میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، جنگ بندی اور مستقبل غیر یقینی

ویب ڈیسک
منگل, ۱۴ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

محمد آصف

اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات خطے کی بدلتی ہوئی سیاست میں ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش
رفت کے طور پر سامنے آئے ، تاہم یہ طویل اور حساس بات چیت کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہو گئی۔ دو ہفتوں سے جاری نازک
جنگ بندی کے پس منظر میں ہونے والے ان مذاکرات سے عالمی برادری کو بڑی توقعات وابستہ تھیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ
حال، آبنائے ہرمز کی بندش اور جوہری پروگرام جیسے معاملات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 21 گھنٹوں پر محیط نشستوں کے بعد اسلام آباد سے واپس روانہ ہوئے اور مختصر پریس کانفرنس میں واضح
کیا کہ دونوں ممالک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے ۔ ان کے مطابق امریکا نے اپنی شرائط اور ریڈ لائنز پوری طرح واضح کر دی تھیں، مگر
ایران ان شرائط کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوا، خاص طور پر ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے حوالے سے سخت یقین دہانی امریکا کی بنیادی شرط تھی۔
وینس کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوری اور دیرپا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے ، اور اسی ہدف کے تحت
مذاکرات کیے گئے ، لیکن مطلوبہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ دوسری جانب ایرانی مؤقف اس سے مختلف تھا۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی
تسنیم اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مذاکرات میں کئی امور پر مفاہمت ہو چکی تھی، تاہم دو یا تین اہم معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا
نہ ہو سکا۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکا کے غیر معمولی اور حد سے زیادہ مطالبات مشترکہ فریم ورک اور معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بنے ۔
ایرانی مؤقف یہ بھی تھا کہ 40 دن کی مسلط کردہ جنگ اور باہمی بداعتمادی کے ماحول میں ایک ہی نشست میں مکمل معاہدے کی توقع رکھنا
غیر حقیقت پسندانہ تھا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مذاکرات کا
سلسلہ جاری رہنا چاہیے ۔ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے ، جو سوگ کی علامت کے طور پر
سیاہ لباس پہن کر اسلام آباد پہنچے تھے ۔ ان کے ہمراہ اُن طلبہ کے جوتے اور بستے بھی تھے جو ایک فوجی کمپاؤنڈ کے قریب بمباری میں جاں
بحق ہوئے ، جس سے مذاکرات کے ماحول میں جذباتی رنگ بھی نمایاں رہا۔
ان مذاکرات کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز کا معاملہ تھا، جو عالمی توانائی کی ترسیل کا نہایت اہم راستہ ہے ۔ جنگ کے آغاز کے بعد ایران
کی جانب سے اس گزرگاہ کی بندش نے تیل کی عالمی قیمتوں کو متاثر کیا اور دنیا بھر میں توانائی بحران کے خدشات کو بڑھا دیا۔ امریکا چاہتا تھا
کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جائے اور ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے واضح اور قابلِ تصدیق یقین دہانیاں فراہم کرے ،
جبکہ ایران اپنے جوہری حقوق اور خودمختاری پر اصرار کرتا رہا۔ یہی وہ نکات تھے جہاں دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف شدت اختیار کر
گیا۔ امریکی نائب صدر نے عندیہ دیا کہ امریکا ایک حتمی اور بہترین پیشکش چھوڑ کر جا رہا ہے اور اب فیصلہ ایران کو کرنا ہے ، تاہم انہوں نے
تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا۔ اس بیان سے یہ تاثر ابھرا کہ بات چیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک نئی سفارتی کشمکش کا آغاز ہو
چکا ہے ۔
پاکستان نے اس پورے عمل میں سہولت کار اور میزبان کے طور پر نمایاں کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل
عاصم منیر نے مذاکراتی عمل میں معاونت کی، جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسے مشکل مگر تعمیری مذاکرات قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی
کہ دونوں فریق جنگ بندی کے عزم پر قائم رہیں گے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے مثبت رویہ اختیار کریں گے ۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے
کہ اسلام آباد کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا اور ہزاروں سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے ، جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نے اس عمل کو
انتہائی سنجیدگی سے لیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ کوئی معاہدہ طے نہیں پایا، مگر امریکا اور ایران کو ایک میز پر بٹھانا ہی پاکستان کی ایک بڑی
سفارتی کامیابی ہے ، جس سے اس کی عالمی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے ۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے مذاکرات کی ناکامی پر مختلف آرا پیش کیں۔ بعض کے نزدیک امریکا داخلی سیاسی دباؤ کے باعث جلد از جلد
کوئی ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو اسے جنگی کیفیت سے نکلنے میں مدد دے ، جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی وقار پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار
نہیں۔ کچھ ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر بات چیت کا سلسلہ منقطع ہوا تو خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے ، توانائی بحران بڑھ سکتا
ہے اور عالمی منڈیوں میں افراطِ زر اور معاشی عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ تاہم کئی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات ایک عمل کا حصہ
ہیں، اور ایک ہی نشست میں کسی بڑے معاہدے کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں تھا، خاص طور پر جب دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں
پر محیط عدم اعتماد اور کشیدگی موجود ہو۔مجموعی طور پر اسلام آباد مذاکرات نے یہ واضح کر دیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلافات
ابھی باقی ہیں، خاص طور پر جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات پر۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں فریقوں نے براہِ
راست طویل نشستوں میں شرکت کی، اپنی ریڈ لائنز واضح کیں اور ایک دوسرے کے مؤقف کو سنا۔ یہ پیش رفت خود اس بات کی نشاندہی کرتی
ہے کہ سفارتی راستہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔اب دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا امریکا کی پیش کردہ تجویز پر ایران کیا ردِعمل
دیتا ہے اور کیا جنگ بندی برقرار رہ پاتی ہے یا خطہ ایک بار پھر کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھتا ہے ۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار
ایک ذمہ دار اور فعال سفارتی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے ، جو مستقبل میں بھی علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے ۔
حاصلِ بحث یہ ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے طویل اور حساس مذاکرات بنیادی طور پر امریکی اور ایرانی مؤقف کے درمیان عدم
لچک اور گہرے اختلافات کی نذر ہو گئے ۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ کے حد سے زیادہ مطالبات اور سخت شرائط نے کسی مشترکہ فریم
ورک کی تشکیل میں رکاوٹ ڈالی، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایران نے واشنگٹن کی واضح ریڈ لائنز، خصوصاً جوہری
ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی، قبول نہیں کی۔ 21 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی بات چیت، تکنیکی سطح کے تبادلئہ خیال اور پاکستانی ثالثی
کی بھرپور کوششوں کے باوجود دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے ۔ یوں یہ مذاکرات اگرچہ براہِ راست رابطے اور سفارتی عمل
کے تسلسل کے اعتبار سے اہم تھے ، لیکن عملی طور پر بنیادی اختلافات جوں کے توں برقرار رہے اور آئندہ پیش رفت کا انحصار اب دونوں
ممالک کی ممکنہ لچک اور سیاسی فیصلوں پر ہوگا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں