تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین
شیئر کریں
برین ڈرین انگریزی زبان کی اصطلاح ہے ، جو دو الفاظ سے مل کر بنی ہے ۔ برین( Brain) کے معنی دماغ، ذہانت یا ذہین افراد ہیں، جبکہ ڈرین ( Drain) کے معنی نکاسی، اخراج یا کسی چیز کے مسلسل باہر نکل جانے کے ہیں۔ دونوں الفاظ کو ملا کر Brain Drain کا مفہوم کسی ملک کے ذہین، تعلیم یافتہ، ماہر اور ہنرمند افراد کا دوسرے ممالک منتقل ہو جانا ہے ، جس کے نتیجے میں ان کا اپنا ملک ان کی صلاحیتوں اور خدمات سے محروم ہوسکتا ہے ۔ اردو میں اس کا موزوں مفہوم ‘‘ذہین اور ہنرمند افراد کا بیرونِ ملک اخراج’’ یا ‘‘ملک سے صلاحیتوں کا انخلا’’ہے ۔
یہ اصطلاح 1950ء کی دہائی کے اواخر اور 1960ء کی دہائی کے آغاز میں معروف ہوئی، خصوصاً برطانیہ کے سائنس دانوں اور ماہرین کی امریکہ منتقلی کے تناظر میں۔ 7؍جنوری 1963ء کو برطانوی اخبار ‘‘ایوننگ اسٹینڈرڈ’’ میں اس اصطلاح کا استعمال درج کیا گیا۔ میتھیو گوڈون، جین گریگوری اور برائن بالمر نے اپنے تحقیقی مقالے میں اس تاریخی بحث کا جائزہ لیا، جو 2009ء میں شائع ہوا۔ اسی دور میں برطانیہ کی رائل سوسائٹی نے بھی سائنس دانوں کی بیرونِ ملک منتقلی پر رپورٹ شائع کی، جس سے اس موضوع پر علمی اور عوامی بحث کو تقویت ملی۔ اس اصطلاح میں ذہانت اور مہارت کے دوسرے ممالک کی طرف منتقل ہونے کو مجازی طور پر ایسے بیان کیا جاتا ہے جیسے پانی کسی نالی کے ذریعے باہر نکل جاتا ہے ۔
یہ اصطلاح محض افراد کی ہجرت بیان نہیں کرتی بلکہ اس کے معاشی، تعلیمی اور قومی ترقی پر پڑنے والے اثرات کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے ۔ پاکستان کے تناظر میں یہ معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے ، کیونکہ ڈاکٹروں، انجینئروں، سائنس دانوں، اساتذہ، محققین اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے ماہرین کی تعلیم و تربیت میں خاندانوں، تعلیمی اداروں اور قومی وسائل کی سرمایہ کاری شامل ہوتی ہے ۔ اگر ان افراد کو اپنے ملک میں قابلیت کے مطابق روزگار، تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع نہ ملیں اور وہ بڑی تعداد میں بیرونِ ملک منتقل ہوجائیں تو پاکستان ان کی مہارتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے سے محروم رہ سکتا ہے ، جبکہ ان کی خدمات سے دوسرے ممالک زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔
پاکستان میں تعلیم پر ہونے والی سرمایہ کاری کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ایک طالب علم کی تیاری میں کتنے وسائل صرف ہوتے ہیں۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر جامعہ، پیشہ ورانہ تربیت اور اعلیٰ تحقیق تک خاندان اپنی آمدنی خرچ کرتے ہیں، جبکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں عوامی وسائل بھی استعمال ہوتے ہیں۔ طبی تعلیم، انجینئرنگ، سائنسی تحقیق اور اعلیٰ فنی تربیت میں تجربہ گاہوں، آلات، اساتذہ اور عملی تربیت پر اخراجات آتے ہیں۔ اس سرمایہ کاری کا قومی فائدہ اس وقت بڑھتا ہے جب تربیت یافتہ افراد ملک کے اندر خدمات انجام دیں، اداروں کی کارکردگی بہتر بنائیں اور نئی نسل کو علم منتقل کریں۔تاہم تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم کو صرف اسی وقت کامیاب سرمایہ کاری نہیں کہا جاسکتا جب تعلیم یافتہ فرد لازماً پاکستان میں رہے ۔ تعلیم کا بنیادی مقصد انسان کی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور اسے معاشرے کے لیے مفید بنانا ہے ۔ بیرونِ ملک ملازمت بھی کسی فرد کے لیے بہتر آمدنی، جدید تجربے اور پیشہ ورانہ ترقی کا ذریعہ ہوسکتی ہے ۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ملک میں ایسے حالات موجود نہ ہوں کہ تعلیم یافتہ افراد اپنی قابلیت استعمال کرسکیں، تحقیق جاری رکھ سکیں یا باعزت روزگار حاصل کرسکیں۔ اس صورت میں قومی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا ممکنہ فائدہ کم ہوجاتا ہے ۔
ماہر افراد کی بیرونِ ملک منتقلی کے اسباب میں کم اجرت، مہنگائی، محدود روزگار، ترقی کے غیر مساوی مواقع، ادارہ جاتی کمزوریاں، میرٹ کی خلاف ورزی، تحقیق کے لیے ناکافی وسائل اور ملازمت کا غیر یقینی ماحول شامل ہوسکتے ہیں۔ بعض شعبوں میں جدید آلات، تربیتی سہولتوں اور پیشہ ورانہ آزادی کی کمی بھی ماہرین کو بیرونِ ملک مواقع تلاش کرنے پر آمادہ کرتی ہے ۔ اس کے برعکس ترقی یافتہ معیشتوں میں بہتر معاوضے ، جدید تحقیقی مراکز، منظم ادارے اور پیشہ ورانہ ترقی کے واضح راستے دستیاب ہوسکتے ہیں۔ ہر فرد کے فیصلے کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے اس مسئلے کو صرف حب الوطنی یا ذاتی مفاد کے زاویے سے دیکھنا درست نہیں۔
پاکستان کے لیے اس صورتِ حال کے اثرات شعبہ وار مختلف ہوسکتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں تجربہ کار ڈاکٹروں اور ماہرین کی کمی علاج کی سہولتوں اور طبی تربیت کو متاثر کرسکتی ہے ۔ تعلیم کے شعبے میں قابل اساتذہ اور محققین کی کمی سے تدریس، تحقیق اور علمی معیار پر اثر پڑ سکتا ہے ۔ انجینئرنگ، صنعتی پیداوار اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی میں ماہرین کی کمی نئی مصنوعات، جدید خدمات اور کاروباری جدت کی رفتار محدود کر سکتی ہے ۔ تاہم ان اثرات کی درست پیمائش کے لیے ہر شعبے میں تربیت یافتہ افراد کی تعداد، مقامی ضروریات، بیرونِ ملک جانے والوں اور ان کی جگہ دستیاب ہونے والے ماہرین کے اعداد و شمار کا جائزہ ضروری ہے ۔وزارتِ خزانہ پاکستان، اکنامک سروے 2025-26ء، کلینڈر سال 2025ء میں بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹر ہونے والے پاکستانی کارکنوں کی تعداد 762,499 رپورٹ کی گئی۔ یہ تعداد تمام مہارتوں اور پیشوں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کی ہے ، اسے صرف ڈاکٹروں، انجینئروں، سائنس دانوں یا اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی ہجرت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اسی طرح بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر ملکی معیشت کے لیے اہم ہیں، لیکن ترسیلات اور برین ڈرین دو الگ معاملات ہیں۔ ترسیلاتِ زر سے خاندانوں کی آمدنی، زرمبادلہ اور مقامی کھپت کو سہارا ملتا ہے ، جبکہ ماہر افراد کی مستقل منتقلی سے بعض شعبوں میں انسانی صلاحیتوں کی دستیابی متاثر ہوسکتی ہے ۔
مالی سال 2025-26ء میں پاکستان کو ترسیلاتِ زر کی مد میں تقریباً 41.6 ارب ڈالر موصول ہونے کی اطلاع دی گئی۔ یہ رقم بیرونِ ملک پاکستانیوں کی معاشی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے ، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ ماہر افراد کی ہجرت کے تمام اثرات پورے ہوگئے ہیں۔ ترسیلاتِ زر اور قومی ترقی کے درمیان تعلق اس بات پر بھی منحصر ہے کہ ان رقوم کا کتنا حصہ تعلیم، صحت، کاروبار، پیداوار اور طویل مدتی سرمایہ کاری میں استعمال ہوتا ہے ۔ اسی طرح بیرونِ ملک مقیم ماہرین کی علمی خدمات، تحقیق اور سرمایہ کاری کو بھی الگ سے جانچنا چاہیے ۔ہر بیرونِ ملک جانے والا ماہر لازماً اپنے ملک کے لیے نقصان کا باعث نہیں بنتا۔ اگر وہ بیرونِ ملک حاصل ہونے والا علم، تجربہ اور مہارت اپنے وطن منتقل کرے ، سرمایہ کاری کرے یا تعلیمی، تحقیقی اور فنی تعاون کے ذریعے قومی ترقی میں حصہ لے تو پاکستان کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے ۔ اس صورتِ حال کو انسانی صلاحیتوں کی گردش کہا جاسکتا ہے ، جس میں افراد مختلف ممالک میں تجربہ حاصل کرتے ہیں اور اپنے آبائی ملک کے ساتھ پیشہ ورانہ روابط برقرار رکھتے ہیں۔ پاکستانی جامعات اور بیرونِ ملک مقیم ماہرین کے درمیان مشترکہ تحقیق، آن لائن تدریس، طلبہ کی رہنمائی، تربیتی پروگرام اور صنعتی تعاون اس کے عملی طریقے ہوسکتے ہیں۔اس مسئلے کے حل کے لیے سب سے پہلے ملک کے اندر معیاری روزگار اور قابلیت کے مطابق معاوضے کے مواقع بڑھانا ضروری ہے ۔ سرکاری اور نجی اداروں میں بھرتیوں اور ترقی کے فیصلے شفاف میرٹ پر ہونے چاہئیں۔ جامعات اور تحقیقی اداروں کو مناسب فنڈز، جدید آلات اور تحقیق کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے ۔ ڈاکٹروں، اساتذہ، انجینئروں اور دوسرے پیشہ ور افراد کے لیے تربیت، ترقی اور کارکردگی کے واضح معیار مقرر کیے جائیں۔ نوجوانوں کو صرف ڈگری حاصل کرنے کی ترغیب دینے کے بجائے ایسی تعلیم اور ہنر فراہم کیے جائیں جن کی ملکی اور عالمی منڈی میں حقیقی ضرورت ہو۔
تعلیمی پالیسی میں جامعات، صنعت اور روزگار فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ بھی مضبوط ہونا چاہیے ۔ نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے ، طلبہ کو عملی تربیت دی جائے اور تحقیق کو صنعت، زراعت، صحت اور قومی مسائل سے جوڑا جائے ۔ اس سے فارغ التحصیل نوجوانوں کے لیے ملک میں کام کرنے اور نئے کاروبار شروع کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی حکومت کو مختلف شعبوں میں ماہر افراد کی طلب اور رسد کا باقاعدہ جائزہ لینا چاہیے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کہاں تربیت یافتہ افراد کی کمی ہے ، کون سے شعبے زیادہ متاثر ہیں اور کن پالیسی اقدامات سے صورتِ حال بہتر ہوسکتی ہے ۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ماہرین سے رابطہ برقرار رکھنے کے لیے بھی منظم قومی حکمتِ عملی درکار ہے ۔ جامعات اور تحقیقی ادارے ایسے پروگرام تشکیل دے سکتے ہیں جن کے ذریعے بیرونِ ملک ماہرین مختصر مدت کے لیے تدریس، تحقیق اور تربیت میں حصہ لیں۔
سرمایہ کاری کے لیے شفاف ضابطے ، کاروباری سہولتیں اور قانونی تحفظ فراہم کیا جائے ۔ جو افراد واپس آنا چاہیں، ان کے لیے پیشہ ورانہ ملازمت، تحقیق اور ادارہ جاتی معاونت کے راستے واضح ہوں۔ واپسی کو واحد کامیابی سمجھنے کے بجائے علم، سرمایہ اور مہارت کی منتقلی کو بھی قومی فائدے کے پیمانے میں شامل کیا جائے ۔
پاکستان میں تعلیم کی کامیابی صرف ڈگریوں اور بجٹ سے نہیں، بلکہ تحقیق، روزگار اور قومی ترقی میں اس کے ثمرات سے ناپی جانی چاہیے۔ برین ڈرین کی روک تھام کے لیے میرٹ، معیاری مواقع اور پیشہ ورانہ ترقی ضروری ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم ماہرین کے علم اور تجربے سے فائدہ اٹھانا بھی ناگزیر ہے ۔
٭٭٭


