میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکاکی سلامتی کیلئے خطرہ، انٹیلی جنس چیف نے سینیٹ میں دھماکا کر دیا

ویب ڈیسک
جمعه, ۲۰ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

رپورٹ میں پاکستانی میزائل پروگرام اور پالیسیاں امریکی سلامتی کیلئے ممکنہ خطرہ قرار،پاکستانی میزائل امریکا تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں، پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ
پاکستان مسلسل جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل نظام تیار کرنے کے ذرائع فراہم کرتی ہے، تلسی گیبرڈکا بیان

امریکہ کی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گیبرڈ امریکہ کی سینیٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان کے میزائل ممکنہ طور پر امریکہ تک پہنچنے کے قابل ہو سکتے ہیں اور پاکستان بھی امریکہ کی سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ تلسی گیبارڈ نے یہ بات امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گیبارڈ نے اپنے ادارہ کی مرتب کردہ خطروں کی جائزہ رپورٹ 2026 سینیٹ میں پیش کرنے کے ساتھ اپنے بیان میں کہی۔ اس رپورٹ میں پاکستان کے میزائل پروگرام اور پالیسیوں کو امریکی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دے دیا گیا۔ اس حساس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں، بین البراعظمی میزائلوں، ڈرونز اور پراکسی جنگ کے ذریعے امریکہ کو ممکنہ خطرہ ہے۔ امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس کی اس سالانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلسل ایسی جدید میزائل ٹیکنالوجی تیار کر رہا ہے جو اس کی فوج کو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل نظام تیار کرنے کے ذرائع فراہم کرتی ہے، اور اگر یہ رجحانات جاری رہے تو ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تیار ہو سکتے ہیں جو امریکہ کے لیے خطرہ بنیں گے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات غیر معمولی گرم جوشی کے دور سے گزر رہے ہیں اور امریکی صدر متعدد بار پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شہباز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل آصف منیر کی تعریفیں کر چکے ہیں اور انہیں اپنا دوست قرار دیتے ہیں۔ چونتیس صفحات کی اس رپورٹ کے ایک اور حصے میں امریکہ کو درپیش ایٹمی حملے کے خطرات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چین، روس، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان جوہری اور روایتی پے لوڈز کے ساتھ ایسے نت نئے، جدید یا روایتی میزائل ڈیلیوری سسٹمز کی ایک وسیع رینج پر تحقیق اور انہیں تیار کر رہے ہیں، جو امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کو اس وقت تین ہزار بین الابراعظمی میزائلوں کا خطرہ ہے، جب کہ یہ تعداد 2035 میں بڑھ کر 16 ہزار ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں ڈرونز کا بھی ذکر ہے اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایک طرف جہاں ڈرونز کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، وہیں چین، ایران، شمالی کوریا، پاکستان اور روس ان جدید میزائلوں کی تیاری کو ترجیح دینا جاری رکھیں گے جو امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ رپورٹ میں جنوبی ایشیا کو امریکہ کے لیے ایک مستقل سکیورٹی چیلنج قرار دیتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ماضی کے تنازعات کے پیشِ نظر پاکستان بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ایٹمی تصادم کا خطرہ بدستور موجود ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں