رمضان المبارک میں صحابہ کرامؓ کے معمولات
شیئر کریں
مفتی محمد وقاص رفیع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضورِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کے بعد آپؐ کے جاں نثار حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حیات طیبہ ہمارے لئے عمدہ نمونہ اور بہترین مشعل راہ ہے۔یہ لوگ دین کے اوّل پھیلانے والے ہیں، اللہ تعالیٰ کے ایک ایک حکم پر سر تسلیم خم کرنے والے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ادا اور ایک ایک سنت پر مر مٹنے والے ہیں، انہوں نے کہہ کر نہیں بلکہ عملاً کرکے دکھایا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی وہ مقدس اور پاکیزہ جماعت ہے جنہیں دُنیا ہی میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رضاء و خوش نودی کا سرٹیفیکیٹ عطاء فرمایا ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دین کے ہر شعبہ میں ایسی ناقابل فراموش داستانیں رقم کیں اور ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں کہ جن کی مثالیں رہتی دُنیا تک نہیں مل سکتیں، معاشرت ہو یا معیشت، معاملات ہوں یاعبادات، موالات ہو ں یا اخلاقیات، انفرادی زندگی ہو یااجتماعی زندگی ، غرض زندگی کے ہر شعبہ ہر لائن اور ہر موڑ پر اُسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈھلی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قابل رشک و لائق فخر زندگی تمام مسلمانوں کے لئے ایک بہترین مشعل راہ اور ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دیگر من جملہ شعبہ ہائے زندگی کے اُن کی زندگی کا ایک شعبہ رمضان المبارک کے بابرکت دنوں اور اُس کی نورانی راتوں میں اُن کے معمولات و عبادات کا بھی ہے ، ذیل میں اُنہیں کے مسحور کن حالات و واقعات اور حیران کن مشاہدات و تاثرات کی ایک ہلکی سی جھلک آپ کے مطالعہ کی نذر کی جاتی ہے۔:چنانچہ حضرت عطیہ بن سفیان بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کا وفد رمضان المبارک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے لئے مسجد میں خیمہ لگوایا، پھر جب وہ مسلمان ہوگئے تو اُنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھنے شروع کردیئے۔(معجم الکبیر للطبرانی)
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری تناول کی، پھر فجر کی نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے،(راوی کہتے ہیں کہ) میں نے (حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے) پوچھا کہ سحری اور نماز کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ تو اُنہوں نے بتایا کہ پچاس یا ساٹھ آیات کے بقدر۔ (صحیح بخاری) حضرت قرہ بن حیان بن حارث رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کھائی، جب سحری سے فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مؤذن کو (اذان دینے کا) حکم دیا اور پھر نماز کھڑی کردی۔ (شرح معانی الآثار)
حضرت نافع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ہم سے بعض اوقات روزہ کی حالت میں ملاقات کرتے، پھر آپؓ کے لئے (افطار کے وقت) شام کا کھانا پیش کیا جاتا اور مغرب کی نماز کی اذان ہوچکی ہوتی ، مگر جب تک آپؓ اپنا کھانا نہ کھا لیتے اُس وقت تک نماز کے لئے جلدی نہ کرتے تھے، (بلکہ کھانا کھالینے کے بعد) تشریف لے جاتے اور نماز پڑھاتے اور فرماتے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ جب تمہارے سامنے شام کا کھانا پیش کیا جائے تو تم (نماز کے لئے) جلدی نہ کیا کرو!۔ (مصنف عبد الرزاق)
حضرت ثابت بنانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا تم روزہ دار کے لئے پچھنے لگوانے کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مکروہ سمجھتے تھے؟ تو اُنہوں نے فرمایا کہ نہیں! مگر کم زوری ہوجانے کی وجہ سے (مکروہ سمجھتے تھے) (صحیح بخاری) امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روزہ کی حالت میں پچھنے لگوایا کرتے تھے۔ (مؤطا امام محمدؒ)
حضرت ابوبکر بن عبد الرحمان کی سند سے ایک صحابی سے روایت ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ‘‘عروج’’ نامی مقام میں دیکھا کہ آپؐ روزہ کی حالت میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر مبارک پر پانی ڈال رہے تھے۔(سنن ابی داؤد) حضرت ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ آپؓ روزہ کی حالت میں کپڑا بھگوکر اپنے اوپر ڈال رہے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ)
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم روزہ کی حالت میں تیل لگاکر صبح کیا کرو! (معجم الکبیر للطبرانی)
حضرت عبد اللہ بن ثعلبہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (روزہ کی حالت میں بیوی کا) بوسہ لینے سے اِس لئے مجھے منع کرتے تھے کہ کہیں میں اِس سے زیادہ (جماع یا انزال تک) آگے نہ بڑھ جاؤں، پھر آج مسلمان بھی اِس سے منع کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی حدود کی اِس طرح رعایت کرنے والے تھے جو دوسروں کے لئے مشکل ہے۔ (مسند احمد)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا یا رسول اللہ! میں تو ہلاک ہوگیا (کیوں کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا حکم توڑ دیا ہے) میں رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر بیٹھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کفارے میں ایک غلام آزاد کرو۔ اُنہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو غلام نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر دومہینوں کے مسلسل روزے رکھو!۔ اُنہوں نے عرض کیا کہ یہ میرے بس میں نہیں ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ساٹھ(۶۰)مسکینوں کو کھانا کھلاؤ!۔ اُنہوں نے عرض کیاکہ میرے پاس کھلانے کے لئے بھی کچھ نہیں ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور کے پتوں سے بنے ہوئے ٹوکرے میں کھجوریں آئیں، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ مسئلہ پوچھنے والے صحابی کہاں ہیں؟ (وہ آئے تو) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لو یہ کھجوریں صدقہ کردو!۔ اُنہوں نے عرض کیا کہ اپنے سے بھی زیادہ فقیر پر صدقہ کروں؟ اللہ کی قسم! مدینہ کے دونوں طرف جو کنکریلے میدان ہیں اُن کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ فقیر نہیں ہے۔اِس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ہنسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(جب تم اتنے ہی ضرورت مند ہو تو ) پھر تم ہی اسے اپنے گھر والوں پر خرچ کرلو! (اور بعد میں کفارہ دے دینا) (صحیح بخاری)
حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رمضان کے آخری عشرہ میں اپنے گھر والوں کو (رات میں عبادت کرنے کے لئے) جگایا کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
حضرت عبد الرحمن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے ‘‘شبِ قدر’’ کا ذکر کیا گیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ میں نے جب سے حضور صلی اللہ علیہ سے یہ سنا ہے کہ ‘‘شبِ قدر’’ کو رمضان کے اخیر عشرہ کی طاق راتوں اکیسویں یا تئیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا آخری (انتیسویں) رات میں تلاش کیا کرو! تومیں اُسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرتا ہوں۔ (مسند احمد)
***


