لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی
شیئر کریں
جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہوکر لاہور ہائیکورٹ میں فرائض انجام دے رہے تھے
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی ہوگئے، رپورٹ کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ صدر پاکستان کو بھجوا دیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہوکر لاہور ہائیکورٹ میں فرائض انجام دے رہے تھے۔ جسٹس محسن اختر کیانی اسلام باد ہائیکورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبر اور لاہور ہائیکورٹ میں دسویں نمبر پر تھے۔
نئے ججز روسٹر میں جسٹس محسن اختر کیانی کا تبادلہ راولپنڈی بینچ میں کیا گیا تھا، جسٹس محسن اختر کیانی نے 11 فروری 2032ء میں ریٹائر ڈ ہونا تھا۔ نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفے میں ذاتی وجوہات، صحت کے مسائل اور ضمیر کی آواز کو استعفے کی وجہ قرار دیا ہے۔
استعفے کے متن کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عدالتی کیریئر کے دوران 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم نے ہائیکورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کو متاثر کیا ہے جبکہ ججز کی تقرریوں اور تبادلوں میں انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت عدلیہ کی آزادی کے لیے نقصان دہ ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے استعفے میں مزید کہا کہ عدالتی آزادی اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے، عام سائلین کی مشکلات میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ انصاف کے متلاشی افراد کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔ استعفے کے متن میں ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بطور جج فرائض جاری رکھنا ان کے ضمیر کو گوارا نہیں، اسی لیے انہوں نے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ وہ وکالت کے شعبے میں واپس آکر عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانونی شعور اجاگر کرنے کے لیے کام کریں گے۔


