گڈ گورننس کے لیے کچھ کرنا ہو گا، احمد شریف چودھری
شیئر کریں
محسن نقوی کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کو کرنا ہے
گڈ گورننس ملکی استحکام و سیکیورٹی کیلئے ناگزیر ،آبادی بڑھ گئی صوبے وہیں کے وہیں ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں سے متعلق محسن نقوی کا بیان انکی ذاتی رائے ہے، نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا فیصلہ ہمیں نہیں عوام کو کرنا ہے۔ دوران پریس کانفرنس صحافی نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹ بنانے کے بیان سے متعلق سوال کیا۔ جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ محسن نقوی کی ذاتی رائے ہے میں اس پر رائے زنی نہیں کرنا چاہتا تاہم پھر بھی اتنا ضرور کہوں گا کہ گڈ گورننس پاکستان کے استحکام اور سیکیورٹی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات موجود ہیں جس پر تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط ہیں اس پر عمل کیوں نہیں ہورہا؟ ایک پوائنٹ یہاں ڈسکس کرلیا، بقیہ 13 نکات بھی تو ہیں جن میں نارکوٹکس، اسمگلنگ، افغان مہاجرین ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہے اور دیگر نکات ہیں، یہ سب گڈ گورننس پر منحصر ہے اسے بہتر کیے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 1972ء میں جب آبادی 7 کروڑ تھی تو صوبے چار تھے، اب 24 کروڑ ہے تب بھی صوبے چار ہیں، آبادی بڑھ گئی اور صوبے وہیں کے وہیں ہیں آگے کیسے چلنا ہے تو گڈ گورننس کو بہتر کرنے کے لیے ہمیں سوچنا ہوگا،سیاست دانوں سمیت تمام جماعتوں کی خواہش ہے کہ مسائل حل ہوں مگر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا فیصلہ ہمیں نہیں عوام کو کرنا ہے عوام اگر گورننس سے مطمئن ہیں تو ٹھیک ورنہ آئین کے مطابق فیصلہ کریں۔


