ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کر کے اپریل فول منایا !
شیئر کریں
جاوید محمود
۔۔۔۔۔
امریکہ سے
ڈونلڈ ٹرمپ کی اپریل فرسٹ کی ہونے والی تقریر کا قوم بے چینی سے انتظار کر رہی تھی، امریکن قوم کا خیال تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ کے خاتمے کا اعلان کریں گے لیکن انہوں نے ایران کو پتھر کے دور میں دھکیل دینے کی دھمکی دے کر پوری قوم کے ساتھ اپریل فول منایا ہے کیونکہ ان کے اس اعلان کے بعد تیل کے عالمی مارکیٹیں اور بازار نے فوری اور منفی رد عمل دیا اور عالمی سطح پر نہ صرف تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوا بلکہ امریکہ سمیت ایشیائی مارکیٹیں بھی مندی کا شکار ہوئیں ۔ کمپنی میسک کے سابق ڈائریکٹر اور جہازرانی کے امور کے ماہر لارس جینسن کہتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات 1970کی دہائی میں جنم لینے والی اقتصادی افرا تفری کے مقابلے میں زیادہ ہوں گے، تقریبا ایک ماہ قبل ایران کے خلاف شروع کی جانے والی امریکی اور اسرائیلی جنگ میں اس وقت صرف ایک ہی بات یقین سے کہی جا سکتی ہے اور وہ ہے اس کی غیر یقینی کیفیت شاید یہ بات بھی اب حیران کن نہیں رہی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے جانے والے بیانات اس بحران کو مزید گہرا کرتے ہوئے عالمی منڈیوں کو مسلسل جھٹکے دے رہے ہیں لیکن اس جنگ کی سمت طے کرنے میں صرف ٹرمپ کے بیانات ہی نہیں بلکہ تاریخ کا بھی ایک کردار نظر آرہا ہے۔ اس تنازع کے آغاز کے بعد سے ما ہرین ماضی پر نظر دوڑا رہے ہیں تاکہ حالیہ کشیدگی کو بہتر انداز میں سمجھنے کی کوشش کر سکیں اور یہ جان سکیں کہ آگے کیا ہو سکتا ہے ،اس کوشش میں کم از کم تین تاریخی واقعات اہم لگتے ہیں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملوں کے بعد ایران جنگ میں ایک نیا محاذ کھول دیا گیا ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروہ کی اس جنگ میں باقاعدہ شمولیت کے بعد عالمی معیشت کے مزید متاثر ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے ،کیونکہ حوثی باغی بحر احمرمیں خصوصا ًنہرسوئزمیں شپنگ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ گروہ اس اہم سمندری راستے کو مکمل طور پر بند کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا لیکن یہ سوئزتک رسائی کو محدود کر دینے کی صلاحیت ضرور رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ سوئزکینال سے 30 فیصد عالمی کنٹینرز ٹریفک اور تیل اور گیس کی عالمی رسد کا تقریبا 15فیصد گزرتا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ اگر سوئزتک رسائی بھی متاثر ہوتی ہے تو عالمی معیشت پر بہت بڑا اثر ہوگا۔ اس تمام پیش رفت کے بیچ 70 سال قبل سوئز بحران کی جانب توجہ مبدول کروائی جا رہی ہے جب مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے 1956میں سوئز قومیا تے ہوئے دنیا میں تیل کی رسد کے اس اہم راستے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور اس کے جواب میں فرانس، برطانیہ اور اسرائیل نے اس کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت برطانیہ کی ایک عالمی طاقت کی حیثیت ختم ہو گئی تھی جو پہلی عالمی جنگ کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا حاصل تھا لیکن یہ واقعہ اس طاقت کے اقدام کا آغاز تھا۔ تہران اور حوثی باغیوں کی جانب سے تیل وہ گیس کی عالمی رسد کے راستوں تک رسائی کو ختم یا محدود کرنے کی جو حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ یہ 70سال قبل مصر کی جانب سے اٹھائے گئے اقدام جیسی ہے۔ امریکی مورخ انفریڈ مکولے کہتے ہیں کہ برطانوی اور فرانسیسی فوجیں جب تک سوئز کے شمالی کنارے تک پہنچی تو مصری فوج درجنوں بحری جہاز ڈبو چکی تھی، نہر بند کر چکی تھی اور یورپ تک تیل کی رسائی ختم ہو چکی تھی۔ اس وقت کے امریکی صدر آئزن ہاور کو خدشہ تھا کہ کہیں سرد جنگ کے بیچ سوویت یونین کے ساتھ نیا محاذ نہ کھل جائے چنانچہ انہوں نے برطانیہ اور فرانس کو نہر سوئز کے معاملے پر پسپا ہونے پر مجبور کیا ۔الفریڈ کے مطابق اس وقت تک برطانیہ پر اقوام متحدہ میں پابندیاں لگ چکی تھیں اور اس کی کرنسی کمزور ہو چکی تھی جبکہ برطانیہ کا ایک عالمی طاقت کا تاثر بھی ختم ہو چکا تھا۔ اس وقت کا موازنہ آج درپیش حالات کے ساتھ مکمل طور پر نہیں ہو سکتا کہ آج کے امریکہ کی طاقت کا موازنہ اس وقت کے برطانوی طاقت کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر طاقت اونچ نیچ کا شکار ہوتی ہے اور چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے اگر مستقبل میں لوگوں نے امریکی زوال کے بارے میں لکھا تو شاید یہ جنگ ایک موقع کے طور پر دیکھی جائے گی، جس میں نتائج کے بارے میں زیادہ سوچے سمجھے بغیر امریکہ داخل ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں اہم معاشی شہ رگ آبنائے ہرمز کی بندش کے ذریعے عالمی معیشت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچنے کا حربہ استعمال ہونے کا اندیشہ موجود تھا۔ اس کی ایک مثال 1973 میں سامنے آئی تھی جب اسرائیل کی شام اور مصر کے خلاف جنگ کے دوران امریکی مدد کے بعد عرب دنیا نے جوابی رد عمل میں تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اس کی قیمت میں اضافے سے مغربی یورپ کو بہت نقصان پہنچایا ،اس وقت کے سعودی وزیر تیل شیخ احمد زکی نے واضح طور پر کہا تھا کہ تیل کو کس طرح اثر رسوخ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، انہوں نے عرب دنیا کی تیل پر اجارہ داری کو ایک ہتھیار قرار دیا تھا جو عالمی معیشت کو تیزی سے گرا سکتا ہے ۔پانچ ماہ تک جاری رہنے والی اس حکمت عملی کے اثرات ماہرین کے مطابق ایک دہائی تک محسوس کیے جاتے رہے ،مثال کے طور پر امریکہ کو مہنگائی نے متاثر کیا اور افراطِ زر میں اضافہ ہوا اگرچہ تیل آج تک کی دنیا میں کھپت میں کمی سمیت دیگر وسائل کی وجہ سے اتنا زیادہ اہم نہیں رہا، لیکن اب بھی یہ توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ امریکہ آج اپنی ضرورت سے زیادہ توانائی پیدا کرتا ہے لیکن اب بھی خام تیل بڑی مقدار میں درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے امریکی صارفین کو بھی فرق پڑے گا۔ اس کے علاوہ اگر امریکی تجارتی شراکت دار ایشیا میں متاثر ہوں گے تو اس کا اثر بھی امریکی منڈی میں محسوس کیا جائے گا۔ اب یہ ہو رہا ہے کہ سعودی اور امارتی یہ تو نہیں کہہ رہے کہ وہ یورپ کو اپنا تیل نہیں بیچیں گے لیکن ایران اورحوثی باغی تیل کی رسد کو مشکل بنا رہے ہیں اور اس کی وجہ سے بہت مسائل ہوں گے۔ 1980کی دہائی میں ایران عراق جنگ صدر ٹرمپ کو سب سے اہم مثال پیش کرتی ہے کہ واشنگٹن کے مخالفین کیسے اہم معاشی راستوں کو بند کر سکتے ہیں۔ اس جنگ کے اختتامی مراحل میں آبنائے ہرمزسے گزرنے والے بحری مال بردار جہازوں کو ایران اور عراق دونوں نے ہی نشانہ بنایا تھا جس کا مقصد ماہرین کے مطابق عالمی طاقتوں کوتنازع میں شامل ہونے پر مجبور کرنا تھا، ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کویت نے اس راستے سے اپنے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے بین الاقوامی مدد مانگی، امریکہ نے اس لیے ہامی بھر لی کیوں کہ اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ موقع سوویت یونین نہ لے اڑے، آپریشن ارن ٹیسٹ ول کے تحت جولائی 1987میں آئل ٹینکرز کے ساتھ امریکی جہاز حفاظت کے عوض سے چلنے لگے لیکن اس وقت امریکہ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، جب برجتن نامی امریکی جہاز کو ایرانی بارودی سرنگ نے نشانہ بنایا۔ ماہرین کے مطابق اس واقعے سے علم ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمزمیں بارودی سرنگوں کے خلاف امریکی اہلیت کتنی ناکافی تھی، اب آج کے تنازع میں بھی صدر ٹرمپ دوسرے ملکوں سے آبنائے ہرمزکو کھلوانے میں مدد مانگتے دکھائی دیے، لیکن آج واشنگٹن کے لیے مسئلہ زیادہ بڑا ہے کیونکہ جنگی صلاحیت میں ڈرون شامل ہو چکے ہیں اور ایران اس وقت عراق کے ساتھ جنگ میں مصروف بھی نہیں ہے۔ تاریخ مشرق وسطیٰ کے تنازع میں شریک قوتوں کو بہت سے سبق فراہم کرتی ہے لیکن یہ قوتیں اس تاریخ کو کیسے دیکھتی ہیں اس سے یہ طے ہوگا کہ تنازع کا رخ اور طوالت کیا ہوگی لیکن یہ حقیقت ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سنگین حالات میں قوم سے خطاب کر کے اپریل فول منایا ہے۔
٭٭٭


