جیو۔۔۔ سچ کے ساتھ
شیئر کریں
بے لگام / ستار چوہدری
رات کے اس پہر سچ بولنا آسان ہو جاتا ہے ۔۔۔ کیونکہ اس وقت سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔۔۔دفتر کی کھڑکی کے باہر بارش ہو رہی تھی ۔۔۔اوراندر ایک ایسا سکوت تھا جس میں انسان خود سے جھوٹ نہیں بول پاتا۔۔۔ میں نے محسوس کیا۔۔۔ ہماری زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ حالات نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی آزادی خود گروی رکھ دی ہے ، ہم دوسروں کی نظروں میں جینے کے عادی ہو چکے ہیں، اتنے عادی کہ اب اپنی نظر سے خود کو دیکھنا بھی بھول گئے ہیں۔۔۔ یہ جو تم دن بھر ہنستے ہو، باتیں کرتے ہو، لوگوں کو مطمئن کرتے ہو، کبھی رک کر سوچا ہے ۔۔۔ یہ سب تم کر رہے ہو، یا تم سے کروایا جا رہا ہے ۔۔۔؟
بارش کی بوندیں شیشے پر پھسل رہی تھیں۔۔۔ اور مجھے یوں لگا جیسے ہر بوند ایک چہرہ ہے ۔۔۔کوئی نصیحت کرتا ہوا، کوئی فیصلہ سناتا ہوا، کوئی تمہیں تم سے دور کرتا ہوا۔۔۔ ہمیں بچپن سے ایک خوبصورت سا جھوٹ دیا جاتا ہے ۔۔۔ کہ اچھے لوگ وہ ہوتے ہیں جو سب کو خوش رکھتے ہیں۔۔۔ اور پھر ہم ساری زندگی اسی جھوٹ کی قیمت چکاتے رہتے ہیں۔۔ہر ”نہیں ” کو ”ہاں ” میں بدلتے ہوئے ، ہر سچ کو نرم کرتے ہوئے ، ہر دکھ کو چھپاتے ہوئے ۔۔۔ مگر سچ یہ ہے ، جو سب کو خوش رکھتا ہے ، وہ آخر میں خود سے خالی ہو جاتا ہے ۔۔۔وہ ہنستا ہے ۔۔۔ مگر اس کی ہنسی میں آواز نہیں ہوتی، وہ جیتا ہے ۔۔۔ مگراس کی زندگی میں رنگ نہیں ہوتے ۔۔۔یہ دنیا تمہیں کردار دیتی ہے ۔۔۔ فرمانبردار بیٹا، ذمہ دار باپ، مہذب شہری۔۔۔ اور تم ان کرداروں کو نبھاتے نبھاتے اپنی اصل ذات کہیں کھو دیتے ہو۔۔۔ پھر ایک دن۔۔۔ایسی ہی کسی بارش میں، تمہیں اچانک احساس ہوتا ہے کہ تم نے اپنی پوری زندگی دوسروں کی کہانی میں ایک سائیڈ کرداربن کر گزار دی۔۔۔ اور سب سے عجیب بات یہ ہوتی ہے کہ تمہیں اس پر تالیاں بھی ملتی رہتی ہیں۔۔۔ یہاں مسئلہ لوگ نہیں ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ تم نے انہیں اپنی زندگی کا جج بنا رکھا ہے ۔۔۔ تم اپنے فیصلے خود نہیں کرتے ، تم اندازہ لگاتے ہو کہ لوگ کیا کہیں گے ۔۔۔ اور پھر ویسا ہی فیصلہ کر لیتے ہو۔۔۔ یہ آزادی نہیں ہے ، یہ ایک مہذب قید ہے ۔۔۔ یہ جو نظام ہے نا۔۔۔ یہ تمہیں سیدھا نہیں رکھتا، تمہیں مصروف رکھتا ہے ۔۔۔ تمہیں اتنا الجھا دیتا ہے کہ تم سوال پوچھنا ہی بھول جاؤ۔۔۔۔ روٹی، نوکری، عزت، رشتے ، ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ۔۔۔ جس کا کوئی اختتام نہیں۔۔۔ اور اس دوڑ کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ تمہیں یہ دوڑ اپنی لگنے لگتی ہے ۔۔۔ تم سمجھتے ہو تم اپنی مرضی سے بھاگ رہے ہو، حالانکہ تمہیں دوڑایا جا رہا ہوتا ہے ۔۔۔ صبح سے شام تک تم وقت بیچتے ہو۔۔۔ اور بدلے میں تھکن خریدتے ہو، پھر اسی تھکن کو زندگی کا نام دے دیتے ہو۔۔۔ کبھی مذہب کے نام پر، کبھی معاشرے کے نام پر۔۔۔اور کبھی اس خوف کے نام پر کہ ” لوگ کیا کہیں گے ”۔۔۔حالانکہ سچ یہ ہے ، لوگوں کے پاس خود اپنی زندگی کے جواب نہیں ہوتے ، وہ تمہیں کیا راستہ دکھائیں گے ۔۔۔؟ وہ خود الجھے ہوئے ہیں، بس تمہیں بھی اپنے جیسا الجھا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں اپنی الجھن کم محسوس ہو۔۔۔ اگر تم رک جاؤ، سوچنا شروع کر دو، اپنی راہ الگ بنا لو تو تم انہیں آئینہ لگنے لگتے ہو۔۔۔ اور لوگ آئینے سے زیادہ دیر تک نظریں نہیں ملا سکتے ، اسی لیے ۔۔۔ ” جو خود کو سمجھنے لگتا ہے ، وہ لوگوں کو کھٹکنے لگتا ہے ” ۔۔۔ اگر تم خاموش رہو گے تو تمہیں مغرور کہا جائے گا۔۔۔ اگر تم بول پڑو گے تو تمہیں بدتمیز کہا جائے گا۔۔۔ اگر تم اپنی راہ چنو گے تو تمہیں باغی کہا جائے گا، تو پھر فیصلہ تمہیں کرنا ہے ۔۔۔ تمہیں نام چاہیے ۔۔۔ یا سکون۔۔۔؟
اگر کوئی کوا سفید کہہ دے تو بحث مت کرو۔۔۔ اور اگر کوئی ہاتھی کو درخت پر بٹھا دے تو اسے اتارنے مت جاؤ۔۔۔ ہر جنگ تمہاری نہیں ہوتی۔۔۔ اور ہر سچ ثابت کرنا ضروری نہیں ہوتا۔۔۔ کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں ، جنہیں صرف جان لینا کافی ہوتا ہے ، ثابت کرنا نہیں۔۔۔ زندگی بہت مختصر ہے اور اسے دوسروں کی توقعات کے بوجھ تلے گزار دینا سب سے بڑی محرومی ہے ۔۔۔ تمہاری سب سے بڑی ذمہ داری کسی اور کو خوش کرنا نہیں، بلکہ خود کو ضائع ہونے سے بچانا ہے ۔۔۔ ”بے لگام ” ہونا بدتمیزی نہیں ہے ، یہ شعور ہے ۔۔۔ یہ جان لینا کہ کون سی بات اہم ہے اور کون سی صرف وقت کا ضیاع، یہ سمجھ لینا کہ ہر تعلق نبھانا فرض نہیں ہوتا۔۔۔ اور یہ مان لینا کہ اپنی ذات کا سکون دنیا کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔۔۔ کبھی کبھی کچھ لوگوں کو چھوڑ دینا پڑتا ہے ، کچھ خیالوں کو دفن کرنا پڑتا ہے ۔۔۔ اور کچھ ڈروں کو توڑنا پڑتا ہے تب جا کر انسان خود تک پہنچتا ہے ۔۔۔ بارش اب بھی ہو رہی ہے ۔۔۔ اور میں سوچ رہا ہوں کہ شاید زندگی کو مشکل بنانے کے لیے ہم خود ہی کافی ہیں۔۔۔شاید اب وقت آ گیا ہے کہ کچھ قیدیں توڑی جائیں۔۔۔ اور کچھ چیزوں کو ویسے ہی چھوڑ دیا جائے جیسے وہ ہیں۔۔۔ کیونکہ آخر میں ”بے لگام ” وہ نہیں جو دنیا سے لڑتا پھرے ۔۔۔۔ ”بے لگام ” وہ ہے جو خود سے سچ بولنے کی ہمت کر لے ۔۔۔ اورپھراسی سچ کے ساتھ جینے لگے ۔۔۔
٭٭٭


