ریت کا محل
شیئر کریں
بے لگام / ستار چوہدری
ہرفرعون، اپنے عروج کے دنوں میں، مقدرکا سکندر۔اوراپنے انجام سے پہلے ،قسمت کا دھنی ہوتا ہے ، جیسے آسمان اس کی مٹھی میں ہو۔
اورزمین، اس کے قدموں کی زنجیر۔اس کے دربار میں، سورج بھی اجازت لے کر نکلتا ہے ۔ چاند، اس کی تعریف میں قصیدے پڑھتا ہے ۔
اور وقت۔ ہاں وقت بھی، اس کے اشاروں پر چلتا ہے ۔ سچ، دروازے پر کھڑا رہتا ہے ، ننگے پاؤں، لرزتے ہاتھوں کے ساتھ ۔ اوراندر،
جھوٹ کے قالین بچھے ہوتے ہیں۔ وہ جب مسکراتا ہے ، تو شہر آباد ۔ اور جب تیور بدلتا ہے ، تو بستیاں راکھ ۔ اس کے ایک اشارے پر ضمیر
فروخت ہو جاتے ہیں، لفظ بک جاتے ہیں، قلم جھک جاتے ہیں۔اورانسان، اپنی ہی آنکھوں میں چھوٹا ہو جاتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے ، یہ تخت
ہمیشہ کا ہے ، یہ تاج لازوال ہے ، یہ لشکر ناقابلِ شکست ہیں۔ اوردریا۔ دریا تو صرف اس کے حکم کے غلام ہیں۔ اس کے دربار میں، آئینے بھی
سچ نہیں دکھاتے ۔ ہرعکس، اس کی خواہش کے مطابق ڈھل جاتا ہے ۔ مشیر، سچ نہیں بولتے ، وہ الفاظ کو، چمکدار جھوٹ میں لپیٹ دیتے ہیں۔
ہر زبان، تعریف کی عادی ہو جاتی ہے ۔ ہر آنکھ ، حقیقت سے نظریں چرا لیتی ہے ۔ وہ سنتا ہے ، مگر صرف وہی، جو اسے اچھا لگے ۔ اور یوں،
آہستہ آہستہ، وہ اپنے ہی بنائے ہوئے فریب میں قید ہو جاتا ہے ۔ اسے لگتا ہے ، دنیا اسی کے گرد گھومتی ہے ۔ اور جو اس سے اختلاف
کرے، وہ دشمن ہے ، غدار ہے ۔
اس دور فرعونی میں، لوگ سانس تو لیتے ہیں، مگر جیتے نہیں، ان کی آنکھوں میں خوف کے سائے ہوتے ہیں، لبوں پر، خاموشی کے تالے ۔
وہ جیتے ہیں، مگر اپنے لیے نہیں، وہ بولتے ہیں، مگر سچ نہیں بولتے ۔ ہر گلی میں، ایک دبی ہوئی چیخ ہے ۔ ہر گھر میں، ایک ان کہی کہانی۔مائیں،
اپنے بچوں کو سکھاتی ہیں۔”بیٹا،سچ مت بولنا ”۔باپ، نگاہیں جھکا کر جیتے ہیں۔ اور نوجوان، خواب دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ پھر کہیں دور،
ایک سرگوشی جنم لیتی ہے ، کوئی ایک شخص، ڈر کے باوجود بولتا ہے ، کوئی ایک قلم، جھکنے سے انکار کرتا ہے ۔ اور یہی ایک چنگاری، آہستہ آہستہ،
آگ بن جاتی ہے ۔ لوگ، جو کل تک ڈرتے تھے ، آج سوال کرنے لگتے ہیں، جو جھکے ہوئے تھے ، آہستہ آہستہ سیدھے کھڑے ہونے لگتے
ہیں۔ یہ بغاوت، ہمیشہ تلوار سے نہیں ہوتی، کبھی ایک لفظ، سلطنتیں ہلا دیتا ہے ۔ کبھی ایک سچ، ہزاروں جھوٹوں پر بھاری پڑتا ہے اور فرعون۔
وہ حیران ہوتا ہے ، کہ یہ سب کب ہوا؟کیسے ہوا؟ مگریہ سب بہت پہلے شروع ہو چکا ہوتا ہے ۔
مگر اسے کون بتائے !! کہ خاموشی کے بھی اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ اور صبر بھی ایک دن چیخ بن جاتا ہے ۔ وقت۔ کبھی رک کر نہیں دیکھتا،
مگر سب کچھ دیکھتا رہتا ہے ۔ ہر ظلم، ہرغرور، ہر تکبر، چپ چاپ لکھتا رہتا ہے ۔ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ اور زمین، قدموں کے
نشان یاد رکھتی ہے ۔ ہرآہ، فضا میں کہیں گم نہیں ہوتی۔ ہر آنسو، اپنا حساب مانگتا ہے ۔ اور پھر، ایک لمحہ آتا ہے ، جب زمین، پاؤں کے نیچے
سے کھسک جاتی ہے ۔ جب آسمان، اپنی وسعت سمیٹ لیتا ہے ۔ اور وہی دریا، جنہیں وہ غلام سمجھتا تھا، اس کے خلاف گواہ بن جاتے ہیں۔
نہ لشکر کام آتا ہے ، نہ دربار، نہ نعرے ، نہ چاپلوس، نہ وہ تالیاں، جو کل تک اس کے نام پر بجتی تھیں۔ بس ایک سناٹا ہوتا ہے ، ایک چیخ، جو تاریخ
کے سینے میں دفن ہو جاتی ہے ۔پھر وہ لمحہ آتا ہے ، جس کا اسے کبھی یقین نہیں تھا۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی، وہ خالی ہو جاتا ہے ، سب کے
درمیان ہوتے ہوئے بھی، اکیلا رہ جاتا ہے ۔ نہ وہ دربار رہتا ہے ، نہ وہ رعب، نہ وہ خوف، جو کبھی اس کا ہتھیار تھا۔ وہ بھاگتا ہے ، مگر اپنے
انجام سے نہیں بچ پاتا۔ وہ پکارتا ہے ، مگر کوئی سنتا نہیں۔ وہ مانتا ہے ، مگر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ۔ اورپھر۔ ایک خاموش انجام، جو چیخ چیخ کر
، تاریخ کو سنائی دیتا ہے اور پھر، کہانی بدل جاتی ہے ، کل تک جو خدا بنا بیٹھا تھا، آج ایک مثال بن جاتا ہے ، کل تک جس کے نام سے لرزتے
تھے لوگ، آج بچے اس پر سوال کرتے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے ، ہر فرعون، اپنے انجام سے پہلے ” قسمت کا دھنی ہوتا ہے ”۔اس کے پاس
سب کچھ ہوتا ہے ۔ طاقت، دولت، وقت، اختیار۔ مگر ایک چیز نہیں ہوتی۔ انجام کا شعور۔ اور جب شعور آتا ہے ۔ تو بہت دیر ہو چکی ہوتی
ہے۔ پھر نہ توبہ سنائی دیتی ہے ، نہ فریاد، نہ کوئی دروازہ کھلتا ہے ، نہ کوئی ہاتھ بڑھتا ہے ۔ صرف تاریخ ہوتی ہے ، جو فیصلہ سنا دیتی ہے ۔ کہ غرور کا
ہرمحل، ریت پر بنتا ہے ، اور ہر فرعون، آخرکار، ایک عبرت کی داستان بن جاتا ہے ۔سچائی یہی ہے ۔ ہرفرعون،اپنے عروج کے دنوں میں،
مقدرکا سکندر۔ اور اپنے انجام سے پہلے ،قسمت کا دھنی ہوتا ہے ۔
٭٭٭


