میگزین

Magazine
تازہ ترین :  ڈبلیو ڈبلیو ای کراؤن جیول: رومن رینز نے سمی زین کو ہرا کر مینز کراؤن جیول چیمپئن شپ  جیت لی فارمولا ون نے ساؤ پالو گراں پری کو 2035 تک کیلنڈر میں برقرار رکھنے کا معاہدہ کر لیا مکسڈ مارشل آرٹس، وسیم اکرم کے صاحبزادے تیمور اکرم نے امریکی حریف کو چت کر دیا، مسلسل چوتھی فتح ٹیم سلیکشن کا کام متعلقہ حکام کا ہے، ہر بات یہاں بتانا ضروری نہیں، بابراعظم اپوزیشن کا سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کی تحقیقات کے لیے تحریک التوا لانے کا فیصلہ دنیا کی بلند ترین چیخ کا اعزاز برطانوی خاتون کے نام، نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں شامل عالمی مالیاتی منڈیوں میں ٹیکنالوجی اتارچڑھاؤ اور بلند شرحوں کا خطرہ ایران کے تجارتی راستوں پر دباؤ اور توانائی کی قیمت: پاکستان کا درآمدی بل پھر مرکز میں ایران سے متعلق ڈالر پابندیوں کی توسیع: ترسیلات، کمپلائنس اور علاقائی تجارت کا خطرہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی ممکنہ 1.2 ارب ڈالر قسط: ریزروز اور اصلاحات کا اگلا امتحان

ای پیج

e-Paper
ٹرمپ کا ایران پر جنگ وسیع کرنے پر غور،دو ہفتوں تک جاری رہنے والی فضائی مہم کا امکان

ٹرمپ کا ایران پر جنگ وسیع کرنے پر غور،دو ہفتوں تک جاری رہنے والی فضائی مہم کا امکان

جرات ڈیسک
جمعه, ۳۱ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک وسیع فضائی مہم کا منصوبہ تیار کیا ہے، باخبر ذرائع

………………………..

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف اپنے فوجی آپریشنز کو ایک شدید فضائی مہم کے ذریعے وسعت دینے کے آپشن پر غور کر رہی ہے، جو 10 دن سے دو ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق با خبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ امریکی سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک وسیع فضائی مہم کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

اس کا مقصد پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ سینٹرز، میزائل اور ڈرون تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ محدود ضربیں ایرانی حملوں کو روکنے یا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو درپیش دھمکیوں سے تہران کو باز رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔

کوپر نے ایک تیز تر آپشن پیش کیا جس کا مقصد ایران کی میزائل صلاحیتوں کو اتنی بڑی حد تک کم کرنا ہے کہ مزید امریکی میزائل شکن ہتھیاروں کے استعمال کی ضرورت کم سے کم ہو جائے۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ وہ دو متوازی راستوں پر غور کر رہے ہیں : پہلا 10 سے 14 دن کی فضائی مہم کا آغاز اور دوسرا ایک محدود عسکری ردِ عمل جو سفارتی راستے کو برقرار رکھے۔

امریکی صدر نے گذشتہ ہفتے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین، اور سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر کے ساتھ ملاقات میں ان آپشنز پر تبادلہ خیال کیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق انتظامیہ کے اندر اصل اختلاف آپریشن کے حجم اور اس کی عسکری لاگت پر ہے۔

کوپر ان حملوں کو وسعت دینے کے حق میں ہیں تاکہ ایرانی میزائل انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا جا سکے، جبکہ جنرل ڈین کین زیادہ محتاط موقف رکھتے ہیں۔ کین کا خبردار کرنا ہے کہ ایک بڑی مہم امریکہ کے میزائل شکن ذخائر کو خالی کر سکتی ہے، جن کی ضرورت دنیا کے دیگر علاقوں میں اپنے اڈوں اور اتحاد یوں کے تحفظ کے لیے بھی ہے۔

دوسری طرف پینٹاگان کے ترجمان نے واضح کیا کہ دفاعی قیادت صدر کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے یکسو ہے۔ فوکس نیوز کے مطابق ٹرمپ کو ایران کے خلاف سکیورٹی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے سے متعلق مختلف تجاویز پیش کی جا چکی ہیں۔

اس سے قبل سینٹ کام نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن میں کمانڈ سینٹرز، میزائل و ڈرون سائٹس اور ساحلی دفاعی تنصیبات شامل ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی طرف سے امریکی افواج پر کیے گئے بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی، جنہیں کامیابی سے فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا تھا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں