ایران کے تجارتی راستوں پر دباؤ اور توانائی کی قیمت: پاکستان کا درآمدی بل پھر مرکز میں
شیئر کریں
7 نومبر کو شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق امریکا ایران کی بحری پابندی کے ساتھ اس کی زمینی تجارت پر بھی زیادہ دباؤ ڈالنے کے امکانات دیکھ رہا ہے۔ رپورٹ نے ایران کے مبینہ متبادل درآمدی نیٹ ورک، پابندیوں سے بچاؤ اور 2025 سے اب تک کم از کم 2 ارب ڈالر کے سازوسامان کی درآمد کا ذکر کیا۔
اقتصادی اعتبار سے اس کا اثر فوری پابندی سے زیادہ غیر یقینی کے ذریعے آتا ہے۔ خلیج اور آبنائے ہرمز کے گرد رسک پریمیم بڑھنے سے خام تیل، ریفائنڈ ایندھن، شپنگ انشورنس اور فریٹ کی لاگت بلند ہو سکتی ہے۔ آسٹریلیا کے مرکزی بینک نے بھی اپنے تازہ نومبر بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی رکاوٹوں کے بعد تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور بلند قیمتیں دیر تک رہنے کا خطرہ ہے۔
پاکستان تیل اور گیس کا خالص درآمد کنندہ ہے، اس لیے خام تیل یا ایل این جی کی بلند قیمت براہِ راست درآمدی بل، کرنٹ اکاؤنٹ، روپے پر دباؤ اور بجلی و ایندھن کے نرخوں تک پہنچتی ہے۔ اگر حکومت قیمتوں کو مکمل منتقل نہ کرے تو مالیاتی خسارہ یا گردشی قرض بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے؛ اگر مکمل منتقل کرے تو مہنگائی اور حقیقی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ بیرونی جھٹکا آئی ایم ایف پروگرام کے مالی اہداف اور توانائی اصلاحات کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔
قابل توجہ نکات: آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، برینٹ قیمت، ایل این جی اسپاٹ مارکیٹ، بحری انشورنس پریمیم، اور پاکستان کے موسمِ سرما کے ایندھن خریداری معاہدے۔


