خوشی کی حقیقی شناخت :باطن کی خوشبو اور کردار کی مٹھاس
شیئر کریں
محمد آصف
انسان کی اصل پہچان اس کے ظاہری لباس، دولت یا مقام سے نہیں بلکہ اس کے باطن، اخلاق اور رویّے سے ہوتی ہے ۔ آج کے اس تیز
رفتار اور مادہ پرست دور میں ہم اکثر اپنی پہچان کو ظاہری چیزوں سے جوڑ دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی اصل شناخت اس
کے دل کی کیفیت اور اس کے کردار کی مٹھاس میں پوشیدہ ہوتی ہے ۔ جس طرح ایک خوشبودار پھول اپنی خوشبو سے پہچانا جاتا ہے ، اسی طرح
ایک اچھا انسان اپنے اخلاق، محبت اور خلوص سے جانا جاتا ہے ۔ یہی باطن کی وہ مُشک ہے جو نظر تو نہیں آتی مگر ہر دل کو اپنی طرف کھینچ لیتی
ہے ۔اس حقیقت کو ایک سادہ سی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے ۔ اگر ایک گلاس دودھ سے بھرا ہوا ہو تو آپ اس میں مزید دودھ شامل نہیں کر سکتے، لیکن اگر آپ اس میں شکر ڈالیں تو وہ خاموشی سے اپنی جگہ بنا لیتی ہے اور پورے دودھ کو میٹھا کر دیتی ہے ۔ شکر اپنی موجودگی کا شور نہیں
مچاتی، نہ ہی وہ جگہ کے لیے دھکم پیل کرتی ہے ، بلکہ خاموشی سے اپنا اثر دکھاتی ہے ۔ بالکل اسی طرح اچھے اور خالص دل والے لوگ بھی کسی
کے دل میں جگہ بنانے کے لیے شور نہیں کرتے ۔ وہ اپنے اخلاق، محبت اور مٹھاس کے ذریعے دلوں میں اتر جاتے ہیں اور اپنی موجودگی کا
احساس اس انداز میں دلاتے ہیں کہ لوگ انہیں کبھی بھلا نہیں پاتے ۔ ایسے لوگ اپنی باتوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے پہچانے جاتے
ہیں۔ وہ دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں، مشکل وقت میں سہارا بنتے ہیں، اور خوشی کے لمحات میں دوسروں کے ساتھ خوشیاں
بانٹتے ہیں۔ ان کے چہرے پر مسکراہٹ، باتوں میں نرمی، اور دل میں خلوص ہوتا ہے ۔ یہی وہ خوبیاں ہیں جو کسی بھی انسان کو دوسروں کے
دلوں میں زندہ رکھتی ہیں۔ وہ اپنی موجودگی سے زندگی کے ذائقے کو بہتر بنا دیتے ہیں، بالکل ایسے جیسے شکر دودھ کو میٹھا کر دیتی ہے ۔ ان کی
یادیں لوگوں کے دلوں میں خوشبو کی طرح بسی رہتی ہیں، جو وقت کے ساتھ ماند نہیں پڑتیں بلکہ مزید گہری ہوتی جاتی ہیں۔
انسانی زندگی میں خوشی کا بھی ایک اہم مقام ہے ۔ مگر یہ خوشی صرف ظاہری ہنسی یا وقتی مسرت کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک اندرونی کیفیت ہے
جو انسان کے باطن سے جنم لیتی ہے ۔ اگر دل مطمئن ہو، نیت صاف ہو، اور سوچ مثبت ہو تو خوشی خود بخود چہرے پر جھلکنے لگتی ہے ۔ اسی لیے کہا
جا سکتا ہے کہ خوشی دراصل باطن کی مُشک اور بہار کی علامت ہے ۔ یہ روح کی وہ مسکراہٹ ہے جو انسان کو اندر سے زندہ رکھتی ہے اور
دوسروں تک بھی اپنی روشنی پہنچاتی ہے ۔ اگر ہم انسانیت کی اصل خوراک کی بات کریں تو وہ نہ صرف روٹی اور پانی ہے بلکہ اس سے کہیں
زیادہ اہم وہ جذبات اور رویّے ہیں جو دلوں کو زندہ رکھتے ہیں۔ دو چمچ ہنسی، ایک چٹکی مسکراہٹ، محبت کا ایک قطرہ اور خلوص کی ہلکی سی خوشبو
یہی وہ عناصر ہیں جو انسانی رشتوں کو مضبوط بناتے ہیں اور زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں۔ جب ہم کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہیں،
کسی کے دکھ کو کم کرتے ہیں، یا کسی کے دل کو خوش کرتے ہیں، تو دراصل ہم انسانیت کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے آج کے دور میں ہم ان سادہ مگر قیمتی چیزوں کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنی مصروفیات، مقابلہ بازی، اور خود غرضی میں اس
قدر کھو چکے ہیں کہ دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنا بھول گئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں اہمیت دیں، مگر ہم خود دوسروں کو وہ اہمیت
نہیں دیتے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں محبت ملے ، مگر ہم خود محبت دینے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ یہی رویّہ ہماری زندگیوں کو بے رنگ اور
بے ذائقہ بنا دیتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سوچ اور رویّے کو بدلیں۔ ہمیں اپنی پہچان کو ظاہری چیزوں کے بجائے اپنے
کردار سے جوڑنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اصل کامیابی دوسروں کے دل جیتنے میں ہے ، نہ کہ صرف دنیاوی کامیابیوں کے حصول میں۔
جب ہم اپنے اندر محبت، خلوص اور نرمی پیدا کریں گے تو یہ خوبیاں خود بخود ہمارے اردگرد کے ماحول کو بھی متاثر کریں گی۔ لوگ ہمارے
قریب آنا چاہیں گے ، ہم سے بات کرنا پسند کریں گے ، اور ہماری موجودگی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیں گے ۔
اسلامی تعلیمات بھی ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ انسان کی اصل قدر اس کے تقویٰ، اخلاق اور نیکی میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی
شخص سب سے زیادہ پسندیدہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو، جو سچ بولے ، جو دوسروں کی عزت کرے ، اور جو اپنے عمل سے
معاشرے میں خیر پھیلائے ۔ حضور اکرم ۖ کی سیرت ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ، جنہوں نے ہمیشہ نرمی، محبت اور درگزر کو ترجیح دی۔
اگر ہم اپنی زندگیوں کو ان اصولوں کے مطابق ڈھال لیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی بہتر ہو سکتی ہے بلکہ پورا معاشرہ امن، محبت
اور خوشحالی کا گہوارہ بن سکتا ہے ۔اسی طرح اگر ہم غور کریں تو ہر انسان کے اندر ایک خوبصورت پہلو ضرور موجود ہوتا ہے ، لیکن مسئلہ یہ ہے
کہ ہم اکثر دوسروں کے منفی پہلوؤں کو زیادہ دیکھتے ہیں اور مثبت باتوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر ہم اپنی سوچ کو مثبت بنا لیں اور دوسروں
میں اچھائی تلاش کرنا شروع کر دیں تو ہماری زندگی بھی آسان اور خوشگوار ہو جائے گی۔ اچھے الفاظ، اچھا گمان، اور اچھا رویّہ نہ صرف
دوسروں کو خوش کرتا ہے بلکہ خود ہمارے دل کو بھی سکون بخشتا ہے ۔ یہی وہ چھوٹے چھوٹے عمل ہیں جو بڑی تبدیلیوں کا سبب بنتے ہیں۔ ایک
اور اہم پہلو یہ ہے کہ خوشی اور مٹھاس صرف لینے کا نام نہیں بلکہ دینے کا بھی نام ہے ۔ جب ہم دوسروں کو خوشی دیتے ہیں تو دراصل ہم اپنی
خوشی میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایک مسکراہٹ، ایک اچھا لفظ، یا ایک چھوٹی سی مدد کسی کے لیے بڑی خوشی کا سبب بن سکتی ہے ۔ یہ وہ سرمایہ ہے
جو خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے ۔ جو لوگ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لیے بھی آسانیاں پیدا
کر دیتا ہے ۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ خوشی کی حقیقی شناخت ہمارے باطن سے جڑی ہوئی ہے ۔ اگر ہمارا دل صاف ہے ،نیت خالص ہے ، اور ہمارا
رویّہ مثبت ہے تو ہم نہ صرف خود خوش رہیں گے بلکہ دوسروں کے لیے بھی خوشی کا باعث بنیں گے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں مٹھاس،
محبت اور خلوص کو شامل کریں، کیونکہ یہی وہ عناصر ہیں جو انسان کو ایک خوبصورت اور یادگار شخصیت بناتے ہیں۔ جب ہم اپنے اندر اس
باطن کی خوشبو پیدا کر لیں گے تو ہماری پہچان خود بخود نکھر جائے گی، اور ہم ایک ایسی زندگی گزار سکیں گے جو نہ صرف ہمارے لیے بلکہ
دوسروں کے لیے بھی باعثِ رحمت اور خوشی ہوگی۔
٭٭٭


