میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکی فوج کے اعلیٰ افسران کو جنگ پر شدید تحفظات تھے،امریکی ریٹائرڈ جنرل

امریکی فوج کے اعلیٰ افسران کو جنگ پر شدید تحفظات تھے،امریکی ریٹائرڈ جنرل

ویب ڈیسک
جمعرات, ۹ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

امریکی فوجی حکام ٹرمپ کے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار پر غور کررہے تھے،مارک ہرٹلنگ کا انکشاف

امریکا کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مارک ہرٹلنگ نے انکشاف کیا ہے کہ اعلیٰ امریکی فوجی افسران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مبینہ طور پر "غیر اخلاقی اور غیر قانونی” احکامات پر عمل سے انکار پر غور کر رہے ہیں، خصوصاً ایران کی سویلین تنصیبات کو نشانہ بنانے کے حکم پر شدید تحفظات تھے۔ میڈیا سے گفتگو میں ہرٹلنگ کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی افسران کی پہلی وفاداری آئین سے ہوتی ہے، جبکہ وہ اپنے اعلیٰ افسران کے احکامات اسی صورت میں مانتے ہیں جب وہ قانونی ہوں۔ ان کے مطابق اگر شہری انفراسٹرکچر جیسے پاور پلانٹس اور پلوں پر حملے کیے جاتے ہیں تو یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے، جس پر فوج کے اندر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی سینئر کمانڈرز اس وقت مشکل صورتحال میں ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ وہ ایسے احکامات پر عمل نہیں کر سکتے جو واضح طور پر غیر قانونی ہوں۔ ہرٹلنگ کے مطابق فوجی قیادت ایک طرف آئینی ذمہ داریوں اور دوسری طرف اپنے ماتحت اہلکاروں کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات امریکی فوج کے اندر پائی جانے والی ممکنہ اندرونی کشمکش کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم کسی باضابطہ بغاوت یا اجتماعی انکار کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں