میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۹ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا
ہر سال 60لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری، وزیر مملکت صحت

وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے 2050تک پاکستان کی آبادی 50کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔ کہا آبادی کے سیلاب کے سامنے بند نہ باندھا تو آنے والے برسوں میں یہ ملکی وسائل کو مزید تیزی سے بہا کر لے جائے گا۔ اور یہ صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں۔ عوام کو بھی اپنے حصے کی ذمہ داری نبھانا ہوگی۔ایک انٹرویو میں وزیر مملکت برائے صحت نے کہا کہ پچھلے 20 سے 50 سال میں شہروں کی آبادی تیزی بڑھی۔ اسلام آباد کی آبادی 4 لاکھ سے بڑھ کر 40 لاکھ تک پہنچ چکی ۔ لاہور اور کراچی میں بے ہنگم آبادی کے باعث انتظامی مسائل ہیں۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز دیہات میں سہولیات فراہم کر رہی ہیں تاکہ شہروں پر آبادی کا دبائو کم ہو۔وزیر مملکت صحت نے کہا کہ ملک میں معاشی ترقی کی رفتار بڑھانے کیلئے آبادی کی رفتار گھٹانا ضروری ہے۔ اس کے بغیر عوام کو خوراک، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن نہیں۔مختار احمد بھرتھ نے کہا کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، ہر سال پاکستان میں تقریبا 60 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ ماں اور پورے خاندان کیلئے ضروری ہے، پاکستان میں چائلڈ سٹنٹنگ کی وجہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں