میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
صدر اردوان کی اسرائیل پر حملے سے متعلق خبر من گھڑت قرار

صدر اردوان کی اسرائیل پر حملے سے متعلق خبر من گھڑت قرار

جرات ڈیسک
پیر, ۱۳ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

اس نوعیت کے بیانات کو دانستہ طور پر گھڑ کر پھیلایا جا رہا ہے، سرکاری موقف

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی اسرائیل پر حملے سے متعلق خبر من گھڑت قرار دے دی گئی۔ سوشل میڈیا کے بعض پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والا یہ دعوی کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ اگر ایران یا لبنان پر کوئی حملہ ہوا تو اسے ترکیہ پر حملہ تصور کیا جائے گا سراسر بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

سرکاری موقف کے مطابق اس نوعیت کے بیانات کو دانستہ طور پر گھڑ کر پھیلایا جا رہا ہے تاکہ ناصرف عوام کو گمراہ کیا جائے بلکہ ترکیہ کے اصولی اور متوازن موقف کو بھی مسخ کیا جا سکے۔واضح کیا گیا کہ ترکیہ کی ریاست نے ہمیشہ اپنے قومی مفادات اور علاقائی استحکام کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ذمے دارانہ اور حقیقت پسندانہ پالیسی اپنائی ہے۔خطے میں جاری حالیہ کشیدگی اور تنازعات کے دوران بھی ترکیہ صدر اردوان کی قیادت میں اعتدال، دانشمندی اور سفارتی توازن کی علامت بنا رہا ہے، عالمی برادری نے بارہا ترکیہ کے اس کردار کو سراہا ہے جس کے تحت وہ کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مسلسل کوشاں ہے،

ترکیہ نے ناصرف تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی بلکہ ایک ذمے دار ریاست کے طور پر امن، استحکام اور باہمی احترام کے اصولوں کو بھی فروغ دیا۔ماہرین کے مطابق اس طرح کی جھوٹی خبروں اور من گھڑت بیانات کے پیچھے مخصوص عناصر کار فرما ہوتے ہیں، جن کا مقصد ترکیہ کے مثبت اور تعمیری کردار کو مشکوک بنانا، اسے غیر ضروری تنازعات میں الجھانا اور عالمی سطح پر اس کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنا ہے، یہ عناصر سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے منظم انداز میں غلط معلومات پھیلا کر رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو کہ جدید دور کی نفسیاتی جنگ اور اطلاعاتی پروپیگنڈے کی ایک شکل ہے۔

حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوام اس قسم کی غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات پر ہرگز توجہ نہ دیں اور صرف مستند و سرکاری ذرائع سے جاری کردہ بیانات پر ہی اعتماد کریں، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جھوٹی خبروں کے خلاف آگاہی پیدا کرنا اور ذمے دارانہ صحافت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی غلط معلومات، پروپیگنڈا مہمات اور منفی ذہن سازی کی کوششوں کے خلاف اپنی جدوجہد پوری سنجیدگی اور استقامت کے ساتھ جاری رکھے گا، ریاست اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ سچائی کو سامنے لایا جائے اور ایسے عناصر کو بے نقاب کیا جائے جو علاقائی امن اور عالمی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں