اسرائیلی شہروں میں ایرانی میزائلوں نے تباہی مچادی،6 افراد ہلاک،150 سے زائد زخمی
شیئر کریں
دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ،شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات،پاسداران انقلاب کا اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ، اسرائیل نے تصدیق نہیں کی
نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دے دیا، ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی ہدایت، اسرائیل میں تعلیمی ادارے بند، اجتماعات پر پابندی عائد،ایرانی حملوں کے بعد ہنگامی اقدامات کا اعلان
ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ 23ویں روز میں داخل ہو گئی ہے اور خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ اسرائیل نے تہران کے مختلف علاقوں پر تازہ حملے کیے، جن میں شہر کے مشرقی حصے میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ایران نے ردعمل میں اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر میزائل حملے جاری رکھے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی شہروں دیمونا اور عراد میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں تقریبا 6 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ متعدد عمارتیں بھی تباہ ہوئیں۔ایرانی فوج نے خبردار کیا کہ اگر اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو وہ مشرقِ وسطی میں امریکا اور اسرائیل سے منسلک تمام توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تہران کی فضاں میں ایک امریکی اسرائیلی ڈرون کو مار گرایا، جبکہ پاسداران انقلاب نے ایک اسرائیلی لڑاکا طیارہ گرانے کا بھی دعوی کیا، جس کی اسرائیل نے تصدیق نہیں کی۔ایران کے جوہری ادارے کے مطابق نطنز میں جوہری تنصیبات کو امریکا اور اسرائیل نے نشانہ بنایا، تاہم عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے کہا ہے کہ کسی قسم کی تابکاری خارج ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ایرانی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 1500 سے زائد افراد جاں بحق اور 20 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد ہسپتالوں کو بھی خالی کرانا پڑا۔میڈیارپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک میں بھی صورتحال کشیدہ ہے، سعودی عربیہ نے درجنوں ایرانی ڈرونز اور میزائل مار گرانے کا دعوی کیا، جبکہ بحرین نے بھی سینکڑوں حملے ناکام بنانے کی اطلاع دی ہے۔ادھر قطر میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں ایرانی حملوں کے بعد ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم نیتن یاہو نے صورتحال کو انتہائی مشکل قرار دیتے ہوئے ریسکیو اداروں کو مزید مضبوط کرنے کی ہدایت دی ہے۔اسرائیلی وزارت تعلیم نے ملک بھر میں تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں جبکہ جنوبی علاقوں میں اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق جنگ کے پھیلا اور توانائی تنصیبات پر حملوں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث معاشی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔


