گلستانِ جوہر میں رینجرز ہیڈکوارٹر پر دہشت گرد حملہ، 4رینجرز اہلکار شہید،3زخمی جبکہ3حملہ آوربھی مارے گئے
شیئر کریں
تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا،بلاک 5میں دھماکے کی آوازیں سنی گئیں،عینی شاہدین
وزیراعلی سندھ کاواقعے کا فوری نوٹس ، اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیقات کی ہدایت ، تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی
(رپورٹ :افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع سندھ رینجرز کے مقامی ہیڈکوارٹر پرہفتہ کی شام دہشت گردوں نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں سندھ رینجرز کے 4 اہلکارشہیدجبکہ3زخمی ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں تینوں حملہ آور بھی مارے گئے۔ذرائع کے مطابق زخمی جوانوں کو طبی امداد کے لیے درالصحت اسپتال جبکہ شہیدجوانوں کی جسد خالی کو رینجرزاسپتال منتقل کردیاگیا۔سندھ کے انسپکٹر جنرل(آئی جی)پولیس جاوید عالم اوڈھو کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق تین دہشت گرد ایک گاڑی میں سوار ہو کر رینجرز ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا گئے اور اس کے بعد اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے حملہ کیا۔ حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کے دوران دھماکا بھی ہوا یا نہیں۔واقعے کے فورا بعد سندھ رینجرز، سندھ پولیس، اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (SSU)، انسدادِ دہشت گردی فورس (ATF) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ طور پر علاقے کا محاصرہ کر کے کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔سیکیورٹی حکام کے مطابق آپریشن کے دوران عمارت اور اطراف کے علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے سرچ اور ماپ اپ آپریشن کیا گیا۔عینی شاہدین کے مطابق گلستانِ جوہر بلاک 5میں شدید فائرنگ اور دھماکے کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد پولیس، ریسکیو اداروں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔ریسکیو 1122 سندھ نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئی تھیں، جبکہ ادارے کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ بھی امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے جائے وقوعہ پہنچے۔دوسری جانب وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اعلی پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی اور حملے کے تمام پہلوئوں کی مکمل تحقیقات کی ہدایت جاری کی۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے بھی کراچی پولیس سے واقعے کی جامع رپورٹ طلب کرتے ہوئے تمام حقائق جلد از جلد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔حکام کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور حملے کے محرکات سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، جبکہ تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں اور مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔


