مقبوضہ کشمیر جماعت اسلامی کی خدمات
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
سال 2019میں جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی اس کے سینکڑوں تعلیمی ادارے جو کہ فلاح عام ٹرسٹ کے نام مشہور ہیں،تحویل میں لیے جاتے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں ایک لاکھ سے زائد طلباو طالبات زیور علم سے آراستہ ہوتے ہیں البتہ جب کسی قوم کو اس کی بنیادی اساس سے محروم کرنا مقصود ہو تو سب سے پہلے اس پر تعلیمی جارحیت مسلط کرکے علم کے نور سے بیگانہ کیا جاتا ہے۔مودی اور اس کے حواری اسی پالیسی پر شد ومد سے عمل پیرا ہیں،18اپریل کو فلاح عام ٹرسٹ ادارے کے زیر انتظام چلنے والے مزید 58 اسکولوں کو اپنی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔قابض انتظامیہ نے ان 58 اسکولوں کو قبضے میں لینے کے حوالے سے ایک حکمنامہ بھی جاری کیا۔ تحویل میں لیے گئے تمام سکولوں میں سرکاری عملہ تعینات بھی کر دیا گیا ہے۔ جماعت کے ان اداروں میں پچیس ہزار سے زائد اساتذہ اور دوسرا عملہ درس و تدریس کے فرائض انجام دیتا تھا۔ ایک لاکھ بچوں کا مستقبل پہلے ہی تاریک بنایا گیا اور ہزاروں لوگوں کا روز گار بھی ان سے چھین لیا گیا۔
جنوبی کشمیر کے امام صاحب شوپیاں میں معروف دینی درسگاہ جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون UAPAکے تحت غیر قانونی قرار دے دیکر اسے سیل کردیا گیا ہے۔اس ادراے میں اسوقت اٹھ سو بچے اور بچیاں زیر تعلیم تھے۔جو مختلف مضامین میں یکم سے لیکر بارہویں جماعت تک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے تھے۔یہ مذکورہ ادارہ آج تک کئی ڈاکٹر،انجینئر،پروفیسر اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت افراد پیدا کرچکا ہے جو اپنا نام کماچکے ہیں۔دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی قرار دینے کیلئے اس پر جماعت اسلامی یا فلاح عام ٹرسٹ کیساتھ وابستہ قرار دیا گیا ہے۔تاکہ کشمیری بچوں کو تعلیم کے نور سے منور کرنے والے ادارے پر پابندی اور اسے غیر قانونی قرار دینے کے اقدام یا جواز کو درست ٹھہرایا جاسکے۔جیسا کہ بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں اس کے حواری اکثر ایسا کرتے آئے ہیں،جس میں شیخ عبداللہ خاندان پیش پیش ہے کیونکہ ماضی میں بھی جماعت اسلامی پابندیوں کی زد میں رہی ہے۔
جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر پر باضابطہ طور پر پہلی بڑی پابندی 1975 میں ایمرجنسی کے دوران شیخ عبداللہ کے دور میں لگائی گئی تھی۔عبداللہ خاندان کو جماعت کیساتھ اللہ واسطے کا بیر ہے،کیونکہ شیخ عبداللہ خاندان جو کہ بھارتی رنگ میں رنگ چکا ہے، اپنی لادینی فکر کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں رائج کرنے میں جماعت اسلامی کو بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔اس کے بعد 1990 میں بھی پابندی عائد کی گئی اور حالیہ دور میں 28 فروری 2019 کو بھارتی وزارت داخلہ نے اس پر دوبارہ پابندی عائد کی۔ فروری 2019 میں عائد کی گئی 5 سالہ پابندی میں مزید توسیع کرتے ہوئے اسے فروری 2024 میں آئندہ پانچ برسوں کیلئے بڑھا دیا گیا ہے،جو ہنوز جاری ہے۔امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عبدالحمید فیاض اور ترجمان ایڈووکیٹ زاہد علی لون سمیت اسکے متعدد رہنما گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی جیلوں میں قید وبند کی صورت میں وہ قرض بھی چکا رہے ہیں،جو ان پر واجب بھی نہیں تھا۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں جماعت اسلامی سیاسی، سماجی،فلاحی اور تعلیمی اداروں کو پروان چڑھانے میں پیش پیش رہی ہے، جس نے نسلوں تک بچوں اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم، دینی تربیت اور اخلاقی اقدارسے روشناس کرایا ہے۔ یہ جماعت نہ صرف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہے بلکہ معاشرتی خدمات اور تعلیمی شعبے میں نمایاں کردار بھی ادا کرتی رہی ہے۔جماعت اسلامی کے تعلیمی ادارے نہ صرف علم و تربیت کے مراکز ہیں بلکہ سماجی یکجہتی، اخلاقی تربیت اور کمیونٹی سروس کیلئے بھی معروف ہیں۔ان اداروں میں اسکول کی سطح سے لے کر دینی مدارس تک، طلباء کو اجتماعی سرگرمیوں، تحقیق اور سماجی خدمت کی تربیت دی جاتی ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور پولیس کی بڑھتی ہوئی مشقوں اور لوگوں کو ہراساں کرنے پرسخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کے اپنی قراردادوں کے مطابق حل کیلئے کردار ادا کرے۔ حریت ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکے متعدد اضلاع میں نام نہاد سول ڈیفنس کے چھاپے اورپکڑ دھکڑ کی کارروائیوںسے خوف و دہشت کے ماحول میں زندگی بسرکرنے والے کشمیریوں میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے۔ کشمیریوں کو بی جے پی کی ہندوتوا حکومت کی طرف سے مسلسل نفسیاتی دبائو، گرفتاریوں، بڑے پیمانے پر نگرانی، زمینوں پر قبضے اور دیگر وحشیانہ مظالم کانشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے کشمیریوں کو درپیش مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔حریت ترجمان نے کشمیری پنڈتوں اور غیر مقامی لوگوں کیلئے علیحدہ کالونیوں کے مجوزہ قیام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔ کشمیری عوام ایسے تمام اقدامات کی ہر ممکن مزاحمت کریں گے اورجموںوکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی ساز کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔
حریت قیادت کی مسلسل غیر قانونی نظربندی، گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے عبدالرشید منہاس نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور بھارتی حکام کوانسانی حقوق کی جاری خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائیں۔کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تنازع کشمیر کے پر امن حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور کشمیری عوام گزشتہ تقریبا آٹھ دہائیوں سے بھارتی تسلط سے آزادی کے منتظر ہیں۔کشمیر ی عوام مذاکرات کے مخالف نہیں ہیں۔ کوئی بھی بامعنی امن عمل کشمیری عوام کی حقیقی امنگوں پر مبنی اور اس کا مقصد دیرینہ تنازعہ کا منصفانہ اور دیرپا حل ہونا چاہیے۔
٭٭٭٭


