میگزین

Magazine
تازہ ترین : عمران خان کی حکومت ہٹانے سے متعلق سائفر امریکی میڈیا میں ہی افشا ہو گیا فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے تحریک انصاف کااسمبلیوں سے استعفے دینے پرغور،محمود اچکزئی ، ناصر عباس سے اختیارات واپس لینے کیلئے دبائو پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم آبنائے ہرمزکی ناکہ بندی ، ملک میں گیس قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ قبضہ مافیاز کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا،وزیر داخلہ سندھ کراچی کو حق دو کے بینرز جو دکاندار بنائیں گے ان کو سِیل کر دینگے، مرتضیٰ وہاب افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید سندھ بلڈنگ، اسکیم 24گلشن اقبال میں غیر قانونی تعمیرات کا راج

ای پیج

e-Paper
پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید

پاکستان کی ثالثی،مودی پر تنقید

ویب ڈیسک
جمعرات, ۱۶ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

ریاض احمدچودھری

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پر خاموشی اختیار کرنے پر بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو اپنے ہی ملک میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اس بحران میں پاکستان ایک کلیدی فریق کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے اور اس کی سفارتی کوششوں کے باعث ایک بڑی جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔ پاکستان کے بطور ثالث کردار پر بھارتی اپوزیشن نے شدید ردِعمل اور غصے کا اظہار کیا ہے۔بھارتی کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے بھی اعتراف کیا ہے کہ پاکستان سفارتی سطح پر بھارت سے کہیں بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔ بی جے پی کے حامی حلقوں میں اسرائیل کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اس کا اسلام مخالف تشخص ہے، جس پر بھی مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔
مودی کی اسرائیل نواز پالیسی خفیہ کرپٹ نیٹ ورک کے زیر اثر اور سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین کی ہدایات پر بنی۔ امریکی محکمہ انصاف نے اسرائیل کی جانب مودی کے جھکاؤ کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ بھارت کی اسرائیل پالیسی میں اسٹریٹجک جھکاؤ کی تجویز جیفری ایپسٹین نے دی تھی۔ تجویز میں وائٹ ہاؤس کی حمایت لینے کیلئے دو ارب ڈالر کا اسلحہ اور انٹیلی جنس خریداری بڑھانا شامل تھا۔ ایپسٹین نے اسرائیل نواز بھارتی پالیسی کو قطری شاہی خاندان کے سامنے اپنے مشوروں کا نتیجہ قرار دیا۔ ایپسٹن ٹرمپ کی کابینہ تقرریوں اور خارجہ پالیسی میں تبدیلیوں کی خفیہ معلومات وقت سے پہلے فراہم کرتا رہا۔ ایپسٹین نے انیل امبانی کو امریکی اثر و رسوخ کے اہم حلقوں تک رسائی دی۔ امبانی نے مبینہ طور پر جیرڈ کشنر سے ملاقاتوں کے لیے یہی نیٹ ورک استعمال کیا۔امبانی گروپ کو کئی ذمہ داریاں ملیں، 2016 کا رافیل طیارہ معاہدہ بھی اسی تناظر میں ہے۔ مارچ میں منظرعام پر آئے پیغامات کے بعد امبانی کے اثاثے منجمد اور شدید عالمی ردعمل کی اطلاعات ہیں۔امبانی کی دولت 45 ارب ڈالر سے کم ہو کر ایک ارب 70 کروڑ ڈالر رہ گئی تھی۔ دولت کم ہونے پر ایپسٹین نے مبینہ طور پر دوستی کے طور پر مفت مالی مشورے فراہم کیے۔انیل امبانی نے بھارتی انتخابات کے نتائج کے موقع پر تئیس مئی 2019 کو ایپسٹین کے مین ہٹن گھر کا دورہ بھی کیا۔ یہ ملاقات ایپسٹین کی جنسی اسمگلنگ کیس میں گرفتاری سے چند ہفتے قبل ہوئی تھی۔مودی کی اسرائیل نواز جارحانہ پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر عدم اعتماد اور انتہا پسند ریاست میں تبدیل کر دیا ہے۔ پاکستان کے ثالثی کے کردار میں فیلڈ مارشل کی قیادت اور صلاحیت نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان نے حالیہ جنگ کے دوران مکمل طور پر غیر جانبدار مؤقف قائم رکھتے ہوئے دونوں فریقین کا اعتماد جیتا۔بھارتی میجر جنرل (ر) یشپال مور کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایران پر حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کی شدید مذمت کی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر نے لبنان حملے پر بھی بھرپور انداز میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔بہترین اور متوازن حکمت عملی پاکستان کو سعودی عرب اور چین کیساتھ بھی بہترین تعلقات میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
انتہا پسند بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اسرائیل نواز پالیسی پر کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کی غیر مشروط تائید نے بھارت کی نام نہاد غیر جانبداری کے جھوٹے دعوؤں کا پول کھول دیا۔ بھارتی اپوزیشن نے بھی مودی کو دورہ اسرائیل پر آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ایران پر حملوں پر مودی کا ردِعمل بھارت کی اقدار اور مفادات سے غداری ہے۔عالمی جریدے بلومبرگ کا کہنا ہے ایران میں بڑھتا ہوا بحران بھارتی معیشت کے لیے غیر یقینی صورتِحال پیدا کر رہا ہے، ایران پر حملے سے بھارت کو تیل کی قیمتوں اور تجارتی خسارے میں بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہود و ہنود گٹھ جوڑ نے بھارتی معیشت اور عوامی مفادات کو داؤ پر لگادیامودی سرکار کی ترجیحات میں بھارتی عوام کا مفاد نہیں بلکہ ‘اسرائیل نوازی’شامل ہے۔ذاتی مفادات کے لیے دوغلے مودی کا ایران کے خلاف اسرائیل سے گٹھ جوڑ کے منفی اثرات بھی بھارتی عوام بھگتنے لگے ہیں۔ کسی بھی طویل مدتی خلل سے بھارت کے مالی وسائل پر شدید دباؤ پڑنے کا قوی امکان ہے۔بھارت میں گھریلو گیس کی قلت پہلے ہی صارفین کو مشکلات سے دوچار کر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث بھارتی برآمدات اور خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر شدید خطرے میں ہیں۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران بھارت کی اسٹاک مارکیٹ اب تک تقریباً 10 فیصد تک گر چکی ہے۔
عالمی سرمایہ کاری بینک گولڈمین ساکس نے بھی خبردار کیا ہے کہ آئندہ سال کے دوران بھارت کو زیادہ مہنگائی اور کمزور کرنسی کا سامنا ہوگا۔ مودی نے نیتن یاہو سے سفاک نظریاتی وابستگی کے باعث اسرائیل کا ساتھ دے کر اپنے ملک کے معاشی مفادات کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل گرتی معیشت، عوامی بوجھ اور تیل و گیس کی قلت اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی سرکار کی ترجیحات میں بھارتی عوام کا مفاد نہیں بلکہ ‘اسرائیل نوازی’شامل ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں