میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
6.4 ارب کی کٹوتی کا معاملہ، سہیل آفریدی کا وفاقی فیصلہ ماننے سے انکار

6.4 ارب کی کٹوتی کا معاملہ، سہیل آفریدی کا وفاقی فیصلہ ماننے سے انکار

جرات ڈیسک
هفته, ۱۵ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی مالیاتی منتقلی سے 6.4 ارب کی کٹوتی کی وفاقی ہدایت کو مسترد کردیا

صوبے کی رضامندی کے بغیر اس کے مالیاتی حصے سے رقم منہا نہیں کی جاسکتی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی مالیاتی منتقلی سے 6.4 ارب روپے کی کٹوتی کی وفاقی ہدایت کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبے کی رضامندی کے بغیر اس کے مالیاتی حصے سے کوئی رقم منہا نہیں کی جاسکتی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے مطابق وفاقی حکومت نے بجٹ سے قبل دیگر صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا سے بھی اضافی رقم فراہم کرنے کا تقاضا کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کی جانب سے 15,260 ارب روپے کا ہدف حاصل ہونے کی صورت میں خیبرپختونخوا کا حصہ تقریباً 175 ارب روپے بنتا تھا، ان کے مطابق انہوں نے اضافی رقم کی فراہمی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کی اجازت سے مشروط کیا تھا۔

وزیراعلیٰ کے مطابق ضم شدہ اضلاع کو 11ویں قومی مالیاتی کمیشن (NFC) میں ان کا آئینی اور جائز حصہ دینا بھی صوبائی حکومت کی بنیادی شرط تھی، وفاق نے چھ ماہ کے اندر ضم شدہ اضلاع کو جائز حصہ دینے کی شرط تسلیم کرکے اسے این ای سی کی کارروائی کا حصہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ چھ ماہ میں ضم شدہ اضلاع کو ان کا جائز حصہ نہ ملنے کی صورت میں 7ویں این ایف سی کے تحت سمری اور آرڈیننس کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

سہیل آفریدی کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرائے جانے کے باعث خیبرپختونخوا حکومت نے اضافی رقم سے متعلق مفاہمتی یادداشت نہ منظور کی اور نہ ہی اس پر دستخط کیے۔ اسی اصول کے تحت مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں وفاقی گرانٹ کی اضافی رقم بھی شامل نہیں کی گئی۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 5 اگست کو وفاقی وزارت خزانہ نے جولائی کی وفاقی مالیاتی منتقلیوں میں خیبرپختونخوا کو واجب الادا رقم سے 6.4 ارب روپے براہ راست منہا کرنے کی تجویز دی۔

ان کے مطابق صوبائی حکومت نے اس مجوزہ کٹوتی کی نہ منظوری دی اور نہ ہی اس سے اتفاق کیا۔ محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے 13 اگست کے خط کے ذریعے وفاقی حکومت کو صوبے کی عدم رضامندی سے بھی آگاہ کردیا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق کی جانب سے گردش کرنے والی مفاہمتی یادداشت نہ صوبائی کابینہ نے منظور کی اور نہ ہی صوبائی حکومت نے اس پر دستخط کیے، جبکہ مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں بھی مجوزہ انتظام کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ یہ معاملہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ صوبے کے آئینی اور مالیاتی حق کا معاملہ ہے۔

ان کے مطابق محکمہ خزانہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 164 وفاق کو صوبے کی واجب الادا رقوم میں یکطرفہ کٹوتی کا اختیار نہیں دیتا، جبکہ صوبے کے آئینی مالیاتی حق میں کٹوتی کے لیے واضح آئینی یا قانونی بنیاد اور صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری ہے۔

سہیل آفریدی نے بتایا کہ ان کی ہدایت پر مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا کے متعلقہ افسران سے فوری ملاقات کی، جس کے بعد صوبائی حکومت کی رضامندی کے بغیر 6.4 ارب روپے کی کٹوتی یا اس حوالے سے کسی کارروائی سے گریز کرنے کی تحریری ہدایات جاری کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کو بھی صوبائی حکومت کی واضح رضامندی کے بغیر ایسی کوئی لین دین درج یا نافذ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت قومی مالیاتی کمیشن کے آئینی حق کے حصول کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کرچکی ہے۔

سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ ان کی حکومت خیبرپختونخوا کے آئینی، مالیاتی اور قومی مالیاتی کمیشن سے متعلق حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کو غیر منظور شدہ اور غیر دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر صوبے کے حصے سے یکطرفہ رقم منہا کرنے کا اختیار نہیں اور خیبرپختونخوا حکومت ایسے اقدام کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبہ اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، آئینی اور ادارہ جاتی راستہ اختیار کرے گا اور خیبرپختونخوا اپنے مالیاتی حصے کے ایک ایک روپے کا دفاع کرے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں