کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
کشمیر میں حکام نے مساجد، مدارس اور ان کے انتظام سے وابستہ افراد کی پروفائلنگ کا تفصیلی عمل شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نگرانی کو مضبوط بنانا، ریکارڈ کو بہتر بنانا اور مذہبی اداروں کے کسی بھی غیرقانونی استعمال کو روکنا ہے۔اس سلسلے میں دیہات کے نمبر داروں (ریونیو محکمے کے گاؤں کی سطح کے ملازمین) کو ایک مخصوص فارم دیا گیا ہے، جس کے ذریعے کشمیر کے مختلف علاقوں میں موجود مساجد اور مدارس سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔ اس عمل کے تحت مساجد اور مدارس، امام صاحبان، مدرسوں کے اساتذہ اور انتظامی کمیٹی کے اراکین کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔اس پروفائلنگ مہم کا ایک اہم پہلو مساجد اور مدارس کے مالی معاملات ہیں۔ حکام زمینوں اور عمارتوں کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع، عطیات اور چندہ، اور روزمرہ اخراجات سے متعلق معلومات طلب کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد ان مذہبی اداروں کے مالی نظام میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنانا ہے۔اسی کے ساتھ، اماموں، اساتذہ اور انتظامی کمیٹی کے اراکین سے کئی ذاتی اور شناختی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔ ان میں آدھار کارڈ اور بینک اکاؤنٹ کی معلومات، جائیداد کی تفصیل، پاسپورٹ، راشن کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، سم کارڈز اور موبائل فون کے آئی ایم ای آئی نمبر، نیز سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معلومات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام معلومات ایک مرکزی ڈیٹا بیس تیار کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ فارم میں اس بات کی معلومات بھی طلب کی گئی ہیں کہ مسجد یا مدرسہ کس مسلک سے وابستہ ہے، جیسے بریلوی، دیوبندی، حنفی یا اہل حدیث۔حکام نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ کشمیر میں صدیوں سے رائج صوفی روایات سے مختلف سخت گیر نظریات کو نوجوانوں کی انتہاپسندی کی ایک وجہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں متعلقہ افراد سے ماضی میں کسی بھی دہشت گرد یا تخریبی سرگرمی میں ملوث ہونے، زیر التوا مقدمات یا عدالت سے سزا سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔ حکام کا واضح کہنا ہے کہ مساجد اور مدارس کی یہ پروفائلنگ کسی مذہبی ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ یہ ادارے قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں اور کسی بھی غلط استعمال کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ یہ عمل آئندہ ہفتوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے، تاکہ وادی بھر میں ایک مستند اور جامع ریکارڈ تیار کیا جا سکے۔
مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک تحریک آزادی کشمیر جاری رہے گی۔آزادجموں وکشمیر میں بین المذاہب ہم آہنگی اوررواداری قابل ستائش ہے۔ جس انداز سے پاکستان دنیامیں کامیابیاں حاصل کررہا ہے تحریک آزادی کشمیربھی انشا اللہ کامیاب ہوگی۔ پاکستان کی تمام اقلیتیں تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ کھڑی ہیں اور شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان اندرونی و بیرونی سطح پر امن کا داعی ہے اور اس کی سفارتکاری کے باعث جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ اگر جنگ جاری رہتی تو عالمی سطح پر سنگین معاشی اور انسانی بحران پیدا ہو سکتا تھا۔ پاکستان کے موقف کو دنیا بھر میں تقویت مل رہی ہے اس سے کشمیریوں کی آزادی کی منزل بھی قریب ہورہی ہے۔ پاکستان عالم اسلام کا اہم ستون ہے اور اس نے ہمیشہ امن، اتحاد اور استحکام کا پیغام دیا ہے۔ دشمن قوتیں پاکستان کو نظریاتی انتشار کا شکار کرنا چاہتی ہیں مگر قوم متحد ہو کر ان سازشوں کو ناکام بنائے گی۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے لوگوں کے غیر ملکی دوروں کی تفصیلات سمیت ذاتی کوائف جمع کرنے کے لیے ایک متنازعہ مردم شماری شروع کی ہے۔ اس اقدام کی قانونی اورآئینی حیثیت اورممکنہ غلط استعمال کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ اس لیے ماہرین کی رائے ہے کہ مردم شماری میں پولیس کی شمولیت قابل اعتراض ہے کیونکہ یہ موجودہ قانونی فریم ورک سے متصادم ہے۔بھارتی پولیس نے وادی کشمیر کے تمام گھروں میں ایک فارم تقسیم کیا ہے جس میں مکینوں اور بیرون ممالک آباد خاندان کے افراد کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ فارم میں گھر کے ہر فرد کو اپنی اپنی تصاویر لگانا ہوگی اور ان سے انکے نام، جنس، عمر، پیشہ، گھر کے مالک سے تعلق، عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط، ملکیتی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر ، گھر کے کسی فرد کے کسی غیر ملکی دورے کی تفصیلات وغیرہ طلب کی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ بھارتی پولیس پہلے بھی کئی مرتبہ کشمیریوں سے اس طرح کی معلومات حاصل کر چکی ہے۔اس حوالے سے گزشتہ کئی روز سے فارم تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ ضلع بارہمولہ کے قصبے سوپور کے ایک رہائشی نے بتایا کہ رواں ہفتے کے شروع میں پولیس کے کچھ اہلکار آئے اور فارم تقسیم کیے۔ انہوں نے ہم سے فارم کا ہر خانہ بھرنے اوراسے فوری واپس جمع کرانے کی ہدایت کی۔بھارتی فورسز نے سرکاری ملازمین سمیت رہائشیوں کی نگرانی بڑھانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں اس طرح کی متعدد کارروائیاںشروع کر دی ہیں۔ ایک سرکاری ملازم نے کہا کہ انہیں غیر ممالک کا دورہ کرنے کے لیے سی آئی ڈی کلیئرنس حاصل کرنا پڑتی ہے، جس میں حج کا سفر بھی شامل ہے۔ کلیئرنس حاصل کرنے میں ہفتوں، کبھی کبھی مہینے لگتے ہیں۔اگرچہ مردم شماری کے ترمیم شدہ قوانین محققین کو مائیکرو ڈیٹا تک رسائی کی اجازت دیتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ اسے صیغہ راز میں رکھا جائے اور حساس اور ذاتی معلومات کے استعمال پر پابندی ہو۔ لہذا قانونی ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر پولیس کی حالیہ کارروائیاں ان قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہیں۔
٭٭٭



منتظم
بدھ, ۲۷ دسمبر ۲۰۱۷