میگزین

Magazine
تازہ ترین : عمران خان کی حکومت ہٹانے سے متعلق سائفر امریکی میڈیا میں ہی افشا ہو گیا فیلڈ مارشل کا دورۂ تہرن،اہم امریکی پیغام پہنچا دیا،امریکا ، ایران مذاکرات اگلے ہفتے اسلام آباد میںہوں گے تحریک انصاف کااسمبلیوں سے استعفے دینے پرغور،محمود اچکزئی ، ناصر عباس سے اختیارات واپس لینے کیلئے دبائو پی ای سی ایچ ایس، امتحانی مرکز پر چیئرمین میٹرک بورڈ کا چھاپہ، سینٹر سپرٹنڈنٹ معطل وزیراعلیٰ سندھ کا محکمہ خوراک کو گندم خریداری مہم تیز کرنے کا حکم آبنائے ہرمزکی ناکہ بندی ، ملک میں گیس قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ قبضہ مافیاز کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا،وزیر داخلہ سندھ کراچی کو حق دو کے بینرز جو دکاندار بنائیں گے ان کو سِیل کر دینگے، مرتضیٰ وہاب افغان طالبان کی باجوڑ میں آبادی پر گولہ باری ،2بچوں سمیت 3 افرادشہید غزہ میں اسرائیل کی جنگ بندی خلاف ورزیاں ، تازہ حملے میں11فلسطینی شہید سندھ بلڈنگ، اسکیم 24گلشن اقبال میں غیر قانونی تعمیرات کا راج

ای پیج

e-Paper
حکومت 27 ویں ترمیم لانے کیلئے متحرک(اتحادیوں سے حمایت کی درخواست)

حکومت 27 ویں ترمیم لانے کیلئے متحرک(اتحادیوں سے حمایت کی درخواست)

ویب ڈیسک
منگل, ۴ نومبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

وزیراعظم نے پی پی سے 27 ویں ترمیم کی حمایت کی درخواست کر دی، بلاول کی تصدیق، ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اوراے این پی سمیت جے یو آئی ایف سے بھی رابطوں کا فیصلہ
فیلڈ مارشل کاعہدہ آئینی بنانے کیلئے آرٹیکل243 میں ترمیم کی جائے گی،این ایف سی ایوارڈ میں صوبائی حصے کا تحفظ ختم کرنا اور الیکشن کمیشن بھی مجوزہ ترمیم کا حصہ ہے،ذرائع

حکومت 27 ویں آئینی ترمیم لانے کیلئے متحرک ہوگئی۔27 ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 243 میں ترمیم ہوگی جس کا مقصد آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین میں شامل کرنا اور اسے تسلیم کرنا ہے۔مجوزہ ترمیم میں آئینی عدالتوں کا معاملہ بھی شامل ہے، ایگزیکٹو کی مجسٹریل پاور کی ڈسٹرکٹ لیول پر ترسیل بھی مجوزہ ترمیم میں شامل ہوگی، اس کے ساتھ پورے ملک میں ایک ہی نصاب کا ہونا بھی ستائیسویں ترمیم کی تیاری میں زیر غور آنے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے 27 ویں آئینی ترمیم کیلئے اتحادی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔پیپلز پارٹی کے بعد ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اوراے این پی سمیت جے یو آئی ایف سے بھی رابطوں کا فیصلہ کیاگیاہے۔ذرائع کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم کے اہم نکات اور ابتدائی خدوخال پر بات چیت جاری ہے ،این ایف سی ایوارڈ اور الیکشن کمیشن بھی مجوزہ ترمیم کا حصہ ہے۔ ذرائع کے مطابق آرٹیکل 243 میں ترمیم ،ایجوکیشن کو واپس وفاق میں لانے ،آئینی عدالت کے قیام اور دیگر نکات بھی مجوزہ آئینی ترمیم کا حصہ ہیں۔حکومتی ذرائع کے مطابق این ایف سی ایوارڈ اور الیکشن کمیشن بھی مجوزہ ترمیم کا حصہ ہے۔ دوسری جانب چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے وزیراعظم شہبازشریف نے 27ویں ترمیم کی حمایت کی درخواست کی ہے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے لکھا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ ن کے وفد نے صدر آصف علی زرداری اور مجھ سے ملاقات کی۔انہوں بتایا کہ وزیراعظم نے پیپلز پارٹی سے 27 ویں ترمیم کی حمایت کی درخواست کی، ترمیم میں آئینی عدالت کا قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس اور ججز کے تبادلے شامل ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے مزید بتایا ہے کہ این ایف سی میں صوبائی حصے کا تحفظ ختم کرنا بھی 27 ویں ترمیم میں شامل ہے، تجاویز میں آرٹیکل 243 میں ترمیم، تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی وفاق میں واپسی کی ترمیم بھی شامل ہیں۔چیٔرمین پیپلز پارٹی نے بتایا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں ای سی پی کی تقرری پر ڈیڈ لاک توڑنا بھی شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی قطر سے واپسی پر پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 6 نومبر کو ہو گا جس میں پارٹی پالیسی طے کی جائے گی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں