سندھ حکومت کاکیٹی بندر کو جدید سمندری بندرگاہ بنانے کا منصوبہ
شیئر کریں
پی پی پی ماڈل جلد تیار کرنے کی ہدایت، وزیراعلیٰ سندھ کا توانائی کا مرکز بنانے کا عزم
منصوبے میں 2.5 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کی گنجائش، وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق کیٹی بندر کو جدید گہرے سمندر کی بندرگاہ اور تجارتی مرکز بنانے کے لیے محکمہ سرمایہ کاری کو جامع سرمایہ کاری پر مبنی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل جلد تیار کرنے کی ہدایت کردی۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں معاون خصوصی قاسم نوید، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نجم شاہ، سیکریٹری سرمایہ کاری راجہ خرم، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سیکریٹری خزانہ اصغر میمن اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کیٹی بندر کو جدید گہرے سمندر کی بندرگاہ اور مربوط اقتصادی راہداری پر مشتمل بڑے بحری و معاشی ترقیاتی منصوبے کا حصہ بنایا جائے گا۔
منصوبہ صوبائی بجٹ میں پیش کیے گئے وڑن کے مطابق تیار کیا جائے تاکہ سندھ خطے کا نمایاں بحری، لاجسٹکس، صنعتی اور توانائی کا مرکز بن سکے۔
انہوں نے متعلقہ محکموں کو بندرگاہی انفراسٹرکچر، صنعتی ترقی، لاجسٹکس، ماہی گیری، توانائی اور سیاحت سمیت تمام شعبوں کا تفصیلی منصوبہ اور مرحلہ وار ترقیاتی حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ مجوزہ کیٹی بندر انٹیگریٹڈ کوریڈور معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ سندھ کی ساحلی پٹی اور دریائے سندھ کے ڈیلٹا کی ترقی کے امکانات بھی بروئے کار لائے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی بجٹ 2026-27 کے مطابق کیٹی بندر میری ٹائم، فشریز اینڈ پیٹرولیم اکنامک کوریڈور میں ایک ارب سے 2.5 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کی صلاحیت موجود ہے۔
کوریڈور میں جدید فشنگ ہاربر، سمندری خوراک کی برآمدی پراسیسنگ، پٹرولیم ہینڈلنگ ٹرمینلز، لاجسٹکس انفراسٹرکچر اور صنعتی معاون زونز شامل ہوں گے۔
وزیراعلیٰ نے کیٹی بندر کو مستقبل کے توانائی کے گیٹ وے کے طور پر ترقی دینے کے لیے بھی تفصیلی منصوبہ بندی کی ہدایت کی، جس میں ایل این جی، آر ایل این جی اور ایل پی جی کی درآمدی سہولیات سمیت دیگر اہم توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا قیام شامل ہے۔
فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق منصوبے کے لیے تقریباً 4 ہزار ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔انہوں نے سڑک، ریل اور بحری رابطوں سمیت معاون انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی پر بھی زور دیا اور کیٹی بندر کو صوبے کے صنعتی و توانائی منصوبوں سے منسلک کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ منصوبے پر مرحلہ وار عملدرآمد ہوگا۔ پہلے مرحلے میں کیٹی بندر اور شاہ بندر میں جدید سہولیات سے آراستہ چھوٹی ماہی گیری کی بندرگاہیں قائم کی جائیں گی، جن میں جدید نیلامی ہال، کولڈ اسٹوریج اور کشتیوں کے لنگر انداز ہونے کی سہولیات شامل ہوں گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں مکمل تجارتی گہرے سمندر کی بندرگاہ تعمیر کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کیٹی بندر ایک تاریخی قدرتی بندرگاہ ہے اور اس میں بے پناہ معاشی صلاحیت موجود ہے۔ اس کی ترقی سے کراچی پورٹ پر دباؤ کم ہوگا، پاکستان کی بحری صلاحیت بڑھے گی، ماہی گیری کی برآمدات کو فروغ ملے گا، توانائی کے تحفظ میں بہتری آئے گی اور صنعتی ترقی و روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیراعلیٰ نے محکمہ سرمایہ کاری کو ممکنہ سرمایہ کاروں اور ترقیاتی شراکت داروں کی نشاندہی کرکے جامع عملدرآمد منصوبہ جلد پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کیٹی بندر کی ترقی سندھ حکومت کی اسٹریٹجک ترجیحات میں شامل ہے۔


