پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی ممکنہ 1.2 ارب ڈالر قسط: ریزروز اور اصلاحات کا اگلا امتحان
شیئر کریں
8 نومبر کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دسمبر میں پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی قسط پر غور کر سکتا ہے: تقریباً 1 ارب ڈالر ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی اور تقریباً 210 ملین ڈالر ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت۔ یہ منظوری خودکار نہیں؛ اس سے پہلے اکتوبر میں طے پانے والا اسٹاف لیول معاہدہ بورڈ کی منظوری کا منتظر ہے۔
یہ خبر پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کے لیے اہم ہے کیونکہ قسط ملنے سے زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی قرض ادائیگی کی صلاحیت اور دوسرے کثیرالجہتی و تجارتی فنانسرز کے اعتماد کو سہارا ملے گا۔ رپورٹ میں 30 اکتوبر تک مجموعی مائع ذخائر 26.86 ارب ڈالر اور اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.56 ارب ڈالر بتائے گئے ہیں؛ اس لیے نئی قسط ادائیگیوں کے کیلنڈر کے مقابلے میں ایک اضافی حفاظتی تہہ بن سکتی ہے۔
لیکن اس پیش رفت کو محض فنڈنگ نیوز سمجھنا غلط ہوگا۔ آئی ایم ایف کی موجودہ شراکت ٹیکس نیٹ وسعت، توانائی شعبے کی اصلاح، سرکاری اداروں کی حکمرانی، سماجی اخراجات کی بہتر ہدف بندی اور موسمیاتی لچک جیسے موضوعات سے بندھی ہوئی ہے۔ بیرونی توانائی قیمتیں بلند رہیں تو پاکستان کے درآمدی بل، گردشی قرضے اور صارفین پر ٹیرف کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ چنانچہ قسط کے ساتھ اصل سوال یہ رہے گا کہ حکومت مالی نظم برقرار رکھتے ہوئے کم آمدنی والے گھرانوں کو کس حد تک مؤثر تحفظ دیتی ہے۔
قابل توجہ نکات: بورڈ اجلاس کی باضابطہ تاریخ، کسی پیشگی اصلاحی اقدام یا ویور کا مطالبہ، نومبر کے ذخائر، اور توانائی و ٹیکس اقدامات کی رفتار۔


