میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کیلئے ملک بند کرے، اپوزیشن اتحاد

ویب ڈیسک
جمعه, ۳۰ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی
فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے لائے جائیں،اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی و سینیٹ کاشدید ردعمل

قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی و سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی اور قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے سابق وزیراعظم عمران خان کو خفیہ طور پر پمز منتقل کرنے اور فیملی و ذاتی معالجین کو لاعلم رکھنے پرشدید ردعمل دیتے ہوئے کہاہے کہ عمران خان کو فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر ہسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ہے،قیدی کی صحت و جان کی ذمہ داری مکمل طور پر قید میں رکھنے والوں پر عائد ہوتی ہے،عمران خان کی طبی حالت فی الفور فیملی کے سامنے لائی جائے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کو خفیہ طور پر پمز منتقل کرنے اور فیملی و ذاتی معالجین کو لاعلم رکھنے پر قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی و سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی اور قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے شدید ردعمل دیاہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہاکہ عمران خان کو فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر ہسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ہے، قیدی کی صحت و جان کی ذمہ داری مکمل طور پر قید میں رکھنے والوں پر عائد ہوتی ہے،عمران خان کو بغیر اطلاع ہسپتال منتقل کرنا آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیرنا ہے،عدالتی احکامات کے باوجود ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی نہ دینا بے آئینی کی بدترین مثال ہے،عمران خان کی طبی حالت فی الفور فیملی کے سامنے لائی جائے، محمود خان اچکزئی نے کہاکہ عمران خان کے معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا،عمران خان ایک قیدی ہیں، ان کے ساتھ کسی خفیہ سلوک کی اجازت نہیں دی جا سکتی، عمران خان کی صحت کے حوالے سے کسی بھی نقصان کی ذمہ داری تحویل میں رکھنے والوں پر ہوگی، قوم 8 فروری کو عمران خان کی رہائی کے لئے پورا ملک بند کرے۔ علامہ ناصر عباس نے کہاکہ عمران خان کو ان کے ذاتی معالجین اور اہلِ خانہ سے دور رکھنا غیر انسانی اقدام ہے،ایک قیدی کو لاعلم رکھ کر ہسپتال منتقل کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے،عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کا ابہام قبول نہیں کیا جائے گا،عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں کو فوری رسائی نہ دینا عدالتی احکامات کی توہین ہے، عمران خان کی جان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کھیل ناقابلِ برداشت ہوگا،عمران خان کی صحت پر ریاستی اداروں کی خاموشی تشویشناک اور سوالیہ نشان ہے،عمران خان کے معاملے میں جان بوجھ کر تاخیر کے سنگین نتائج ہوں گے، علامہ ناصر عباس نے کہاکہ عمران خان جس کی تحویل میں ہیں وہی ان کی جان و صحت کے ذمہ دار ہیں،عمران خان کی صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے لائے جائیں، عمران خان کو طبی سہولیات سے محروم رکھنا ظلم اور ناانصافی ہے،قوم 8 فروری کو اس نا انصافی پر پورا ملک شٹر ڈان و پہیہ جام کرے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں