جب اقتدار کہے: 2+2=5
شیئر کریں
دنیا کی سب سے خوفناک آمریت وہ نہیں جو انسان کے ہاتھ باندھ دے، اس کے جسم کو قید کر دے یا اس کے گھر کے دروازے پر سپاہی کھڑا کر دے، سب سے خوفناک آمریت وہ ہے جو انسان کے ذہن پر قبضہ کر لے۔ جارج آرویل کے ناول 1984 میں ‘‘2+2=5’’ اسی ذہنی غلامی کی آخری شکل ہے۔ دو جمع دو حقیقتاً چار ہی رہتے ہیں، مگر جب طاقت انسان سے یہ منوانے لگے کہ دو جمع دو پانچ ہیں، تو جنگ ریاضی کے خلاف نہیں رہتی، انسان کی حقیقت کے خلاف شروع ہو جاتی ہے۔
آرویل کے ہاں یہ جملہ دراصل ایک سوال ہے: کیا اقتدار انسان کو اتنا توڑ سکتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے موجود حقیقت سے بھی انکار کر دے؟ کیا ریاست، جماعت، نظریہ یا کوئی طاقتور نظام انسان کو اس مقام تک پہنچا سکتا ہے جہاں وہ اپنے ذہن کے آخری قلعے سے بھی دستبردار ہو جائے؟ 1984 کا جواب خوفناک ہے: ہاں، اگر طاقت صرف جسم پر نہیں بلکہ زبان، یادداشت، خوف، معلومات اور شعور پر بھی قبضہ کر لے۔یہاں ‘‘2+2=5’’ کا مطلب ریاضی کو بدلنا نہیں، حقیقت کی تعریف بدلنا ہے۔ طاقتور شخص اگر کہے کہ سورج رات میں نکلتا ہے تو سورج کی حقیقت نہیں بدلتی؛ مگر اگر ایک پورا معاشرہ مسلسل یہ سنتا رہے، اس کے پاس سوال کرنے کا حق نہ ہو، مختلف معلومات تک رسائی نہ ہو، اختلاف کرنے والے کو سزا ملے اور ہر طرف ایک ہی آواز سنائی دے، تو مسئلہ سورج کا نہیں رہتا، انسان کے ذہن کا بن جاتا ہے۔ یہی انسانی تاریخ کا ایک قدیم ترین المیہ ہے۔قدیم بادشاہتوں میں فرماں روا صرف زمین کے مالک بننے پر اکتفا نہیں کرتے تھے؛ وہ اپنی حکمرانی کو مقدس، فطری یا آسمانی قرار دیتے تھے۔ بادشاہ کا حکم قانون تھا، اور قانون کے خلاف سوال بغاوت۔ مصر کے فرعونوں سے لے کر روم کے شہنشاہوں تک، مختلف تہذیبوں میں اقتدار نے بارہا اپنے لیے ایسی زبان پیدا کی جس میں حکمران صرف حکمران نہیں رہتا تھا بلکہ نظامِ کائنات کا نمائندہ بن جاتا تھا۔جب حکمران خود کو تقدیر کا نمائندہ بنا لے تو رعایا اپنے دکھ کو بھی تقدیر سمجھنے لگتی ہے۔یہیں سے ‘‘2+2=5’’ کی پہلی انسانی شکل پیدا ہوتی ہے: ظلم کو معمول سمجھ لینا۔فلسفے کی پوری تاریخ دراصل اس ذہنی غلامی کے خلاف ایک طویل مزاحمت بھی ہے۔
سقراط نے ایتھنز کی گلیوں میں سوال کیے، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سوال انسان کے ذہن کو زندہ رکھتا ہے۔ اس کا جرم شاید یہ نہیں تھا کہ وہ
کوئی سلطنت گرانا چاہتا تھا؛ اس کا جرم یہ تھا کہ وہ لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتا تھا۔افلاطون کی غار کی تمثیل اسی مسئلے کو ایک اور شکل دیتی ہے۔ لوگ غار میں دیوار پر پڑنے والے سائے دیکھتے ہیں اور انہیں حقیقت سمجھتے ہیں۔ جب کوئی شخص باہر نکل کر اصل دنیا دیکھتا ہے تو واپسی پر اسے دیوانہ سمجھا جا سکتا ہے۔ یعنی جھوٹ صرف اس وقت طاقتور نہیں ہوتا جب وہ سچ کی جگہ لے لے؛ وہ اس وقت بھی طاقتور ہوتا ہے جب انسان سچ دیکھنے کی صلاحیت کھو دے۔صدیوں بعد فرانسس بیکن نے انسانی تعصبات اور ذہنی ‘‘بتوں’’ کی بات کی۔ ڈیکارٹ نے شک کو فلسفیانہ طریق کار بنایا۔ کانٹ نے انسان کو اپنی عقل استعمال کرنے کی دعوت دی۔ نیٹشے نے اخلاق، اقتدار اور سچائی کے تعلقات کو چیلنج کیا۔ پھر بیسویں صدی میں فوکو نے یہ دکھایا کہ طاقت صرف حکم دینے والا ادارہ نہیں؛ طاقت علم پیدا کرتی ہے، معمولات بناتی ہے، انسانوں کو درجہ بندیوں میں رکھتی ہے اور یہ طے کرنے میں کردار ادا کرتی ہے کہ معاشرہ کس چیز کو ‘‘سچ’’ سمجھے۔یعنی اقتدار صرف یہ نہیں کہتا کہ کیا کرو؛ کبھی کبھی وہ یہ بھی طے کرنے لگتا ہے کہ کیا حقیقت ہے۔
انسانی تاریخ میں مذہبی جنگوں، بادشاہتوں، انقلابوں، آمریتوں، نوآبادیاتی نظاموں اور جدید ریاستوں کے تجربات میں یہ کشمکش مختلف
شکلوں میں سامنے آتی رہی۔ کبھی کتابیں جلائی گئیں، کبھی مصنفین خاموش کیے گئے، کبھی تاریخ کو دوبارہ لکھا گیا، کبھی دشمن کی ایسی تصویر بنائی
گئی کہ اس کے خلاف ظلم بھی ‘‘اخلاقی فرض’’ دکھائی دینے لگا۔کتاب جلانا صرف کاغذ جلانا نہیں ہوتا؛ یہ انسان کی یادداشت پر حملہ ہوتا ہے۔ تاریخ مٹانا صرف ماضی کو چھپانا نہیں ہوتا۔ یہ مستقبل کے انسان کو اس کے ماضی سے محروم کرنا ہوتا ہے۔اور زبان کو قابو کرنا صرف الفاظ کو قابو کرنا نہیں ہوتا؛ یہ سوچ کے راستے محدود کرنا ہوتا ہے۔آرویل نے 1984 میں ‘‘Newspeak’’ اسی لیے تخلیق کی۔ اگر زبان سکڑ جائے تو خیالات بھی سکڑ سکتے ہیں۔ اگر کسی خیال کے اظہار کے لیے لفظ ہی موجود نہ رہے تو اس خیال کو منظم انداز میں سوچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں اقتدار پہلے زبان بدلتا ہے، پھر زبان کے ذریعے ذہن کی حدود بدلتا ہے۔یہاں ‘‘2+2=5’’ ایک آخری منزل بن جاتی ہے۔پہلے انسان سے کہا جاتا ہے:یہ مت کہو۔پھر کہا جاتا ہے:یہ مت سوچو۔پھر کہا جاتا ہے:تم نے جو دیکھا ہے، اسے بھول جاؤ۔اور آخر میں کہا جاتا ہے:جو ہم کہہ رہے ہیں، وہی حقیقت ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی جبر نفسیاتی جبر بن جاتا ہے۔
نازی جرمنی میں پروپیگنڈا نے اسی انسانی نفسیات کو استعمال کیا۔ ایک مخصوص گروہ کو مسلسل دشمن، خطرہ اور قومی تباہی کی وجہ قرار دیا گیا۔
جھوٹ کو اتنی بار دہرایا گیا کہ وہ اجتماعی شعور میں داخل ہونے لگا۔ ہولوکاسٹ ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ جب الفاظ انسانی وقار کو پہلے ہی تباہ کر
دیں تو جسمانی تباہی کے لیے راستہ آسان ہو جاتا ہے۔سوویت یونین کی تاریخ میں بھی سیاسی صفائیوں، سنسرشپ اور سرکاری بیانیے کے
ذریعے حقیقت کو قابو کرنے کی کوششوں کی مثالیں ملتی ہیں۔ تصویروں سے لوگ غائب ہوئے، کتابوں سے نام مٹائے گئے اور سرکاری تاریخ
میں کردار تبدیل ہوئے۔ جو شخص کل ریاست کا وفادار تھا، آج غدار قرار دیا جا سکتا تھا۔یہاں تاریخ بھی ‘‘2+2=5’’ بن جاتی ہے۔کل جو
ہوا، وہ آج سرکاری طور پر کبھی ہوا ہی نہیں۔اور اگر کوئی شخص کہے کہ ‘‘میں نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا’’ تو جواب آ سکتا ہے:‘‘تمہاری
یادداشت غلط ہے۔’’یہ نفسیاتی غلامی کی انتہائی خطرناک شکل ہے، کیونکہ انسان کو مارنے کے لیے ہمیشہ گولی کی ضرورت نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی
اسے اس کی اپنی یادداشت سے محروم کر دینا کافی ہوتا ہے۔نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ انسان سماجی مخلوق ہے۔ وہ تنہائی سے ڈرتا ہے، گروہ
سے الگ ہونے سے گھبراتا ہے اور مسلسل دباؤ میں اپنے مشاہدے پر بھی شک کرنے لگتا ہے۔ اگر ایک شخص کچھ اور دیکھ رہا ہو اور اس کے
اردگرد سو لوگ کچھ اور کہہ رہے ہوں تو اس کے لیے اپنی آنکھوں پر قائم رہنا آسان نہیں۔یہی وجہ ہے کہ طاقتور پروپیگنڈا صرف جھوٹ نہیں
بولتا؛ وہ اجتماعی یقین پیدا کرتا ہے۔پھر انسان سوچتا ہے:‘‘اگر سب لوگ یہی کہہ رہے ہیں تو شاید غلطی مجھ سے ہو رہی ہے۔’’یہی ‘‘2+2=5’’ کا اصل خوف ہے۔یہ چار کو پانچ بنانے کی کوشش نہیں؛ یہ انسان کو چار دیکھنے کے باوجود پانچ کہنے پر مجبور کرنے کی کوشش ہے۔
ہنّا ارینڈٹ نے بیسویں صدی کی آمریتوں کا مطالعہ کرتے ہوئے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ جب حقیقت اور جھوٹ کے درمیان
فرق مسلسل دھندلا دیا جائے تو انسان سیاسی طور پر بے سمت ہو سکتا ہے۔ جب ہر چیز پر شک ہو اور کوئی قابلِ اعتماد حقیقت باقی نہ رہے تو
شہری تھک جاتا ہے۔ پھر وہ تحقیق نہیں کرتا، سوال نہیں کرتا، بلکہ کسی طاقتور آواز کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے کیونکہ اسے یقین سے زیادہ یقین کا
سہارا درکار ہوتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں جھوٹ کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے: جب انسان اسے صرف مانتا نہیں بلکہ اپنی مرضی
سے اس کا محافظ بن جاتا ہے۔استعمار کی تاریخ میں بھی طاقت نے صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کیا؛ اس نے بہت سی جگہوں پر مقامی انسان کو
اپنی تاریخ، زبان اور تہذیب کے بارے میں احساسِ کمتری میں مبتلا کیا۔ کسی قوم کو شکست دینے کا ایک طریقہ اس کی فوج کو شکست دینا ہے،
دوسرا طریقہ اس کے ذہنی اعتماد کو شکست دینا ہے۔اگر کسی قوم کو بار بار بتایا جائے کہ تمہاری تاریخ بے معنی ہے، تمہاری زبان کم تر ہے، تمہارا
علم ناقص ہے اور تمہاری تہذیب کمتر ہے، تو ایک وقت آتا ہے جب وہ قوم اپنے بارے میں وہی سوچنے لگتی ہے جو فاتح نے اسے بتایا تھا۔یہ
بھی ‘‘2+2=5’’ ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں ریاضی کی کتاب نہیں بدلتی، انسان کا خود سے تعلق بدل جاتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں بھی ‘‘حقیقت’’ اور ‘‘سرکاری بیانیے’’ کے درمیان کشمکش مختلف ادوار میں نظر آتی رہی ہے۔ 1971 کا سانحہ اس کی
سب سے المناک مثالوں میں سے ایک ہے۔ برسوں تک ریاستی بیانیے، سیاسی مفادات، جنگی پروپیگنڈے اور قومی صدمے نے اس سانحے
کے مختلف پہلوؤں کو عام شہری کے لیے مکمل طور پر سمجھنا مشکل بنائے رکھا۔ بعد کی دہائیوں میں بھی تاریخ، سیاست، انتخابات، جمہوریت،
آمریت اور قومی مفاد کی مختلف تعبیرات سامنے آتی رہیں۔یہاں مسئلہ کسی ایک جماعت یا ایک حکمران کا نہیں؛ اصل مسئلہ سیاسی طاقت اور
سچائی کے تعلق کا ہے۔پاکستانی معاشرہ اس وقت بھی اسی بنیادی سوال کے سامنے کھڑا ہے: کیا شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ریاست،
حکومت، ادارے، جماعت، لیڈر اور اپنے پسندیدہ بیانیے۔سب سے سوال کرے؟ اگر جواب ہاں ہے تو جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا
نام نہیں رہتی؛ وہ سچ بولنے، سوال کرنے، اختلاف کرنے اور اپنی عقل استعمال کرنے کا حق بھی بن جاتی ہے۔کیونکہ جس معاشرے میں
شہری کو یہ سکھا دیا جائے کہ سوال غداری ہے، اختلاف دشمنی ہے، تنقید فساد ہے اور خاموشی حب الوطنی ہے، وہاں آہستہ آہستہ ‘‘2+2=5’’
صرف ناول کا جملہ نہیں رہتا؛ وہ اجتماعی نفسیات کا حصہ بن سکتا ہے۔اور تاریخ کا سب سے خوفناک لمحہ وہ نہیں جب ایک جھوٹا حکمران کہتا ہے
کہ ‘‘دو جمع دو پانچ ہیں’’۔خوفناک لمحہ وہ ہے جب لوگ اپنی انگلیوں پر گن کر چار دیکھتے ہیں، پھر بھی سر جھکا کر کہتے ہیں:‘‘جی ہاں، پانچ
ہیں۔’’یہی 1984 کا اصل خوف ہے۔
آرویل ہمیں مستقبل کی کوئی معمولی پیش گوئی نہیں دے رہا تھا، وہ انسانی تاریخ کے ایک قدیم مرض کو نئی زبان دے رہا تھا: طاقت جب حقیقت کی مالک بننے کی کوشش کرے تو سب سے پہلے انسان کی آزادی نہیں، اس کی حقیقت پسندی مرتی ہے۔اور جب انسان کو اپنی آنکھوں سے دیکھی ہوئی حقیقت پر یقین نہ رہے، تو پھر اس سے آزادی چھیننے کی ضرورت نہیں رہتی۔وہ خود اپنی زنجیریں حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔
٭٭٭


