محکمہ خوراک، بدعنوانیوں میں ملوث 8افسران ملازمت سے برطرف
شیئر کریں
سرکاری گندم میں خردبرد، غیر قانونی اجرا و ترسیل، ملاوٹ، ذخائر کو نقصان پہنچانے پر کارروائی
سات مقدمات میں افسران سے 5 ارب 12کروڑ روپے وصول کرنے کے احکامات جاری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محکمہ خوراک سندھ نے سرکاری گندم میں خردبرد، بڑے پیمانے پر قلت، غیر قانونی اجرا و ترسیل، ملاوٹ اور سرکاری ذخائر کو نقصان پہنچانے پر کارروائی کرتے ہوئے 8 افسران کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے، جبکہ 7 مقدمات میں محکمہ خوراک کے افسران سے 5 ارب 12 کروڑ روپے وصول کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزمان کی ہدایات پر بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت عمل میں لائی گئی ہے ۔
قواعد کے تحت محکمانہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد فوڈ سپروائزر محمد حسن دل، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر محمد منور آرائیں، فوڈ انسپکٹر محمد عباس میمن، فوڈ انسپکٹر ظہیر عباس شر، فوڈ انسپکٹر عمران علی مگسی، فوڈ سپروائزر قربان علی مگسی، سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر غلام مصطفی میرانی اور فوڈ سپروائزر محمد مٹھل مگسی کو ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے ۔ سب سے بڑی ریکوری فوڈ انسپکٹر ظہیر عباس شر کے خلاف 2ارب 8کروڑ 82لاکھ 34ہزار 839روپے مقرر کی گئی ہے ، جو ضلع خیرپور میں پی آر سی ٹھری میرواہ، پی آر سی سیٹھارجہ اور ڈبلیو پی سیز سکندرآباد و چونڈکو میں گندم کی قلت سے متعلق ہے ۔ فوڈ انسپکٹر محمد عباس میمن سے ضلع سانگھڑ کے پی آر سیز سانگھڑ، نوآباد اور کھپرو میں سرکاری گندم کے نقصان کی مد میں 1ارب 5کروڑ 56لاکھ 30ہزار 808روپے وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، جبکہ فوڈ سپروائزر محمد مٹھل مگسی کے خلاف شکارپور کیس میں 84کروڑ 91لاکھ 61 ہزار 882روپے کی ریکوری مقرر کی گئی ہے ۔ فوڈ سپروائزر محمد حسن دل کو ضلع دادو کے پی آر سی رادھن اور ڈبلیو پی سیز سیتا ولیج، خانپور، بٹ سرائی اور فریدآباد میں گندم کی قلت و خردبرد پر 70کروڑ 4لاکھ 53ہزار 297روپے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔ فوڈ انسپکٹر عمران علی مگسی سے پی آر سی خداآباد کے معاملے میں 31کروڑ 8 لاکھ 37ہزار 583روپے ، جبکہ فوڈ سپروائزر قربان علی مگسی سے کے این شاہ کے سرکاری گندم ذخائر میں قلت پر 6کروڑ 75لاکھ 15ہزار 209روپے وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر محمد منور آرائیں کو ایک غیر فعال فلور مل کو گندم جاری کرنے اور نگرانی میں ناکامی کے معاملے میں 5کروڑ 65لاکھ 93ہزار روپے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ۔ آٹھویں مقدمے میں سابق ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر غلام مصطفی میرانی کو پی آر سی کشمور اور کندھ کوٹ کے انچارجز کے ساتھ مبینہ ملی بھگت سے بڑے پیمانے پر گندم کی قلت میں ملوث پائے جانے پر برطرف کیا گیا، تاہم ان سے وصول کی جانے والی حتمی رقم کا تعین محکمہ اینٹی کرپشن سندھ کی تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔ اس طرح 7افسران کے خلاف مقرر کردہ مجموعی ریکوری 5ارب 12کروڑ 84لاکھ 26 ہزار 618روپے بنتی ہے ، جبکہ تمام متعلقہ معاملات کو سرکاری نقصان کی وصولی، سول مقدمات اور فوجداری تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں کو بھی بھیج دیا گیا ہے ۔ صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے کہا ہے کہ سرکاری گندم عوام کی امانت ہے ، جس کا مقصد صوبے میں غذائی تحفظ یقینی بنانا اور شہریوں کو مناسب قیمت پر آٹا فراہم کرنا ہے۔ سرکاری گندم کی چوری، خردبرد، غیر قانونی فروخت، نقل و حمل یا ملاوٹ میں ملوث ہر شخص کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔ ذمہ دار عناصر کو ملازمت سے برطرف کرنے کے ساتھ سرکاری نقصان کی ایک ایک پائی وصول اور فوجداری مقدمات چلائے جائیں گے۔
(رپورٹ:علی آزاد)


