وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار
شیئر کریں
تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے
پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر تعینات ، ہال کے پچھلے حصے کی جانب اسلحہ تان لیا ،مزید تحقیقات جاری
وائٹ ہائوس کے صحافیوں کی ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کی تقریب کے دوران اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول کو سیکیورٹی ادارے نے فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک زوردار دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دیں جس پر سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر حاضرین کو نیچے رہیں کی ہدایت دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو اپنے حصار میں مرکزی اسٹیج سے باہر لے گئے۔سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر تعینات ہو گئے اور ہال کے پچھلے حصے کی جانب اسلحہ تان لیا گیا۔اس دوران کئی مہمان خوف کے باعث میزوں کے نیچے چھپ گئے جبکہ کچھ کو تیزی سے باہر نکالا گیا۔واقعے کے بعد اعلی حکام کو بھی فوری طور پر نکال لیا گیا جن میں امریکی خاتون اول، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس، امریکی کابینہ کے ارکان سمیت پیٹ ہیگسیتھ اور کاش پٹیل شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق تقریبا پانچ گولیوں جیسی آوازیں سنائی دیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا ہے تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔جبکہ روسی میڈیا کا کہنا تھاکہ تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اور مبینہ طور پر ایک شوٹر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔عمارت کو چاروں طرف سے سیکیورٹی اہلکاروں نے تاحال گھیرے میں لے لیا۔واقعے کے بعد ہال میں موجود ہزاروں افراد کو کچھ دیر تک لاک ڈائون کی صورتحال میں رکھا گیا جبکہ ماحول میں شدید خوف و ہراس پایا گیا۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔


