ایران نے خلیج میں توانائی تنصیبات پر میزائل داغ دیئے،عرب اسلامی ممالک کی مذمت
شیئر کریں
پاسداران انقلاب کا کارروائی کو امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید وزیرِ انٹیلی جنس اور دیگر انٹیلی جنس اہلکاروں کے نام منسوب
پینٹاگون کا وائٹ ہائوس سے ایران جنگ کیلئے مزید 200ارب ڈالر فراہم کرنے کا مطالبہ ،ارکان کانگریس اس میں رکاوٹ
مشرقِ وسطی میں جنگ کے بیسویں روز ایران نے حملوں کی نئی لہر کا آغاز کردیا، پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت حملوں کی 63 ویں لہر میں خطے میں امریکا سے منسلک تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، قطر کے راس لفاس انڈسٹریل سٹی میں آگ لگ گئی، ایرانی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔پاسداران انقلاب نے کارروائی کو امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید وزیرِ انٹیلی جنس اور دیگر انٹیلی جنس اہلکاروں کے نام منسوب کیا۔پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ وہ جنگ کو تیل کی تنصیبات تک پھیلانا نہیں چاہتا تھا اور نہ ہی دوست اور ہمسایہ ممالک کی معیشت کو نقصان پہنچانے کا ارادہ تھا، تاہم ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔پاسداران انقلاب کے مطابق اپنے تنصیبات کے دفاع کے لیے امریکا اور امریکی شیئر ہولڈرز توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔مشرق وسطی کی کشیدہ صورتِ حال پر عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا سعودی دارالحکومت ریاض میں اجلاس ہوا جہاں علاقائی سلامتی اور استحکام کو سپورٹ کرنے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب ایران حملوں کے بعد فوجی کارروائی کاحق محفوظ رکھتا ہے۔عرب اور اسلامی ممالک کے مشاورتی اجلاس کے اعلامیے میں خطے پر ایرانی حملوں کی پرزور مذمت کی گئی۔اعلامیہ کے مطابق ایران خلیجی ممالک کے سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے، ایران ہوائی اڈوں، تیل تنصیبات،سفارتخانوں اورعوامی مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے، یہ حملے کسی صورت جائز نہیں، اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے مطابق خلیجی ریاستوں کو دفاع کا حق حاصل ہے۔اعلامیے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اورہمسایہ ممالک کا احترام کرے اورفوری طور پر حملے روکے۔اعلامیے میں کہا گیا ایران خطے کے امن اور استحکام کو یقینی بنائے، اعلامیے میں ایران سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنائے اور عالمی تجارت میں خلل پیدا نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو توانائی کی تنصیبات پر حملوں سے پیغام مل گیا ہے کہ آبنائے ہرمز بند کی گئی تو دوبارہ حملے ہو سکتے ہیں، فی الحال انہوں نے توانائی کی تنصیبات پر مزید حملے کرنے سے روک دیا ہے۔فرانسیسی صدر میکرون نے صدر ٹرمپ اور امیر قطر سے فون پر گفتگو کی ہے اور گیس فیلڈ حملوں کے بارے میں بات چیت کی ہے۔ایران اور قطر کی گیس فیلڈ پر حملوں کے بعد کروڈ آئل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، گیس کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں، تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو اب روکنا شاید ممکن نہ ہو-پینٹاگون نے وائٹ ہائوس سے کہا ہے کہ ایران جنگ کیلئے مزید 200 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی صدر کو اتنی رقم کی منظوری میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ امریکی کانگریس کے ارکان اس میں بڑی رکاوٹ ہیں۔جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے قطر کی راس لفان انڈسٹریل سٹی پر ایرانی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البداوی نے کہا کہ ایران کی یہ خطرناک جارحیت بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایرانی حملے ناقابل قبول اشتعال انگیزی ہیں، ایرانی حملے علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔


