میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
نیتن یاہو کا غزہ کے 70 فیصد علاقے پر قبضہ کا اعلان

نیتن یاہو کا غزہ کے 70 فیصد علاقے پر قبضہ کا اعلان

ویب ڈیسک
هفته, ۳۰ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

فلسطینی علاقے کی مستقل تقسیم قابل قبول نہیں،جرمنی کا سخت ردعمل ، تشویش کا اظہار
برلن فلسطینی علاقوں کے قبضے کی حمایت نہیں کرتا، ترجمان جرمن وزارت خارجہ کا بیان

جرمنی نے غزہ کے مزید علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی علاقے کی مستقل تقسیم قابل قبول نہیں۔الجزیرہ کے مطابق جرمن حکومت کے ترجمان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کی صورتحال پہلے ہی انتہائی سنگین ہے اور مزید فوجی قبضے کے منصوبے خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کو غزہ کے 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی افواج پہلے ہی تقریباً 60 فیصد غزہ پر مؤثر کنٹرول رکھتی ہیں اور اب مزید علاقوں پر قبضہ کیا جائے گا۔جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ برلن فلسطینی علاقوں کی مستقل تقسیم یا طویل فوجی قبضے کی حمایت نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں انسانی بحران پہلے ہی خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے اور صورتحال کے سیاسی حل کی ضرورت ہے۔اگرچہ جرمنی روایتی طور پر اسرائیل کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے تاہم گزشتہ سال برلن نے اسرائیل کو ایسے فوجی ساز و سامان کی برآمدات معطل کردی تھیں جو غزہ میں استعمال ہوسکتے تھے۔یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا تھا جب اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے غزہ سٹی پر مکمل قبضے کا منصوبہ منظور کیا تھا۔دوسری جانب فلسطینی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اسرائیلی منصوبوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ اور فوجی کارروائیوں نے لاکھوں شہریوں کو بے گھر کردیا ہے جبکہ بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوچکا ہے۔عالمی مبصرین کے مطابق جرمنی کا حالیہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ یورپی ممالک اب غزہ کی صورتحال پر پہلے سے زیادہ محتاط مؤقف اختیار کر رہے ہیں اور اسرائیلی پالیسیوں پر کھل کر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں