باد شاہ ننگا ہے!
شیئر کریں
ہانس کرسچن اینڈرسن کی مشہور کہانی ‘‘بادشاہ کے نئے کپڑے’’ بظاہر بچوں کی ایک سادہ کہانی ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانی نفسیات، اقتدار، خوف، اجتماعی منافقت اور خوشامد پر لکھی گئی دنیا کی مختصر ترین مگر گہری سیاسی کتابوں میں سے ایک ہے۔بادشاہ کو دو فریب کار یقین دلاتے ہیں کہ انہوں نے اس کے لیے ایسے شاندار کپڑے بنائے ہیں جو صرف عقلمند اور اہل لوگوں کو دکھائی دیتے ہیں۔ بادشاہ کو کچھ دکھائی نہیں دیتا، مگر وہ اپنی کم عقلی ظاہر ہونے کے خوف سے خاموش رہتا ہے۔ درباری خاموش رہتے ہیں، وزیر خاموش رہتے ہیں، رعایا خاموش رہتی ہے۔ ہر شخص اپنے برابر والے کے چہرے کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ شاید صرف وہی بے وقوف ہے جو کپڑے نہیں دیکھ پا رہا۔ پھر ایک بچہ چیختا ہے:‘‘بادشاہ ننگا ہے!’’اور ایک لمحے میں پورا جھوٹ زمین پر آ گرتا ہے۔یہ صرف بادشاہ کے ننگے پن کی کہانی نہیں۔یہ انسان کے خوف کا پوسٹ مارٹم ہے۔انسان سچ کیوں نہیں بولتا؟کیونکہ انسان ہمیشہ صرف سچ کا طالب نہیں رہا؛ وہ تحفظ، قبولیت، مفاد اور سماجی مقام کا بھی طالب رہا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ طاقتور کے سامنے سچ بولنے سے عزت بھی جا سکتی ہے، ملازمت بھی، تعلق بھی، عہدہ بھی اور کبھی کبھی زندگی بھی۔اسی لیے تاریخ کے ہر دربار میں خوشامدی پیدا ہوئے۔خوشامدی دراصل طاقت کا پرستار نہیں ہوتا، وہ اپنی بقا کا ماہر ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ طاقتور کو کیا سننا پسند ہے، کس لمحے سر جھکانا ہے، کس وقت تالیاں بجانی ہیں اور کس وقت خاموش رہنا ہے۔وہ سچ کو نہیں پڑھتا، وہ طاقتور کے چہرے کو پڑھتا ہے۔اور یہی اس کی کامیابی ہے۔
فریڈرک نطشے نے انسانی ارادی طاقت کو سمجھتے ہوئے ہمیں یہ بتایا کہ انسان صرف زندہ رہنے کی خواہش نہیں رکھتا، وہ اثرانداز ہونے،
غالب آنے اور اپنی مرضی کو دنیا پر نافذ کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔ جب یہی خواہش اقتدار میں تبدیل ہوتی ہے تو ایک خطرہ پیدا ہوتا
ہے: طاقتور شخص اپنی طاقت کو حقیقت کا معیار سمجھنے لگتا ہے۔پھر جو وہ کہتا ہے، وہ درست۔جو وہ پسند کرتا ہے، وہ خوبصورت۔جو وہ مسترد کرتا ہے، وہ برا۔اور جو اس سے اختلاف کرے، وہ دشمن۔یہیں سے خوشامدی کا جنم ہوتا ہے۔خوشامدی طاقتور کو یہ یقین دلاتا ہے کہ دنیا ویسی ہی ہے جیسی طاقتور اسے دیکھنا چاہتا ہے۔یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں؛ یہ گہری نفسیاتی ضرورت ہے۔ہر طاقتور انسان کے اندر کہیں نہ کہیں ایک کمزور انسان چھپا ہوتا ہے جو اپنی عظمت کی تصدیق چاہتا ہے۔خوشامدی اسی کمزوری پر ہاتھ رکھتا ہے۔وہ کہتا ہے:آپ عظیم ہیں۔ آپ درست ہیں۔ آپ کے فیصلے تاریخی ہیں۔آپ کے مخالف جاہل ہیں۔آپ کی ناکامی دراصل کامیابی ہے۔آپ کے خلاف اٹھنے والی ہر
آواز سازش ہے۔اور یوں طاقتور شخص کے گرد ایک ایسا آئینہ گھر بن جاتا ہے جس میں ہر آئینہ اسے صرف خوبصورت دکھاتا ہے۔ مگر جس محل میں آئینے صرف تعریف دکھائیں، وہاں حقیقت مر جاتی ہے۔ابن خلدون نے اقتدار اور عصبیت کے عروج و زوال کو جس گہرائی سے سمجھا، اس میں ایک بنیادی حقیقت چھپی ہوئی ہے: طاقت جب اپنے اصل سماجی سہاروں سے کٹ جاتی ہے تو دربار، مراعات اور آسائشیں اس کے گرد ایک مصنوعی دنیا بنا دیتی ہیں۔حکمران عوام سے دور ہوتا جاتا ہے۔پھر اس تک عوام کی آواز نہیں پہنچتی۔اس تک صرف وہ آواز پہنچتی ہے جو دربار کے دروازے سے گزر سکتی ہے۔اور دربار میں سچ کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔خوشامد کی قیمت کم ہوتی ہے۔ اس لیے سچ باہر رہ جاتا ہے اور خوشامد اندر داخل ہو جاتی ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جہاں اقتدار اپنی ہی بنائی ہوئی کہانی کا قیدی بن جاتا ہے۔
ہنّا آرنٹ نے مطلق العنانیت کے مطالعے میں دکھایا کہ جب سیاسی نظام مسلسل جھوٹ کو حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے تو ایک وقت کے بعد انسان صرف جھوٹ سننے کا عادی نہیں ہوتا، بلکہ حقیقت کو پہچاننے کی اپنی صلاحیت بھی کھونے لگتا ہے۔یہ انتہائی خطرناک مرحلہ ہے۔ کیونکہ جھوٹ بولنے والا ایک شخص ہو تو جھوٹ ہے۔لیکن جب پورا معاشرہ جھوٹ کو دہرانے لگے تو جھوٹ ایک نظام بن جاتا ہے۔ پھر ایک
افسر حقیقت جانتے ہوئے غلط رپورٹ لکھتا ہے۔ایک صحافی حقیقت دیکھتے ہوئے خاموش رہتا ہے۔ایک دانشور سچ سمجھتے ہوئے مفاد کے
لیے تعریف کرتا ہے۔ایک سیاست دان غلطی دیکھتے ہوئے بھی تالیاں بجاتا ہے۔اور ایک عام آدمی سوچتا ہے:‘‘جب سب خاموش ہیں تو
میں کیوں بولوں؟’’یہی اجتماعی خاموشی ظلم کی سب سے مضبوط دیوار بن جاتی ہے۔یہاں فوکو کی طاقت کی نفسیات بھی ہمارے سامنے آتی
ہے۔ طاقت صرف حکم دینے والے کے ہاتھ میں نہیں ہوتی؛ وہ اداروں، زبان، بیانیے اور روزمرہ کے معمولات میں بھی پھیل جاتی ہے۔
انسان کو ہمیشہ بندوق سے خاموش نہیں کیا جاتا؛ کبھی اسے اس طرح تربیت دی جاتی ہے کہ وہ خود ہی وہ بات نہ کہے جسے کہنے سے نقصان ہو سکتا ہے۔یہ خود ساختہ خاموشی کسی بھی جبر سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔کیونکہ پھر حکمران کو خاموش کرانے کے لیے کسی پولیس کی ضرورت نہیں رہتی۔لوگ خود ایک دوسرے کو خاموش کراتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آمریت ہمیشہ صرف آمروں سے نہیں چلتی۔اسے چھوٹے چھوٹے خوف، چھوٹے چھوٹے مفاد اور چھوٹی چھوٹی خوشامدیں چلاتی ہیں۔تاریخ میں بڑے بڑے جرائم کے پیچھے کبھی صرف ایک ظالم شخص نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے ایسے لوگوں کی پوری قطار ہوتی ہے جو جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے، مگر اپنے ضمیر کو خاموش رکھنے کے لیے خود کو یہ سمجھاتے رہتے ہیں کہ ‘‘ہم کیا کر سکتے ہیں؟’’یہ جملہ انسانی تاریخ کے سب سے خطرناک جملوں میں سے ایک ہے:‘‘ہم کیا کر سکتے ہیں؟’’ اسی جملے نے بے شمار انسانوں کو ظلم کے تماشائی میں بدل دیا۔خوشامد دراصل ضمیر کی ایک خاموش تجارت ہے۔انسان اپنا سچ بیچتا ہے اور بدلے میں عہدہ لیتا ہے۔ اپنی آزادی بیچتا ہے اور بدلے میں مراعات لیتا ہے۔اپنی زبان بیچتا ہے اور بدلے میں قربت لیتا ہے۔پھر ایک دن اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کے پاس سب کچھ ہے، صرف اپنی آواز نہیں۔پاکستانی معاشرے میں اس نفسیات کو دیکھنا زیادہ مشکل نہیں۔ ہم نے برسوں سے ایسے سیاسی، سماجی اور ادارہ جاتی ماحول دیکھے ہیں جہاں طاقت کے قریب رہنا اصول سے زیادہ قیمتی سمجھا گیا۔ حکومت بدلتی ہے تو چہرے بدل جاتے ہیں، مگر دربار کی نفسیات اکثر وہی رہتی ہے۔کل جو شخص ایک طاقتور کے قصیدے پڑھ رہا تھا، آج دوسرے طاقتور کے لیے وہی الفاظ استعمال کر رہا ہوتا ہے۔کل جس فیصلے کو وہ ظلم کہتا تھا، آج اسی فیصلے کو ‘‘قومی مفاد’’ کہہ رہا ہوتا ہے۔کیوں؟کیونکہ بعض لوگوں کے لیے نظریہ صرف ایک سیڑھی ہوتا ہے۔اور اقتدار منزل۔
ہمارے ہاں خوشامدی صرف حکمرانوں کے دربار میں نہیں ہوتے؛ وہ سیاسی جماعتوں، اداروں، کاروباری حلقوں، سماجی تنظیموں اور حتیٰ کہ فکری حلقوں میں بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ان کا ایک ہی اصول ہوتا ہے:جس کے پاس طاقت ہے، سچ بھی اسی کے پاس ہے۔یہی ذہنیت کسی بھی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔جب قابلیت سے زیادہ وفاداری اہم ہو جائے، تو اہل لوگ پیچھے چلے جاتے ہیں۔جب دلیل سے زیادہ تعریف اہم ہو جائے، تو دانش مر جاتی ہے۔جب سوال سے زیادہ خاموشی مطلوب ہو، تو ادارے کمزور ہو جاتے ہیں۔اور جب حکمران کو سچ بتانے کے بجائے ہر غلطی پر تالیاں ملیں تو تباہی صرف وقت کا سوال رہ جاتی ہے۔یہاں اصل مجرم ہمیشہ حکمران نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی دربار کا سب سے خطرناک آدمی وہ ہوتا ہے جو حکمران کو ہر صبح یہ یقین دلاتا ہے کہ رات بہت روشن تھی۔پاکستانی انسان کے لیے اس کہانی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ہمیں صرف حکمرانوں کو نہیں، اپنی خوشامدی نفسیات کو بھی دیکھنا ہوگا۔ہم نے طاقتور کے سامنے جھکنے کو ‘‘حکمت’’، سوال کرنے کو ‘‘بغاوت’’، اختلاف کو ‘‘دشمنی’’ اور اصول پر قائم رہنے کو ‘‘حماقت’’ بنا دیا تو پھر کسی بھی معاشرے میں تبدیلی ممکن نہیں۔جمہوریت صرف ووٹ کا نام نہیں۔جمہوریت دراصل اختلاف برداشت کرنے کی تہذیب ہے۔ریاست صرف طاقت کا نام نہیں۔ریاست دراصل سچ سننے کی صلاحیت ہے۔اور قیادت صرف حکم دینے کا نام نہیں۔قیادت یہ حوصلہ رکھنے کا نام ہے کہ آپ کے سامنے کھڑا ایک کمزور آدمی بھی آپ سے کہہ سکے:‘‘آپ غلط ہیں۔’’جو حکمران یہ جملہ سننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ حقیقت سے
محروم ہو جاتا ہے۔اور جو معاشرہ یہ جملہ کہنے کی جرأت کھو دیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنی آزادی سے محروم ہو جاتا ہے۔
بادشاہ کے نئے کپڑے کی کہانی میں سب سے بہادر شخص کوئی فلسفی نہیں تھا، کوئی وزیر نہیں تھا، کوئی دانشور نہیں تھا۔ایک بچہ تھا۔کیونکہ بچے نے ابھی خوشامد کا ہنر نہیں سیکھا تھا۔اس نے صرف وہ کہا جو اس کی آنکھوں نے دیکھا۔شاید ہر معاشرے کو وقتاً فوقتاً ایسے ہی کسی بچے کی ضرورت ہوتی ہے۔کوئی ایسا شخص جو دربار کی زبان نہ بولے۔جو طاقت سے متاثر نہ ہو۔جو عہدے کا محتاج نہ ہو۔جو تالیاں بجانے کے بجائے سوال کرے۔جو بادشاہ کے چہرے کو نہیں، حقیقت کے چہرے کو دیکھے۔کیونکہ تاریخ آخرکار دربار کی تالیاں نہیں سنتی۔
تاریخ صرف یہ پوچھتی ہے:جب سب لوگ جھوٹ بول رہے تھے، تب سچ کس نے بولا تھا؟اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ خوشامدیوں کے حق میں نہیں ہوتا۔وہ اکثر اس ایک شخص کے حق میں ہوتا ہے جس نے پورے دربار کے سامنے کھڑے ہو کر کہا تھا:‘‘بادشاہ ننگا ہے۔’’اور شاید یہی انسان کی سب سے بڑی آزادی ہے:طاقت کے سامنے سچ بولنے کی آزادی۔ کیونکہ جس دن انسان نے سچ بولنے سے زیادہ طاقتور کو خوش کرنا ضروری سمجھ لیا، اسی دن اس نے اپنی زبان نہیں، اپنی روح گروی رکھ دی۔
٭٭٭


