عارف بلڈر بسم اللہ ایکسٹینشن کے نام سے دریا کی زمین ہڑپ
شیئر کریں
عدالت اور ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے احکامات نظرانداز،ممنوعہ علاقے میں تعمیرات
ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور مختیارکار کی چشم پوشی،شہریوں کی فوری نوٹس کی اپیل
(رپورٹ: اظہر رضوی)لطیف آباد حیدرآباد میں کچے کی زمینوں پر عارف بلڈر کی غیر قانونی سرگرمیاں ایک بار پھر زوروں پر ہیں، جہاں عدالت اور ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے واضح احکامات کے باوجود ممنوعہ علاقے میں تعمیرات تیزی سے جاری ہیں۔ شہریوں کے مطابق دریا کے قریب کچے کی زمین پر ’’بسم اللہ ایکسٹینشن‘‘ کے نام سے نئی تعمیرات شروع کر دی گئی ہیں، گویا قانون اور ریاستی رٹ کو کھلا چیلنج دیا جا رہا ہو۔مقامی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں سابق ڈی جی ایچ ڈی اے فواد سومرو نے عارف بلڈر کی تمام رہائشی اسکیمیں منسوخ کرکے تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی، جبکہ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی کچے کی زمین پر ہر قسم کی کمرشل و رہائشی تعمیرات پر سخت پابندی عائد کر رکھی تھی۔تاہم ان احکامات کے باوجود بلڈر مافیا کی جانب سے تعمیراتی سرگرمیوں کی بحالی نے عوام میں شدید غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعدد شکایات کے باوجود مختیارکار لطیف آباد علی شیر بدرانی، اسسٹنٹ کمشنر سعود لنڈ اور ڈپٹی کمشنر کی جانب سے کوئی عملی کارروائی سامنے نہیں آئی، جس سے شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ افسران مبینہ طور پر اپنے حصے کا مال بٹورنے کے بعد خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔شہریوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ نمود و نمائش کی شوقین سوشل مافیا بھی اس سنگین غیر قانونی سرگرمی پر مکمل طور پر خاموش ہے، جس سے شکوک و شبہات مزید گہرے ہو رہے ہیں۔رہائشیوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سیکریٹری بورڈ آف ریونیو سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کچے کی زمینوں کی غیر قانونی فروخت، قبضہ، ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل اور سرکاری ریکارڈ پر حملے کی مکمل تحقیقات کرکے ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔علاقہ مکینوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو غیر قانونی تعمیرات نہ صرف ماحول، نکاسی آب کے نظام اور دریا کنارے کے قدرتی توازن کو متاثر کریں گی بلکہ مستقبل میں لطیف آباد کے لیے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ شہریوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر انتظامیہ نے آنکھیں بند رکھیں تو وہ وسیع پیمانے پر احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔


