عوام کو اپنی نمائندگی کا حق خود حاصل کرناہوگا!
شیئر کریں
پاکستان کی سیاست اس وقت اپنے تاریخ کے بدترین فکری اور اخلاقی بحران سے گزر رہی ہے۔ اقتدار کی ہوس، ذاتی مفادات اور عوام
سے بے وفائی نے سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کو عوام کی نظروں میں مکمل طور پر -94ڈس کریڈٹ-93 کر دیا ہے۔ نئے زمانے کا شعور، نسل ِ
نو (Gen Z) کا غصہ اور عام آدمی کے مسائل ان پرانے چہروں اور ان کی کھوکھلی نعرے بازی کو مکمل طور پر رد کر چکے ہیں۔ ان کا سیاسی جواز
اب ختم ہو چکا ہے، لیکن وہ اقتدار کے ایوانوں پر زبردستی قابض رہنے کے لئے ہر جائز و ناجائز طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔پاکستان میں
جمہوریت کا سارا ڈھانچہ ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔ جب تازہ ترین حکومت کو -94فارم 47 کی پیداوار-93 قرار دیا جاتا ہے، جہاں ہارنے
والوں کو جتوا دیا گیا اور جیتنے والوں کے داؤ لگا دیے گئے۔نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں کوئی بھی حکومت جینوئن عوامی مینڈیٹ کے ساتھ آتی نظر نہیں
آتی۔ جب اقتدار کا سرچشمہ عوام کا ووٹ نہیں بلکہ جوڑ توڑ اور انجینئرنگ ہو، تو وہ حکومت عوام کے بجائے اپنے -94سہولت کاروں-93 کے
سامنے جوابدہ ہوتی ہے۔سیاسی جماعتوں کے اندرونی تضادات اور منافقت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عام شہری بھی اب ان کے سیاسی
ڈراموں کو سمجھنے لگا ہے۔گلگت بلتستان کا الیکشن عجائب گھر بنا رہا، الیکشن کے دوران بلاول بھٹو زرداری نون لیگ کے خلاف زہر اگلتے ہیں،
لیکن اقتدار کا وقت آتا ہے تو استحکامِ پاکستان کے نام پر اربوں روپے سے خریدے گئے آزاد اراکین کے بل بوتے پر حکومت بنائی گئی۔ مرکز
میں صورتحال مزید ہراسانی کی حد تک مزاحیہ ہے۔ پیپلز پارٹی ایوانِ صدر کی مسند پر بیٹھ کر نہ صرف نون لیگ کا ساتھ دیتی ہے لیکن ٹی وی پر
بیٹھ کر اسی اتحادی حکومت کی اپوزیشن بننے کا ناٹک بھی کرتی ہے۔ مقصد صرف ایک ہے کہ اقتدار کے فا ئدے سمیٹے جائیں اور ناکامیوں کا
ملبہ دوسرے پر ڈالا جائے۔ ٹی وی چینلز پر جو کچھ دکھایا جاتا ہے اس میں ہر سیاسی جماعت کا ترجمان دوسرے کو چور، غدار اور نااہل ثابت
کرنے پر تلا ہوتا ہے۔ان کے کام صرف دو ہیں کہ مخالفین کی ذات پر کیچڑ اچھالا جائے اور اپنی سیاسی قیادت کے جھوٹے قصیدے پڑھے
جائیں۔کسی کو فکر نہیں کہ ملک میں 50فیصد سے زائد لوگ معاشی افراطِ زرکا شکار ہیں، بجلی کے بلوں نے غریب کی کمر توڑ دی ہے، تعلیمی
ادارے زوال پذیر ہیں اور نوجوان ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ مسائل کا حل ڈھونڈنا تو درکنار، ان کا ذکر تک ان کے ایجنڈے کا حصہ
نہیں ہوتا ۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ ان پر اشرافیہ اور سرمایہ داروں کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔ اسمبلی کی نشستیں عوام کی نمائندگی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا بزنس ماڈل بن چکی ہیں جہاں اربوں روپے لگا کر الیکشن جیتا جاتا ہے اور پھر اقتدار میں آ کر کھربوں روپے کمائے جاتے ہیں۔ان سیاسی ٹھیکیداروں کا عام آدمی سے کوئی تعلق نہیں۔ انہیں اِس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ آٹا مہنگا ہے یا ادویات نایاب ہیں؛ کیونکہ ان کا علاج اور ان کے بچوں کی تعلیم بیرونِ ملک منتقل ہو چکی ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں حکمران اشرافیہ کا عوام سے تعلق بالکل ختم ہو چکا ہے، یا پھر انہیں عوام کی رتی برابر بھی پروا نہیں رہی، ہر روز ایک طرف عوام پر مالی بوجھ بڑھایا جارہا ہے، تو دوسری جانب اشرافیہ جس میں بیوروکریسی، ارکان پارلیمان اور ریاست کے دیگر حصے شامل ہیں، انکی مراعات میں اضافے کی خبریں آتی ہیں ۔ آج سے چند برس قبل ملک میں سرکاری پے اسکیل ہوتے تھے اور تمام سرکاری افسران و ملازمین کی تنخواہیں و مراعات اسکے مطابق ہوتی تھیں لیکن بیورو کریسی نے سرکاری خزانے کو لوٹنے کیلئے نئے حربے اختیار کرلئے مختلف ناموں سے نئے نئے الاؤ ئنس اور سہولتوں کے نوٹیفکیشن آنا شروع ہوئے ، اسی طرح ارکان پارلیمان اور وزراء کی مراعات کی چاہت بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، کوئی بچوں سمیت بلیو پاسپورٹ مانگ رہا ہے تو کوئی بڑی گاڑیاں۔ پروٹوکول کی تو پہلے ہی تمام حدیں توڑی جاچکی ہیں، کراچی شہر میں شاہراہ فیصل جیسی مصروف شاہراہ بھی جب چاہے کسی وی وی آئی پی کیلئے بند کر دی جاتی ہے، ایسا ہی کچھ اسلام آباد اور لاہور میں بھی دیکھنے کو ملتا
ہے، ایک طرف عوام کے وسائل سے اشرافیہ کی مراعات بڑھتی جارہی ہیں، تو دوسری جانب عوام کو مہنگائی نے پیس کر رکھ دیا ہے۔
ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ بقول وفاقی وزیر احسن اقبال زہر کھانے کیلئے پیسے نہیں ہیں، تو دوسری جانب مراعات میں اضافہ ہی کئے جارہے ہیں، اربوں روپے کے پرتعیش طیارے خریدے جارہے ہیں، گاڑیوں کے بیڑے طویل ہوتے جارہے ہیں۔ اب گزشتہ روز وفاقی حکومت نے افسران کیلئے ڈیڑھ سو فیصد ایگزیکٹو الاؤنس میں بڑے اضافے کی منظوری دیدی ہے۔ ایک طرف کفایت شعاری کے دعوے ہیں اور دوسری جانب اس طبقے کو مزید نو ازا جارہا ہے، جو پہلے ہی لاکھوں روپے تنخواہ اور پرتعیش گھروں سمیت ہر طرح کی مراعات سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے افسران کیلئے ایگزیکٹو الاؤنس 30جون 2026ء کے جاری بنیادی تنخواہ کے حساب سے دینے کی منظوری دیدی ہے۔ فیصلے سے ایگزیکٹو الا ونس لینے والے افسران کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائیگا۔ اس سے پہلے 150فیصد ایگزیکٹو الاؤنس2017ء کے پے اسکیل اور 30جون2022ء کی بنیادی تنخواہ پر مل رہا تھا ۔ اب ایگزیکٹو الاؤنس 30جون 2026ء کی جاری بنیادی تنخواہ پر ملے گا۔ کابینہ ڈویژن نے وفاقی کابینہ کا فیصلہ عملدرآمد کیلئے وزارت خزانہ کو بھجوادیا ہے۔ اسی طرح2022ء کے بعد سے اراکین پارلیمنٹ، وفاقی وزرا اور پارلیمانی قیادت کی تنخواہوں اور مراعات میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا۔ اراکین کی بنیادی تنخواہ تقریباً ایک لاکھ80 ہزار روپے سے بڑھا کر5 لاکھ19ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی، جبکہ مختلف الاؤنسز اور دیگر سہولتیں اس کے علاوہ ہیں۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے اوگرا کے ذریعے پیٹرولیم نرخوں کے روزانہ تعین کے باعث عوام کو اپنے گھریلو اخراجات کا بجٹ بنانے میں
پریشانی لاحق ہو رہی ہے،اورناجائز منافع خور تاجر وں کی گویا لاٹری کھل گئی ہے انھیں عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کا نادر موقع بھی مل گیا ہے۔
پیٹرولیم نرخوں کے نئے حکومتی فیصلے کا اعلان ہوتے ہی نجی ٹرانسپورٹروں نے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں من مانا اضافہ کردیا جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی فوری اضافہ ہو گیا۔ اسی طرح مارکیٹوں میں بھی تاجروں دکانداروں نے اپنی اشیاء کے من مانے نرخ مقرر کرکے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا۔ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین کرنے کی نئی پالیسی ایسے وقت میں لاگو کی گئی ہے جب مہنگائی نے پہلے ہی عوام کو زندہ درگور کر رکھا ہے۔ حکومت اس پالیسی کے جواز میں جو بھی تاویلیں پیش کرے، عوام ان سے مطمئن نہیں ہو سکتے کیونکہ اس نظام نے فی الحقیقت ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کیلئے لوٹ مار کے نئے دروازے کھول دئیے ہیں۔ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے بارے میں جو بھی تاویلات پیش کرے ،عام آدمی یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ جب حکومت پیٹرول کی کم از کم 15 دن کی ضرورت کے اعتبار سے پیٹرول خریدتی ہے تو پھر اسی قیمت تک 15 دن تک عوام کو پیٹرول فراہم کیوں نہیں کیا جاسکتا؟۔حکومت کی جانب سے یومیہ بنیادوں پر پیٹرول کے نرخ مقرر کرنے پر اصراراور پیٹرول پمپ مالکان کو اس ناانصافی پر آواز نہ اٹھانے یعنی خاموشی اختیار کرنے پر ان کے کمیشن میں اضافے کی یقین دہانی سے دال میں کچھ کالا نظر آنے لگا ہے اور اب برملا یہ الزام عاید کیا جانے لگا ہے کہ پیڑول کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل کے اس طریقہ کار کا مقصد پیٹرولیم کمپنیوں کو ناجائز فائدہ فراہم کرنا ہے اور اس کا کچھ حصہ مبینہ طورپر یقینا وزیراعظم ، مقتدر حلقوں کے سربراہوں اور وزیر پیٹرولیم کو بھی پہنچ رہاہوگا۔ارباب حکومت اس حقیقت سے ناواقف نہیں ہیں کہ قیمتوں میں معمولی اضافے کو بھی جواز بنا کر اشیائے ضروریہ کے نرخ بڑھا
دئیے جاتے ہیں جبکہ عالمی یا مقامی سطح پر قیمتوں میں کمی کا فائدہ عام شہری تک بروقت نہیں پہنچ پاتا۔ پیٹرولیم نرخوں کے روزانہ تعین کے فیصلے کے ساتھ ہی حکومت نے ٹرانسپورٹر حضرات کو مطمئن کرنے کیلئے انہیں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں8فیصد اضافے کی از خود اجازت دیدی جس سے عوام کی اقتصادی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ۔ یہ امر واقع ہے کہ پٹرولیم نرخوں میں اضافے کے فوری اثرات اشیائے خور و نوش، سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری سامان کے نرخوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں مارکیٹوں میں مہنگائی کی نئی لہر جنم لیتی ہے۔اس وقت تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ اب تاجر حضرات بھی پیٹرلیم کے نرخوں کو بنیاد بنا کر روزانہ اشیائے ضروریہ کے نرخ مقرر کرنے لگے ہیں جس کے باعث صارفین کیلئے کسی چیز کی حقیقی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے جبکہ انتظامی نگرانی کمزور ہونے سے ناجائز منافع خوروں کو عملاً کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔ عام آدمی کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہ ہو رہا ہو اور روزمرہ اخراجات مسلسل بڑھتے چلے جائیں تو ان میں مایوسی، بے چینی اور ریاستی نظام پر عدم اعتماد پیدا ہونا فطری امر ہے جبکہ عوام کی بڑھتی ہوئی مایوسی کسی بھی حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہونی چاہئے کیونکہ جمہوریت کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہوتی ہے۔ یہ اعتماد اس وقت مجروح ہوتا ہے جب حکمران طبقہ عوام کو کیڑے مکوڑے اور کاکروچ تصور کرنے لگے، وہ عوام کو معمولی سی سہولت کی فراہمی کیلئے سرکاری خزانے سے حاصل کی جانے والی مراعات میں کچھ بھی چھوڑنے کو تیار نہ ہو ۔ حکمرانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ قیادت کا مطلب صرف اختیار حاصل کرنا نہیں بلکہ مثال قائم کرنا بھی ہے۔ پاکستان کے عام شہری، مزدور، دہقان، کلرک اور نچلے درمیانے طبقے کی مثال بالکل اسی -94کاکروچ جنتا-93 جیسی ہے، جو تمام معاشی مظالم، ٹیکسوں کے بوجھ اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود سانس لے رہی ہے۔ آج پاکستان کو ایک ایسی نئی، غیر روایتی اور عوام دوست سیاسی جماعت یا تحریک کی اشد ضرورت ہے جوروایتی خاندانی اور موروثی سیاست دانوں کے چنگل سے آزاد ہو، سرمایہ داروں اور اسٹیبلشمنٹ کے
بجائے عام آدمی کی بات کرے، بجلی، پانی، آٹا، علاج اور روزگار کو اپنا مرکزی سیاسی منشور بنائے، اور سیاسی ٹھیکیداروں، میڈیا کے شوبازوں اور ڈیلنگ کرنے والے سیاستدانوں سے عوام کی جان چھڑا سکے۔پاکستان کے عوام اب تھک چکے ہیں۔ آر اوز کے دھاندلی زدہ الیکشن، فارم 47 کی جعلی حکومتیں اور ٹاک شوز میں باہم دست و گریباں سیاسی اداکار اب اس قوم کو مزید گمراہ نہیں کر سکتے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس بوسیدہ، مفاد پرست اور ڈس کریڈٹ شدہ سیاسی نظام کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے۔اگر پاکستان کو بقا اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ہے، تو عوام کو خود اپنی نمائندگی کا حق چھیننا ہوگا۔ روایتی جماعتوں کا جوازاب ختم ہو چکا ہے۔اب باری عوام کی اپنی سچی، گراس روٹ اور جینوئن سیاست کی ہے۔
٭٭٭


