سندھ بلڈنگ ،آسمان چھوتی غیر قانونی عمارتیں، شہریوں کا جینا دوبھر
شیئر کریں
ڈی جی مزمل حسین ہالیپوٹو کی کارکردگی پر سوالات، مراعات لینے والے افسران خاموش
نارتھ ناظم آباد بلاک ایچ کے پلاٹ نمبر D67پر خلاف ضابطہ تعمیر تکمیل کے مراحل میں
شہر قائد میں غیر قانونی اور خلافِ ضابطہ بلند عمارتوں کی تعمیر نے شہری زندگی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے ۔ رہائشی علاقوں میں تیزی سے بلند ہوتی عمارتیں نہ صرف بلدیاتی قوانین کی دھجیاں اڑا رہی ہیں بلکہ شہریوں کیلئے اذیت، بے سکونی اور خوف کی علامت بنتی جا رہی ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مبینہ غفلت اور عدم کارروائی کے باعث تعمیراتی مافیا کھلے عام اپنی مرضی کے منصوبے مکمل کرنے میں مصروف ہے ۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو کی سربراہی میں ادارہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مکمل ناکام دکھائی دیتا ہے ۔ قومی خزانے سے بھاری تنخواہیں اور مراعات حاصل کرنے والے افسران کی کارکردگی صفر نظر آتی ہے جبکہ شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ۔ کئی علاقوں میں منظور شدہ نقشوں سے ہٹ کر اضافی منزلیں تعمیر کی جا رہی ہیں، مگر متعلقہ حکام کی جانب سے مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔جرأت سروے کے دوران لی گئی زیر نظر تصویر میں زمینی حقائق کے مطابق نارتھ ناظم آباد بلاک ایچ کے پلاٹ نمبر D67 پر نقشے کے بر خلاف تعمیر تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکی ہے ،متاثرہ مکینوں کے مطابق بلند و بالا عمارتوں نے گلیاں تنگ کر دی ہیں، سورج کی روشنی اور ہوا کی قدرتی گزرگاہیں بند ہو چکی ہیں جبکہ پارکنگ اور سیوریج کے مسائل نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر عمارتوں کی بنیادیں اور تعمیراتی معیار بھی سوالیہ نشان ہیں، جس سے کسی بھی وقت بڑے سانحے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے ۔سماجی و شہری تنظیموں نے حکومت سندھ، چیف سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں جاری غیر قانونی تعمیرات کے خلاف فوری اور بلاامتیاز آپریشن کیا جائے ، ایس بی سی اے کے کردار کی تحقیقات کی جائیں اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔


