برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی
شیئر کریں
ڈاکٹر سلیم خان
ایران کی صبح امریکہ کی شام ہوتی ہے ۔ قدرت نے ہندوستان کو ایران کے ساتھ کھڑا کیا مگر وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے ساتھ جاکر کھڑے ہوگئے لیکن یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ خود ٹرمپ نے اپنے بہترین دوست کو منجدھار میں چھوڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطے کے لیے شہباز شریف پر اعتماد کیا ۔ اسطرح ‘آپدا میں اوسر’ تلاش کرنے والے مودی جی سے مسلمان دشمنی نے برکس کے صدر کی حیثیت سے عالمی امن قائم کرنے کا موقع چھین لیا ۔ اسی ملال نے وزیر خارجہ جے شنکر کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان کو دلال کہیں مگر مودی کے روحانی بھائی نیتن یاہو نے بھی پاکستانی ثالثی کو قبول کرکے ہندوستان کی پیٹھ میں ایسا خنجر گھونپا کہ جس کا زخم آسانی سے نہیں بھرے گا بشرطیکہ اسے پھول نہ سمجھا جائے ۔ کل رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک دھمکی نے ساری دنیا کو تشویش میں مبتلا کردیا تھا کہ ”آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی، اور اس تہذیب کو دوبارہ کبھی واپس نہیں لایا جا سکے گا”۔ ایک جنونی شخص اگر کہتا ہے کہ” میں نہیں چاہتا ایسا ہو، لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ۔یہ دنیا کی پیچیدہ تاریخ کے سب سے اہم لمحات میں سے ایک ہو سکتا ہے ، خونریزی، بدعنوانی اور اموات کی 47 سالہ تاریخ بالآخرختم ہونے جارہی ہے ، ایران کے عظیم عوام پر خدا کی رحمت ہو!”۔
مذکورہ بالا ڈیڈلائن کو آج ہندوستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 5 بجے ختم ہونا تھا لیکن اس سے قبل شہباز شریف سفارتکاری رنگ
لائی ۔ ایران کے نئے رہبرِ معظم نے جنگ بندی کی منظوری دے کر دو ہفتے تک جنگ بندی کی تجویز کو قبول کر لیا۔ ایرانی وزیر خا رجہ عباس
عراقچی نے اس کی توثیق میں کہا کہ ایران پرحملے رک گئے تو وہ بھی روک دے گا نیز ایرانی فوج کی نگرانی میں آبنائے ہرمزسے دوہفتے تک
محفوظ آمد و رفت ممکن ہے ۔ ایرانی ذرائع ابلاغ ایرانی شرائط تسلیم کرکے دو ہفتے کی بندی کے اعلان کو امریکی صدر کی ذلت آمیز پسپائی قرار
دیا ۔ ایک امریکی اہلکار نے بھی اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی حملے دو ہفتے کے جنگ بندی معاہدے کے مطابق روک دیئے
گئے ہیں۔ مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق اسرائیل نے بھی بادلِ ناخواستہ عارضی جنگ بندی سے اتفاق کر لیا ہے ۔ ایران میں اسلامی شورائیت
ہے وہاں ٹرمپ کی مانند کوئی سر پھرا سربراہ اوٹ پٹانگ بیانات جاری کرکے ملک و قوم کی رسوائی کا سامان نہیں کرتا ۔ ایرانی مجلسِ شوریٰ نے
بھی دوہفتے کی جنگ بندی اورمذاکرات کو مجرمانہ جنگ میں دشمن کی ناقابل تردید، تاریخی اورعبرتناک شکست گردانا۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے مطابق ایران نے امریکہ کو 10 نکاتی منصوبہ قبول کرنے پر مجبورکردیاہے ۔ آگے چل کر جن تجاویز
پر گفت و شنید ہوگی ان میں امریکہ کی جانب سے عدم جارحیت کی ضمانت دینااور، آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو جاری رکھناشامل
ہے۔ اس بیان میں افزودگی کو قبول کرنے ، تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کوختم کرنے ، سلامتی کونسل اوربورڈ آف گورنرزکی تمام
قراردادوں کو مسترد کرنے ، ایران کو معاوضہ ادا کرنے ، خطے سے امریکی جنگی افواج کے انخلاء اور لبنان کے خلاف تمام اسلامی محاذوں پر
جنگ بندی کو روکنے کی تجویز کا بھی ذکر ہے ۔ مرکزی مجلسِ شوریٰ نے فتح کی تفصیلات سامنے آنے تک اتحاد ویکجہتی کوبرقراررکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایران کی عظیم اس کامیابی میں نصرتِ خداوندی سے ایرانی عوام کی جذبۂ شجاعت و شہادت نے سب سے اہم کردار ادا کیا۔وہ بمباری کے خوف سے بنکروں میں نہیں چھپے بلکہ اپنی قیادت کے مطالبے پربجلی گھروں کی حفا ظت کے لیے انسانی زنجیر بناکر میدان
میں آ گئے اور امریکہ کو جھکا دیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی چونکہ پاکستان کے توسط سے ممکن ہوئی اس لیے اب بات چیت کا آغاز جمعہ 10 اپریل سے
اسلام آباد میں ہوگا۔ مذاکرات کی مدت میں توسیع کے حوالے سے دونوں فریقین میں اتفاق رائے ہے ۔ حالیہ خطرناک ترین ڈیڈ سے قبل
بھی متعدد دھمکیاں دے کر صدرٹرمپ نے اس گیدڑ بھپکیوں کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ ۔ 21مارچ کو اپنی پہلی ڈیڈلائن میں صدر ٹرمپ نے کہا
تھا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبی گزرگاہ کو دوبارہ نہ کھولا تو وہ بجلی گھروں کو تباہ کر دیں گے ۔ اس کے 2 دن بعد، موصوف نے
دونوں ممالک کے ساتھ بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت کاحوالہ دے کر ایرانی توانائی انفراسٹرکچر کے خلاف حملے 5 دن کے لیے ملتوی فرما
دئیے لیکن ایران نے ایسی تمام اٹکلوں کا انکار کرکے اسرائیل پر اپنے حملے تیز کردئیے ۔ اس کے بعد پھر سے 27مارچ کو صدرٹرمپ نے
ایرانی انرجی پلانٹس پر حملے ، مزید 10 دن کے لیے ملتوی کرکے اپنی میعاد ازخود 6 اپریل تک بڑھا دی مگر پھر 3اپریل کو معاہدے کے
لیے 48گھنٹوں کی وارننگ دے دی۔ دو دن بعد 5 اپریل کو ٹرمپ نے اپنی دھمکی دہراتے ہوئے کہا کہ پاور پلانٹ اور برج کی بربادی
منگل کی شام 8:00 بجے (ا مریکی وقت کے مطابق) شروع ہوجائے گی لیکن وہ معاملہ بھی فیض کے اس شعر کی یاد دلاکر ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا
یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق نہ اُن کی رسم نئی ہے ، نہ اپنی ریت نئی
یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
اس ہارجیت کے کھیل میں مودی جی زیرو اور شہباز شریف ہیرو بن گئے کیونکہ پاکستانی وزیراعظم نے دورانِ جنگ امریکی صدر ڈونلڈ
ٹرمپ سے درخواست کی ہے کہ وہ ‘ایران کو دی گئی ڈیڈلائن میں دو ہفتے کی توسیع کردیں’۔صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں اس کوشش کا
اعتراف ہوئے لکھا کہ ”پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت و درخواست کے پیش نظرایران پر کیے جانے والے تباہ کن حملے کو روک دیا جائے ، اور اس شرط پر کہ اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری مکمل طور پر محفوظ طریقے سے کھولنے پر متفق ہو جائے ۔ وہ پاکستانی قیادت سے ہونے والی بات چیت کی بنیاد پر ایران پر بمباری اور حملے کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر متفق ہیں، یہ دو طرفہ جنگ بندی ہوگی”۔ایک ایسے وقت میں ہوئی جبکہ سعودی عرب کی جانب سے ردعمل کے امکانات پیدا ہوگئے تھے ۔ ایسے میں پاکستان امن کا مسیحا بن کر سامنے آیا۔ اس نے ایک طرف سعودی عرب پر ہونے والے حملے کی مذمت کی مگر ساتھ ہی خلوصِ نیت کے ساتھ ایرانی برادران سے درخواست بھی کردی کہ وہ جذبئہ خیرسگالی کے تحت دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہُرمز کو کھول دیں’۔
وزیراعظم شہباز شریف پر امید ہیں کہ مجوزہ سفارت کاری جنگ کے حتمی اور فیصلہ کُن خاتمے تک پہنچنے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کی
راہ ہموار کرے گی ۔ انہوں نے یہ پرمسرت اعلان کیا کہ ایران اور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ، لبنان اور دیگر تمام مقامات سمیت
ہر جگہ فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے ، جو فوری طور پر نافذ العمل ہے ۔شہبازشریف نے اس دانشمندانہ اقدام کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے
ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیانیز تمام تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک حتمی معاہدے پر مزید گفت و شنید کی
غرض سے وفود کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ۔ انہیں توقع ہے کہ ‘اسلام آباد مذاکرات’ پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے اوروہ
آنے والے دنوں میں وہ مزید اچھی خبریں شیئر کریں گے ۔اس طرح امریکہ اور ایران کے درمیان اس تنازع کے حل میں مودی جی کے
حریفِ اول شہباز شریف نے بازی مارلی برکس کے صاحب ِ صدر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہ گئے کیونکہ ان سے بھی نہیں کہا گیا کہ ٹرمپ کو
ایسی بدبختانہ دھمکی نہیں دینی چاہیے ۔
نریندرمودی کے برخلاف راہل گاندھی کے دانشمندانہ بیان نے نہ صرف ان کے زخموں پر نمک پاشی کی بلکہ قومی وقار کو بھی بحال کیا۔راہل
نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی تہذیب ختم کرنے کی دھمکی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے جدید دنیا میں
ناقابلِ قبول قرار دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں راہل گاندھی نے ٹرمپ کی زبان اور ممکنہ اقدام پر سخت تنقید کرتے
ہوئے کہا کہ کسی تہذیب کے خاتمے کی بات کرنا یا اس کی منصوبہ بندی کرنا قابلِ قبول نہیں ہے ۔انہوں نے لکھا کہ جنگیں المیہ ہونے کے
باوجود ایک حقیقت ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تاہم، ایسی کوئی بھی زبان یا اقدام جو تہذیب کے خاتمے کا تصور پیش کرے ، جدید دنیا میں ناقابلِ
تسلیم ہے ۔ جوہری ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہو سکتا۔سوال یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ملک کا
وزیر اعظم ایسا بیان کیوں نہیں دے سکا؟ اس کا جواب سنگھ پریوار کی بزدلانہ تربیت چھپا ہوا ہے ۔ سنگھی ذہنیت سے کسی جرأتمندانہ اقدام کی
توقع ہی ممکن نہیں ہے ۔ مودی جی اگرسنگھی سنسکار سے محفوظ ہوتے تو برکس کے صدر کی حیثیت سے قیام امن میں تاریخی کردار ادا کرسکتے
تھے ۔آر ایس ایس چاہتا ہے کہ ہندوستان وشو گرو بنے اور مودی جی بذاتِ خود عالمی قائد بننا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے درکار عزم و حوصلہ کا
فقدان اور قلب و ذہن میں رچی بسی اسلام دشمنی ان کے پیروں کی زنجیر بنی ہوئی ہے اور انہیں خاموش تماشائی بنادیا ہے ۔
٭٭٭


