میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

اذانوں کی گونج، شعلوں کا راج، گل پلازہ میں آتشزدگی سے 6 افراد جاں بحق، 56 لاپتا

ویب ڈیسک
پیر, ۱۹ جنوری ۲۰۲۶

شیئر کریں

عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر
ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے حصہ لیا،لاشوں کی شناخت ڈی این اے سے ہوگی، سی پی ایل سی ہیلپ ڈیسک قائم

(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے مصروف ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ آگ نے پورے شہر کو غم اور بے بسی میں مبتلا کر دیا، جہاں خوفناک آتشزدگی کے باعث تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا اور قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔آگ کی شدت کے باعث عمارت میں گہری دراڑیں پڑ چکی ہیں اور اسے انتہائی خطرناک قرار دے دیا گیا ہے۔ اسی کربناک صورتحال میں متاثرہ تاجر گل پلازہ آگ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور بلند آواز میں اذانیں دینا شروع کر دیں۔ اذانوں کی گونج نے فضا کو سوگوار کر دیا، ہر آنکھ نم اور ہر دل لرزتا ہوا دکھائی دیا۔ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازا شاپنگ مال میں رات گئے لگنے والی آگ پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا،آتشزدگی کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق اور 56 افراد لاپتا ہیں، آگ سے 30 افراد زخمی ہیں جن میں سے 18 کی حالت نازک ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازا میں رات سوا دس بجے آگ بھڑک اٹھی جو بڑھتی ہی چلی گئی، آتشزدگی سے عمارت کے دو حصے گرگئے جس میں 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔اسپتالوں زسے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھوئیں سے حالت غیر ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا، دو فائر فائٹرز ارشاد اور بلال زخمی ہوئے جو پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں، تیس افراد زخمی ہوئے جن میں سے 13 برنس سیںٹر، پندرہ اس کے ٹراما سینٹر میں اور دو جناح اسپتال میں زیر علاج ہیں۔چھیپا ذرائع کے مطابق جاں بحق افراد میں کاشف ولد یونس عمر 40 سال، فراز ولد ابرار عمر 55 سال، محمد عامر ولد نامعلوم عمر 30 سال، فرقان ولد شوکت علی عمر 25 سال اور دیگر شامل ہیں۔اسی طرح زخمیوں میں حسیب ولد وسیم عمر 25 سال، وسیم ولد سلیم عمر 20 سال، دانیال ولد سراج عمر 20 سال، صادق ولد نامعلوم عمر 35 سال، حمزہ ولد محمد علی عمر 22 سال، رحیم ولد گل محمد عمر 25 سال، فہد ولد محمد ایوب عمر 20 سال، جواد ولد جاوید عمر 18 سال، ایان ولد نامعلوم عمر 25 سال، عبداللہ ولد ظہیر عمر 20 سال، عثمان ولد اصغر علی عمر 20 سال، فہد ولد حنیف عمر 47 سال، زین ولد عبداللہ عمر 23 سال، نادر ولد نامعلوم عمر 50 سال اور دیگر شامل ہیں۔کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ آگ پر نوے فیصد تک قابو پا لیا ہے، کچھ دیر بعد کولنگ کا عمل شروع کردیں گے۔ڈپٹی کمشنر کو لوگوں نے شکایات درج کرائی ہیں کہ تاحال 56 افراد لاپتا ہیں جبکہ صدر گل پلازا تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہوسکتے ہیں۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا ہے کہ گل پلازا میں تیسرے درجے کی آتشزدگی کا واقعہ ہوا، پولیس، سیکیورٹی ادارے اور ریسکیو ٹیمیں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں مصروف عمل ہیں، آگ پر کافی حد تک قابو پالیا ہے، سندھ حکومت کی ہدایت پر ساؤتھ زون پولیس نے ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔انہوں ںے بتایا کہ لاپتا افراد سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں، حادثے میں رات سے اب تک 6 لاشیں نکال لی گئی ہیں جو کہ شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کردی ہیں،ریسکیو اہلکار فرقان بھی شہدا میں شامل ہے، 22 زخمی سول اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، گل پلازا میں 1200 دکانیں موجود تھیں۔ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق گل پلازا کے اطراف پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے، ریسکیو ٹیموں کے لیے راستے کلیٔر رکھے جا رہے ہیں، آگ لگنے کی اصل وجہ کولنگ کے بعد تحقیقات میں سامنے آئے گی۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق عمارت میں آگ رات گئے لگی، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا گیا، گل پلازا کے قریب عقبی حصہ گرنے سے ایک فائر فائٹر دب کر جاں بحق ہوا، شہر بھر سے 20 سے زائد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آپریشن میں مصروف ہیں، عمارت کے باہر دو اسنارکل بھی آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ عمارت کی صورتحال مخدوش ہے اس لیے عمارت کے اندر داخل نہیں ہوا جاسکتا، عمارت سے ملبہ ہٹانے کے بعد صورتحال واضح ہوسکے گی۔چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دے کر شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کرلیے گئے ہیں، پھنسے ہوئے افراد کو اسنارکل کی مدد سے نکالا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق شاپنگ پلازا پر لگی آگ تیسری منزل تک پہنچ گئی جبکہ گل پلازا میں بیسمنٹ مارکیٹ بھی موجود ہے۔ آگ کے باعث عمارت خستہ حال ہو چکی اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔سی پی ایل سی شناخت پروگرام کی ٹیم نے سول اسپتال ٹراما سینٹر کے باہر کیمپ لگادیا۔ انچارج عامر حسن کے مطابق متاثرین اپنے لاپتا پیاروں سے متعلق تفصیلات سی پی ایل سی ہیلپ ڈیسک پر فراہم کرسکتے ہیں، شناخت ٹیم سانحات میں جاں بحق افراد کی درست شناخت اور ورثاء کا سراغ لگانے کا کام انجام دیتی ہے انچارج کے مطابق ملبے اور عمارت میں اب بھی کئی افراد کی موجودگی کا خدشہ ہے، اب تک 6 لاپتا افراد کے لواحقین نے رابطہ کرکے ان کی تفصیلات جمع کرائی ہیں، سی پی ایل سی پروگرام ناقابل شناخت لاشوں کی ڈی این اے کی مدد سے شناخت کو ممکن بناتا ہے، ماضی میں پی آئی اے طیارہ حادثہ، سانحہ بیلا، نوری آباد اور دیگر میں جاں بحق افراد کی لاشوں کی شناخت اس ہی ٹیم نے ممکن بنائی تھی۔ترجمان ریسکیو 1122 حسان الحسیب خان نے بتایا کہ گل پلازا کے قریب دکانوں میں آتشزدگی کی اطلاع ملی جس کے بعد فائر اینڈ ریسکیو ٹیم مع ایمبولینس اور فائر بریگیڈ ٹرک جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی۔تفصیلات کے مطابق رات 10:15 بجے سے لگنے والی آگ پر قابو پانے کی فائر بریگیڈ کو کوششیں جاری ہیں لیکن ریسکیو حکام کی کوششوں کے باوجود آگ دوبارہ بھڑک جاتی ہے۔رپورٹر کے مطابق فائر فائٹرز اور ریسکیو حکام ابھی تک عمارت کے اندر داخل نہیں ہو سکے جس سے آگ کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ عمارت کے ستون وغیرہ ٹوٹ کر گرگئے۔ترجمان واٹر بورڈ نے بیان میں بتایا کہ گل پلازا میں آتشزدگی کے واقعے پر فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے واٹر کارپوریشن سے فوری مدد طلب کی اور سی ای او احمد علی صدیقی کی ہدایت پر نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی ۔انہوں نے کہا کہ واٹر کارپوریشن کی جانب سے فوری طور پر واٹر ٹینکرز جائے وقوع پر روانہ کردیے گئے، انچارج ہائیڈرنٹس سیل محمد صدیق تنیو فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام سے مسلسل رابطے میں رہے۔ترجمان نے بتایا کہ فوکل پرسن سی ای او برائے ہائیڈرنٹس سیل شہباز بشیر آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں، آگ بجھانے کے عمل میں فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور واٹر کارپوریشن فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے۔ترجمان واٹر بورڈ کا کہنا تھا کہ آتشزدگی پر مکمل قابو پانے تک واٹر ٹینکرز کی فراہمی جاری رہے گی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ریسکیو اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں