حیدرآباد،مصطفی بنگلوز اسکینڈل کا تنازع شدت اختیار کر گیا
شیئر کریں
کروڑوں روپے کی اراضی پر مبینہ قبضے ، جعلسازی اور غیر قانونی تعمیرات کے الزامات
عارف بلڈر کے خلاف متاثرہ فریق کی عدالت میں 22-A، 22-Bکی درخواست دائر
(رپورٹ: عمران سعید)حیدرآباد کے علاقے ہالا ناکہ کے قریب دیہہ مرزا پور میں قائم مصطفی بنگلوز ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے ۔ عارف بلڈر اور دیگر افراد کے خلاف کروڑوں روپے مالیت کی اراضی پر مبینہ قبضے ، جعلسازی، ریکارڈ میں ردوبدل، دھوکہ دہی اور غیر قانونی تعمیرات کے الزامات کے بعد معاملہ سیشن کورٹ حیدرآباد تک پہنچ گیا ہے ، جہاں متاثرہ شہری نے فوجداری ضابطہ کار کی دفعات 22-Aاور 22-Bکے تحت درخواست دائر کر دی ہے ۔درخواست گزار کے مطابق ان کی آبائی اور زرعی اراضی، جو سروے نمبر 249، 107اور دیگر متعلقہ ریکارڈ میں درج ہے ، پر مبینہ طور پر بااثر عناصر نے قبضہ کر رکھا ہے ۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ زمین کا تنازع پہلے ہی عدالت میں زیر سماعت ہے ، اس کے باوجود مبینہ طور پر تعمیراتی سرگرمیاں جاری رکھی جا رہی ہیں اور اصل مالکان کے حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے ۔متاثرین کا کہنا ہے کہ دیہہ مرزا پور کے سروے نمبر 249، 281، 282، 283، 246، 52، 78، 79، 70 اور 250سمیت متعدد اراضیات کے ریکارڈ میں مبینہ طور پر ردوبدل کیا گیا، جبکہ اصل مالکان اور ورثاء کی رضامندی کے بغیر زمینوں کی ملکیت اور اندراجات تبدیل کر کے مصطفی بنگلوز ہاؤسنگ اسکیم کی بنیاد رکھی گئی۔متاثرہ خاندانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ عارف بلڈر کی جانب سے نہ صرف متنازع زمینوں پر قبضے کی کوششیں کی جا رہی ہیں بلکہ اصل مالکان کو دباؤ میں لانے اور ہراساں کرنے کے لیے بھی مختلف حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ متاثرین کے مطابق حالیہ تصاویر اور شواہد میں پولیس موبائل کی موجودگی دیکھی جا سکتی ہے ، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ زمین پر قبضے اور تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران پولیس کی موجودگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے ۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ خود کو عدم تحفظ کا شکار محسوس کر رہے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ بااثر عناصر کی پشت پناہی میں ان کے قانونی حقوق متاثر کیے جا رہے ہیں۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ متعلقہ پولیس کو فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے ، غیر قانونی تعمیرات رکوانے ، قبضے کی کوششوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعدد شکایات اور درخواستوں کے باوجود متعلقہ اداروں نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ذرائع کے مطابق اس پورے معاملے میں محکمہ ریونیو، لینڈ ریکارڈ، حیدرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (HDA)، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، مختیارکار آفس، اسسٹنٹ کمشنر آفس اور دیگر اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور شفاف تحقیقات کی جاتیں تو نہ اصل مالکان اپنی زمینوں سے محروم ہوتے اور نہ ہی پلاٹ خریدنے والے شہری قانونی پیچیدگیوں کا شکار بنتے ۔متاثرین نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، وزیر اعلیٰ سندھ، چیئرمین اینٹی کرپشن، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، کمشنر حیدرآباد، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ زمینوں کے ریکارڈ کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے ، مبینہ جعلسازی اور ریکارڈ ٹیمپرنگ میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ، اور اصل مالکان و متاثرہ شہریوں کو فوری انصاف فراہم کیا جائے ۔


