بھارتی شہری اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
بھارت میں اپنے ہی شہریوں کو غیر ملکی قرار دے کر ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔مئی اور جولائی کے درمیان 1,880 افراد کو بنگلہ دیش میں زبردستی پھینک دیا گیا۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پولیس نے حسن شاہ نامی شہری کو مغربی بنگال سے حراست میں لیا اس کے ہاتھ پاؤں باندھے اور کشتی کے ذریعے بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب چھوڑ دیا۔حسن شاہ کا کہنا ہے کہ وہ بھارتی ریاست گجرات میں پیدا ہوئے اور ان کے پاس شہریت کے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں۔بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن اپنے عروج پر ہے جہاں سیکڑوں مسلمانوں کی شہریت کو مشکوک قرار دے کر انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا کہ مئی اور جولائی 2025 کے درمیان 1,880 افراد کو بنگلہ دیش میں زبردستی پھینک دیا گیا جن میں سے 110 کو بنگلہ دیش نے "غلط طور پر دیے گئے بھارتی شہری” کے طور پر واپس بھیج دیا۔رپورٹ میں بھارتی پولیس کے غیر انسانی سلوک کی تفصیلات بھی شامل ہیں جیسے کہ شہریوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر تشدد کا نشانہ بنانا اور سرحد پار پھینکنا۔یہ رپورٹ بھارت کی جانب سے شہریت کے متنازع قوانین اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے جس کی وجہ سے اقلیتوں میں شدید عدم تحفظ پایا جا رہا ہے۔
بھارت میں بی جے پی کے اقتدار میں خواتین کا مستقبل تاریک اور خواتین کو متعدد سنجیدہ مسائل کاسامنا ہے۔مودی سرکار کے تیسرے دورِ حکومت میں بھارتی خواتین کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے واقعات میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے، بھارتی ریاست بنگال کے شہر کلکتہ میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور ان کوصنفی بنیادوں پر تشدد کا نشانہ بنانے کے یکے بعد دیگرے کئی واقعات رپورٹ ہورے ہیں۔ حال ہی میں مغربی بنگال کے نواحی علاقے نندی گرام میں بی جے پی کے کارکنوں نے سیاسی مخالفت کی بنا پر ایک خاتون کو برہنہ کر کے 300 میٹر تک پیدل چلنے پہ مجبور کیا، برہنہ کئے جانے والی خاتون کے گھر والوں کو بھی بی جے پی کے کارکنان کی جانب سے مارا پیٹا گیا اور گھر کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔متاثرہ خاتوں کا کہنا ہے کہ میں بی جے پی کے ساتھ تھی، لیکن حال ہی میں ٹی ایم سی( آل انڈیا ترنمول کانگریس) میں شامل ہوئی، جس کی وجہ سے مجھ پر حملہ کیا گیا۔ پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں بی جے پی کے بوتھ صدر تاپس داس سمیت 6 افراد کو حراست میں لے لیا۔ ٹی ایم سی کے ترجمان کنال گھوش نے دعویٰ کیاہے کہ متاثرہ خاندان ٹی ایم سی کی حمایت کرتا ہے، اس لیے بی جے پی نے سیاسی انتقام کی وجہ سے خاتون کے خلاف یہ ظلم کیا۔صنفی کارکن ستابدی داس کا کہناہے کہ بی جے پی کی خواتین سے نفرت اور بدسلوکی کی ایک طویل تاریخ ہے، بی جے پی ایک بدتمیز اور بد تہذیب سیاسی پارٹی ہے۔
بھارت میں لوگ اس وقت سڑکوں پر ہیں اور آر،جی کارہسپتال میں ہونے والے انسانیت سوز واقعہ کے لئے انصاف مانگ رہے ہیں، مگر ایسے واقعات کم ہونے کی بجائے زیادہ ہورہے ہیں۔یاد رہے کہ مودی سرکار کو اس وقت شدید ریاستی اور عالمی دباؤ کا سامنا ہے اور بی جے پی کے کارکن اپنی پارٹی کے لئے مزید شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں، بھارتی خواتین آئے روز بی جے پی کی انتہا پسندانہ سوچ کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔نریندر مودی کے ادوارِ حکومت کے دوران ہونے والے تاریخ کے بدترین واقعات کی وجہ سے خواتین کے لیے بھارت کو دنیا کا غیر محفوظ ترین ملک قرار دیا جا چکا ہے، خواتین سے زیادتی روز کا معمول بن گیا ہے، جہاں نظامِ انصاف مفلوج اور ریاست خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔بھارت میں نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی خواتین بھی مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بن رہی ہیں، خواتین کی عصمت دری اور ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث بھارت کو دنیا میں ریپ کیپٹل کے طور پر جانا جاتا ہے۔راجستھان میں فرانسیسی سیاح خاتون سے زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے، جو بھارت کے عالمی سطح پر سیاہ چہرے پر ایک اور بدنما داغ ہے، اْدے پور میں کمپنی کے ایک ملازم نے فرانسیسی سیاح خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے بعد بھارتی اپوزیشن نے اس واقعے کو عالمی سطح پر بھارت کی گرتی ہوئی ساکھ کے لیے ایک نیا خطرہ قرار دیتے ہو ئے مودی سرکار پر کڑی تنقید کی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق 19 مارچ 2025 کو کرناٹک کے شہر ہمپی میں اسرائیلی سیاح خاتون اور اْس کی میزبان کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2018 سے 2025 کے دوران ہر سال 30 سے 34 ہزار ریپ کیسز رپورٹ ہوئے، رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر 15 منٹ میں ایک خاتون ریپ کی رپورٹ درج کراتی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق 2022 میں ریپ کے 1,98,285 زیر التوا کیسز میں صرف 18,517 نمٹائے گئے جب کہ 90 فیصد سے زائد مقدمات تاحال توجہ کے طالب ہیں۔ بھارت میں بڑھتے ریپ کیسز پر عالمی میڈیا کی جانب سے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس سے مودی حکومت کی ناکامی بے نقاب ہوتی ہے۔
٭٭٭


