میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بجٹ میں عوام پر ٹیکسوں کا نیا بوجھ ڈالنے کی تیاریاں

بجٹ میں عوام پر ٹیکسوں کا نیا بوجھ ڈالنے کی تیاریاں

ویب ڈیسک
اتوار, ۳۱ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت کسی قسم کی ٹیکس چھوٹ دینے سے صاف انکار
نئے بجٹ میںسولر پینلز، الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور ڈکٹیشن کے تحت آئندہ مالی سال 2026؍27ء کے بجٹ میں عوام پر ٹیکسوں کا ایک نیا بوجھ ڈالنے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہیں، جہاں ایک طرف تو ملک کو گرین انرجی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن دوسری طرف نئے بجٹ میں سولر پینلز، الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کرنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ مالی سال 2026؍27ء کے وفاقی بجٹ کی تیاریوں کے دوران مختلف ٹیکس تجاویز پر کام تیزی سے جاری ہے، جس میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو کسی بھی شعبے میں کسی بھی قسم کی ٹیکس چھوٹ دینے سے صاف انکار کر دیا ہے، اس سخت مؤقف کے بعد سولر پینلز اور ماحول دوست گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے بجٹ کے لیے جو سخت ترین سفارشات دی ہیں، ان کے تحت ٹیکسوں کی شرح کو مروجہ 18 فیصد کی بلند ترین سطح پر لانے کا پلان ہے، الیکٹرک وہیکلز پر موجودہ ٹیکس 1 فیصد ہے، بجٹ میں مجوزہ ٹیکس 18 فیصد کہا جارہا ہے، اس تجویز کی منظوری کی صورت میں الیکٹرک کاروں، موٹر سائیکلوں، رکشوں، ٹرکوں، بسوں، الیکٹرک پک اپ، ٹریکٹرز اور ڈبل کیبن گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔بتایا گیا ہے کہ ہائبرڈ گاڑیاں اس وقت موجودہ ٹیکس 8 فیصد ہے لیکن بجٹ میں مجوزہ ٹیکس 18 فیصد ہے، اس کی منظوری کی صورت میں ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح میں 10 فیصد اضافے سے مارکیٹ میں ان گاڑیوں کی قیمتیں لاکھوں روپے بڑھ جائیں گی، اسی طرح سولر پینلز پر موجودہ ٹیکس 10 فیصد ہے لیکن تجویز کردہ ٹیکس 18 فیصد ہے، شدید گرمی اور مہنگی بجلی کے ستائے عوام جو سولر انرجی کا رخ کر رہے ہیں، ان کے لیے اب سولر سسٹم لگوانا انتہائی مہنگا اور مشکل ترین ہو جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں