ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
شیئر کریں
چوپال /عظمیٰ نقوی
شہر چیخ رہے ہیں، مگر سننے والا کوئی نہیں، دیواریں خاموش ہیں، گلیاں آباد ہو کر بھی ویران ہیں، اور انسان ہجوم میں کھڑے ہو کر بھی تنہائی کے قیدی ۔ یہ کیسادور ہے جس میں سچ کی صدا دب رہی ہے، اور جھوٹ کی گونج بازاروں میں بکتی ہے۔احساس کی قیمت نہیں اور مفاد کا سکہ چلتا ہے۔جہاں ہر شخص کا سچ آمریت کے خول میں قید ہے۔ ہر چہرہ ایک نقاب اوڑھے ہوئے ہے، ہر دل اپنے ہی بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔
اقبال اور قائد کے پاکستان میںیہ چیخیں محض آوازیں نہیں، یہ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں ہیں، یہ ادھوری خواہشوں کی راکھ ہیں، یہ اُن دلوں کا نوحہ ہیں جو جیتے جی مر چکے ہیں۔
ایک ماں کے ضبط میں چھپی ہوئیں ، جو اپنے بچوں کی خاطر ہر درد سہہ رہی ہے۔ ایک باپ کی خاموشی میں دفن ہوتی ، جو اپنی بے بسی کو مسکراہٹ کے پیچھے چھپارہا ہے۔ اورتعلیم یافتہ ایک نوجوان کے بجھتے ہوئے حوصلوں میں سسکتی ہوئی ، جو خواب تو دیکھتا ہے مگر تعبیر سے محروم رہ جاتا ہے۔یہ وہ چیخیں ہیں جو زبان پر نہیں آتیں مگر دلوں کو زخمی کر دیتی ہیں، روح کو چیر دیتی ہیں۔جب بھوک دروازہ کھٹکھٹائے اور غیرت جواب دینے سے قاصر ہو جائے، جب تعلیم خواب بن جائے اور روزگار ایک حسرت، جب انصاف صرف کتابوں میں رہ جائے اور ظلم گلیوں میں دندنائے، تو سمجھ لو کہ چیخیں اپنے عروج پر ہیں۔
مگر المیہ یہ ہے کہ سننے والے زندہ ہو کر بھی مردہ ہو چکے ہیں، آنکھیں کھلی ہیں مگر نظر سو چکی ہے، کان موجود ہیں مگر سماعت مفقود ہو چکی ہے۔ وطن عزیز کے باسیوں نے اپنے اپنے دلوں پر مفاد کے تالے لگا رکھے ہیں، اپنے ضمیر کو خاموشی کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے، اورہر فرد یہ بھول چکا ہے کہ قائد اعظم کا پاکستان کس بھنور میں ہے کہ کبھی دوسروں کا درد محسوس کرنا ہی انسانیت کی پہلی شرط ہوا کرتی تھی، آج کسی فردِ وطن کی آہ ہمیں نہیں رلاتی، کسی کی فریاد ہمیں نہیں جھنجھوڑتی،چادر چاردیواری کا تقدس پامال ہورہا ہے ،لاقانونیت دندناتی پھر رہی ہے ، ہتھکڑیوں میں جکڑے بے گناہ مڑ مڑ کر ہمیں حسرت سے دیکھتے ہیں کہ شاید کوئی اس ناانصافی پر آواز اٹھائے ،ہم صرف گزرتے ہیں، جیسے یہ سب ہمارا مسئلہ ہی نہ ہو، ہم نے خود کو اس قدر مصروف کر لیا ہے کہ ہمیں اپنے اردگرد بکھرتی ہوئی انسانیت دکھائی ہی نہیں دیتی۔یہی بے حسی اصل زوال ہے، یہی وہ زہر ہے جو قوموں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔جب معاشرہ درد کو نظر انداز کرنے لگے، تو وہاں ظلم پروان
چڑھتا ہے، ناانصافی جڑ پکڑتی ہے، اور حق ہمیشہ کے لیے دب جاتا ہے، ایسے معاشرے میں انصاف ایک خواب بن جاتا ہے اور سچ ایک جرم، تاریخ گواہ ہے کہ جب انسان احساس کھو دے تو وہ اپنی پہچان بھی کھو دیتا ہے، اور جب قومیں اپنی پہچان کھو دیں تو ان کا وجود محض ایک سایہ رہ جاتا ہے۔ مگر ان چیخوں میں ایک سبق بھی پوشیدہ ہے، ایک پیغام بھی ہے، ایک تنبیہ بھی ہے، یہ ہمیں جھنجھوڑتی ہیں، ہمیں آئینہ دکھاتی ہیں، اور ہمیں یہ باور کرواتی ہیں کہ اگر آج ہم نے کسی کے آنسو نہ پونچھے، تو کل ہمارے آنسو پونچھنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ اگر آج ہم نے ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھائی، تو کل ہمارا اپنا حق بھی کوئی چھین لے گا اور ہم صرف تماشائی بن کر رہ جائیں گے۔یہ چیخیں ہمیں جگانے آئی ہیں، ہمیں یہ احساس دلانے کے لیے کہ ظلم کے خلاف اُٹھنا ہوگا ، دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنا ہوگا، جو قومیں ظلم پر خاموش رہتی ہیں ، ان کا حشر حضرت صالح علیہ السلام کی قوم جیسا ہوتا ، ہمیشہ ظلم کے خلاف مزاحمت زندہ رہتی ہے، تاریخ میں سرخرو ہوتی ہے، اور جوقومیں ظلم پر صرف تماشائی بن کر رہ جاتی ہیں، وہ تاریخ کے اندھیروں میں کھو جاتی ہیں، ان کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔ آج حسینیت کی ضرورت ہے جس نے ظلم کے خلاف مزاحمت کو جنم دیا۔حضرت علی کا فرمان ہے معاشرے ظلم کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں ناانصافی کے ساتھ نہیں آج ہر فرد کی اپنے ضمیر کو آواز دینے کی ضرورت ہے،اپنے اردگرد ہونے والے ظلم پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے ،ہر شخص کاایک چھوٹا سا عمل، ایک چھوٹا سا احساس، در احساس پہ دستک دے سکتا ہے، حق کے لیے کھڑا ہو جانا، یہی وہ عمل ہے جو معاشروں کو زندہ رکھتاہے، یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں کو چیر دیتی ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ خاموشی ہمیشہ حل نہیں ہوتی۔ اکثراوقات خاموشی خود ایک جرم بن جاتی ہے۔جب ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کو مزید طاقت دیتی ہے، اسے مزید بے لگام کر دیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی آواز کو پہچانیں، اسے استعمال کریں، اور حق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ یاد رکھو، چیخیں ہمیشہ نہیں رہتیں، یا تو وہ سنی جاتی ہیں، یا پھر وہ طوفان بن کر سب کچھ بہا لے جاتی ہیں۔ اگر ہم نے آج ان چیخوں کو نظر انداز کیا، تو کل یہی چیخیں ہمارے دروازوں پر دستک دیں گی۔ اور اس وقت شاید سننے والا کوئی نہ ہوگا، پھر نہ وقت ہوگا، نہ موقع، نہ پچھتاوے کا کوئی فائدہ۔یہ وقت ہے جاگنے کا، یہ وقت ہے سننے کا، یہ وقت ہے بولنے کا، کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل ہماری اپنی چیخ بھی اسی خاموشی میں گم ہو جائے گی جہاں صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے اور کچھ نہیں۔ چیخیں دراصل انسانیت کی آخری پکار ہوتی ہیں، اور جو قومیں اپنی اس پکار کو نظر انداز کر دیتی ہیں، وہ اپنے انجام کو خود دعوت دیتی ہیں۔ابھی بھی وقت ہے، ابھی بھی موقع ہے اپنے دلوں کو زندہ کرنے کا، اپنے ضمیر کو جگانے کا، اور ان چیخوں کو سننے کا، اس سے پہلے کہ سب کچھ خاموش ہو جائے، ہمیشہ کے لیے۔
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحب ِ اولاد ہونا چاہئے


