سندھ بلڈنگ، رام سوامی میں متنازع تعمیرات ، مزمل حسین ہالیپوٹو کی چشم پوشی
شیئر کریں
ساتویں منزل کی تیاریوں کے باوجود متعلقہ حکام خاموش، شہریوں کے تحفظات ظاہر
پلاٹ نمبر آر ایس 4/28کی مخدوش عمارت پر نئی تعمیرات سے بڑے حادثے کا خطرہ
رام سوامی کے گنجان آباد علاقے میں واقع پلاٹ نمبر آر ایس 4/28ایک مرتبہ پھر متنازع تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث توجہ کا مرکز بن گیا ہے ، جہاں مبینہ طور پر ساتویں منزل کی تعمیر کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس حوالے سے شہریوں کی جانب سے مسلسل اٹھائے جانے والے تحفظات اور میڈیا رپورٹس کے باوجود سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی بے بسی یا مبینہ خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے ۔مقامی ذرائع کے مطابق مذکورہ عمارت کی چھت فروخت کیے جانے کے بعد اضافی فلور کی تعمیر کے لیے سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ عمارت کی موجودہ فنی حالت اور اسٹرکچرل صلاحیت کے حوالے سے پہلے ہی سنگین خدشات موجود ہیں۔ اس کے باوجود اگر تعمیراتی کام جاری ہے تو یہ صورتحال نہ صرف حفاظتی تقاضوں بلکہ متعلقہ قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے ۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر تمام قانونی تقاضے مکمل ہیں تو متعلقہ ادارے اس حوالے سے وضاحت کیوں نہیں کر رہے ، اور اگر مطلوبہ منظوریوں اور اسٹرکچرل کلیئرنس کے بغیر تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں تو انہیں روکنے کے لیے کارروائی کیوں عمل میں نہیں لائی جا رہی۔علاقہ مکینوں کے مطابق خبر سامنے آنے کے بعد توقع تھی کہ ایس بی سی اے کی جانب سے فوری انسپکشن، تکنیکی جانچ پڑتال اور دستاویزات کی تصدیق کا عمل شروع کیا جائے گا، تاہم تاحال ایسی کسی کارروائی کے شواہد سامنے نہیں آئے ۔ اس صورتحال نے شہریوں میں یہ تاثر پیدا کر دیا ہے کہ یا تو متعلقہ ادارے اس معاملے میں غیر مؤثر ثابت ہو رہے ہیں یا پھر جان بوجھ کر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔مقامی افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر عمارت کی بنیادیں اور ڈھانچہ اضافی بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہ ہوئے تو کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے ، جس کے نتیجے میں نہ صرف مذکورہ عمارت بلکہ اطراف کی متعدد رہائشی و تجارتی عمارتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ رام سوامی جیسے گنجان آباد علاقے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے اثرات انتہائی سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔شہریوں، سماجی کارکنوں اور مقامی نمائندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ حکام فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیں، پلاٹ نمبر آر ایس 4/28 پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں، منظور شدہ نقشوں، اسٹرکچرل فٹنس رپورٹ اور دیگر قانونی دستاویزات کی چھان بین کریں اور اگر کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کسی ممکنہ سانحے سے قبل شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔واضح رہے کہ خبر میں شامل معلومات مقامی ذرائع اور علاقہ مکینوں کے بیانات پر مبنی ہیں۔ متعلقہ اداروں یا ذمہ داران کا مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے بھی شائع کیا جائے گا۔


