دہشت گردی کے خاتمے تک جدوجہدجاری رہے گی،وزیر اعظم
شیئر کریں
کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف
تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد مکمل خاتمے تک جاری رہے گی،تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں، اولیاء کرام کی تعلیمات انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں۔ برصغیر میں اسلام اولیاء کرام کی تعلیمات سے پھیلا، اولیاء کرام نے اللہ تعالی اور نبی کریمؐ کی محبت کا پیغام عام کیا جس پر عمل کر کے ہم دنیا و آخرت سنوار سکتے ہیں،حضرت مرشدی محمد اسحق شاہین گورا یاؒبھیج پیرجٹا پنجم جٹاؒتحریک پاکستان کے درخشاں ستارے تھے،حضرت مرشدی اسحق شاہین گورایا ؒ نقشبندی نے پوری زند گی اسلاف صوفیاء صالحین کی پیروی میں صوفیاء کی سر زمین بالعموم سندھ اور باالخصوص عالم اسلام کا قلعہ پاکستان میں تصوف و اصلاح اور نظام مصطفی ﷺکے لیئے خود کو وقف کیا ہوا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آزادی بے پناہ قربانیوں کے بعد ملی ہے اور اس آزادی کا تحفظ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جس کے لیے پوری قوم اور مسلح افواج ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں‘ بھارت پاکستان کو ہمیشہ میلی آنکھ سے دیکھتا ہے اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استمعال کرتے ہوئے فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندو دیگر دہشتگرد تنظیمیں اپنے ناپاک عزائم کے حصول کیلئے کوشاں ہیں تاہم عوام اور مسلح افواج متحد ہیں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے‘پاکستان کو بہت سے جیوپولیٹیکل چیلنجز کا سامنا ہے‘تمام اندرونی اور بیرونی سازشوں کے باوجود پاکستان کی تعمیر و ترقی کا عمل جاری رہے گا‘ ففتھ جنریشن وار فیئر اہم چیلنج کی صورت اختیار کرچکا ہے‘نوجوان نسل میں نفرت اور مایوسی پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بناناہوگا،پنی نوجوان نسل میں نفرت اور مایوسی پھیلانے کی کوششوں کا مقابلہ کرنا ہو گا‘ہم مشکلات پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ ہم ایک باحوصلہ قوم ہیں اور چیلنجز سے نہیں جھکیں گے‘ہمیں قو م کی توانائی اور صلاحیتوں پر اعتماد ہے اور ہم مشکلات سے کبھی نہیں گھبراتے‘ پاکستان کو جغرافیائی اور سیاسی مسائل کا سامنا ہے،وزیر اعظم نے دفاع کو مزید مستحکم بنانے‘ زراعت سمیت اقتصادی شعبوں کو فروغ دینے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سرحدوں کی حفاظت یقینی بنائیں گے، معیشت، زراعت مستحکم کریں گے اور توانائی کا تحفظ بھی کریں گے‘یہ سفر مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، پاکستان کی خارجہ پالیسی استحکام اور امن کو یقینی بنانے پر مبنی ہے اور ہم اپنے پڑوسیوں اور عالمی برادری کے ساتھ باہمی احترام اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف پر مبنی مضبوط تعلقات چاہتے ہیںوزیر اعظم نے کہا کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو بھی نہیں بھولے جو طویل عرصے سے بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا شکار ہیں۔وزیر اعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطین میں نسل کشی کو روکنے اور امریکہ و اسرائیل کی ایران سے جنگ کے خاتمے کے لیے فوری فیصلہ کن اقدامات کرے۔وزیر اعظم نے قوم سے اپیل کی کہ مادر وطن کے قیام کے حقیقی مقاصد کے حصول کے لیے کام کریں۔اپنی تمام تر توانائیاں ملک کی ترقی کیلئے وقف کریں، اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک خوشحال اور پرامن پاکستان کیلئے کام کریں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مایوسی اور منفی سوچ کو ترک کر کے اتحاد، سچائی اور امید کو اپنانا ہو گا،پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والے کسی دہشت گرد گروپ کو برداشت نہیں کرینگے،کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا،خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں، قوم مایوس نہ ہو، ہم پاکستان کومعاشی لحاظ سے مضبوط اور خودکفیل بنانے کیلئے پُرعزم ہیں، سیاسی جماعتیں مسائل کے حل کیلئے ملکر کام کریں،اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوقی کی پامالی اور فلسطینیوں کی نسل کشی روکے,،دہشت گردوں یا کسی اور گروپ کی جانب سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائیگا، پاکستان عالمی امن اور تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، ہم ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت ہیں اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں،ہمیں قومی اتفاق رائے کے ساتھ موثر حکمت عملی، دانشمندانہ انتظام، صوبوں اور وفاق کیمابین بہتر روابط کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا قوم مایوس نہ ہو، ہم پاکستان کومعاشی لحاظ سے مضبوط اور خودکفیل بنانے کیلئے پُرعزم ہیں، معاشی مسائل کے حل اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے ایس آئی ایف سی کا قیام عمل میں لایاجا چکا، ہمیں انسانی وسائل کی ترقی اور ہنرمندی، زراعت، آئی ٹی، صنعتی ترقی اور گڈ گورننس پر توجہ دینا ہو گی،وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کے موجود حالات کے تناظر میں معاشرے میں وحدت امت کیلئے امن اور رواداری کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وحدت امت وقت کی ضرورت ہے اور اس میں علماء اور مشائخ کا اہم کردار ہے،، ضروری ہے کہ محراب و منبر سے صدائے وحدت امت بلند کی جائے، اسلام ہمیں امن،اخوت،محبت،رواداری،قومی یکجہتی،بھائی چارے اور خدمت انسانیت کا درس دیتا ہے وطن عزیز پاکستان اللہ تعالیٰ کی نعمت عظمیٰ ہے،ملک دشمن طاقتوں کی سازشوں کو ملکر ناکام بنائیں گے،پاکستان کا امن خطے کے امن کو مضبوط کرے گااور قوم کیلئے ترقی و خوشحالی کے نئے راستے کھلیں گے تمام علماء و مشائخ منبرومحراب سے احترام انسانیت،تشدد سے پاک معاشرہ اور قومی یکجہتی کیلئے اپنا کردار ادا کریں ، افواج پاکستان نے ملک کی سلامتی و دفاع کیلئے لازوال اور بے مثال قربانیاں دی ہیں جوملک و قوم کے لیے باعث فخر ہیں جسے ہم سلام پیش کرتے ہیں،پاکستان کی سلامتی اور دفاع کیلئے علماء کرام و مشائخ عظام نے ہمیشہ قوم کو تیار رکھا ہے اور آئندہ بھی قوم کو بیدار رکھیں گے ۔


