پر کیوں مسلط ہے ؟
ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے رب پر کامل بھروسا رکھے ۔ جب یہ یقین پختہ ہو جائے کہ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہیں، تو
خوف کی زنجیریں ٹوٹ جاتی ہیں۔ تاریخ اسلام کے بے شمار واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ جب اہلِ ایمان نے موت سے بے خوف ہو
کر حق کا علم بلند کیا تو بڑی سے بڑی طاقتیں بھی ان کے سامنے لرز گئیں۔ آج ہمیں اسی یقین اور توکل کی ضرورت ہے ۔ خوف انسان کو
مفلوج کر دیتا ہے ، جبکہ ایمان اسے جرأت اور عزم عطا کرتا ہے ۔ اگر ہم اپنے ایمان کو تازہ کریں، اللہ سے تعلق مضبوط کریں، تو دل سے
موت کا خوف نکل سکتا ہے اور اس کی جگہ عمل، جدوجہد اور استقامت کی قوت پیدا ہو سکتی ہے ۔
پیغامِ محمد ۖ کو بھلا دینا دراصل اپنی اصل سے کٹ جانا ہے ۔ حضور اکرم ۖ کی سیرت صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطئہ
حیات ہے ۔ عدل، رحم، دیانت، اخوت، صبر، شجاعت اور عفو یہ سب اوصاف آپ ۖ کی زندگی میں نمایاں تھے ۔ اگر ہم واقعی عشقِ محمد ۖ
کا دعویٰ کرتے ہیں تو یہ عشق محض جذباتی نعروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمارے کردار، معاملات اور معاشرتی رویوں میں جھلکنا
چاہیے۔عشق کا تقاضا حرکت اور تڑپ ہے ۔ اگر ہمارے دلوں میں سچا عشق ہو تو ہم ظلم، ناانصافی اور بے حیائی کے خلاف کھڑے ہوں گے ،
اور خیر، بھلائی اور اصلاح کے لیے سرگرم عمل ہوں گے ۔ عشق انسان کو ساکن نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے مچلنے اور آگے بڑھنے پر آمادہ کرتا ہے ۔
اگر ہم خود کو مصطفوی ۖ کہنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر باطل طاقتیں ہمارے ڈر سے کیوں نہیں دہلتیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا دعویٰ عملی
قوت سے خالی ہے ۔ جب تک ہم علم، کردار اور تنظیم کے میدان میں مضبوط نہیں ہوں گے ، محض نعروں سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ تاریخ
میں وہی قومیں غالب آئیں جنہوں نے علم کو ہتھیار بنایا، اخلاق کو شعار بنایا اور نظم و اتحاد کو اپنایا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں کو
مضبوط کریں، تحقیق اور تخلیق کو فروغ دیں، اور اخلاقی اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ جب ایک قوم علمی اور اخلاقی اعتبار سے مضبوط ہوتی
ہے تو اس کا رعب خود بخود قائم ہو جاتا ہے ۔
شمع کے پہلو میں رہ کر بھی پریشان رہنا اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی اصل قوت کو پہچان نہیں پا رہے ۔ اگر ہم پروانے ہیں تو پھر جلنے
کا حوصلہ کیوں نہیں کرتے ؟ جلنا یہاں قربانی اور ایثار کی علامت ہے ۔ کوئی بھی بڑی تبدیلی قربانی کے بغیر ممکن نہیں۔ قوموں کی تعمیر ان لوگوں
کے ہاتھوں ہوتی ہے جو ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر اجتماعی بھلائی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے حالات بدلیں تو
ہمیں بھی قربانی دینی ہوگی وقت کی، محنت کی، آسائشوں کی اور کبھی کبھی جان کی بھی۔ یہی جذبہ ہمیں جمود سے نکال کر حرکت کی طرف لے
جاتا ہے ۔
آج امت مسلمہ کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ، وہ محض بیرونی سازشوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ہماری داخلی کمزوریوں کا بھی عکس ہیں۔ ہمیں اپنے اندر
احتساب، اصلاح اور تجدید کا عمل شروع کرنا ہوگا۔ انفرادی سطح پر ایمان کی مضبوطی، اخلاق کی بہتری اور علم کا حصول ضروری ہے ، جبکہ اجتماعی
سطح پر اتحاد، عدل اور نظم کی ضرورت ہے ۔ جب فرد اور معاشرہ دونوں اپنی ذمہ داری پہچان لیں گے تو تبدیلی کا عمل تیز ہو جائے گا۔ سوال
دراصل بیداری کی دعوت ہے ۔ اگر ہم سنبھلنے کا ارادہ کر لیں، اتحاد کو اپنا لیں، غیرت کو بیدار کر لیں، ایمان کو تازہ کر لیں اور عشقِ رسول ۖ کو
اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہماری تقدیر بدل سکتی ہے ۔ تاریخ کا دھارا بدلنا ناممکن نہیں، شرط صرف یہ ہے کہ ہم خود کو بدلنے کا عزم کر لیں۔
جب قومیں اپنے اندر انقلاب برپا کرتی ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں عروج سے نہیں روک سکتی۔ پس وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خوابِ غفلت
سے بیدار ہوں، اپنے کردار کو سنواریں اور اس پیغام کو عملی شکل دیں کہ مسلم کا انداز واقعی بدل سکتا ہے اگر وہ بدلنے کا فیصلہ کر لے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں