واہ انسان !! تو کب سدھرے گا؟
شیئر کریں
بے لگام / ستارچوہدری
کبھی آپ نے سوچا؟
کبھی آپ نے غورکیا کہ اس دنیا میں بہت سی حقیقتیں ہماری آنکھوں کے سامنے روزگزرتی ہیں، مگرہم انہیں دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے ، ہم پوری زندگی دوسروں کی غلطیاں تلاش کرتے رہتے ہیں، لیکن اپنی سوچ کے تضادات پرکبھی نظر نہیں ڈالتے ، شاید اسی لیے انسان نے ترقی تو بہت کر لی، مگر خود کو سمجھنے کا سفرابھی تک ادھورا ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
شراب بیچنے والے کو کبھی گھرگھر جا کر گاہک نہیں ڈھونڈنا پڑتا، لیکن دودھ بیچنے والا صبح سویرے گلی گلی آوازیں لگاتا پھرتا ہے ۔ پھر ہم دودھ والے سے پوچھتے ہیں، دودھ میں پانی کیوں ملایا؟ مگر شراب میں پانی اپنے ہاتھ سے ملا کر پیتے ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم میٹھی باتیں کرنے والوں کے گرویدہ ہو جاتے ہیں، اور سچ بات کہنے والے ہمیں سخت مزاج لگتے ہیں،حالانکہ نمک کڑوا ضرور ہے ، مگراس میں کبھی کیڑا نہیں لگتا، جبکہ مٹھائی کوجلد کیڑا لگ جاتا ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم تصویر کی خوبصورتی پرداد دیتے ہیں، فریم کی تعریف کرتے ہیں، رنگوں کی بات کرتے ہیں، مگر اس ایک چھوٹی سی کیل کو بھول جاتے ہیں جو خاموشی سے سارا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتی ہے ۔ شاید ہماری زندگی میں بھی بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے سہارے ہم کھڑے ہوتے ہیں، مگر تعریف ہمیشہ کسی اور کی ہوتی ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم موم بتی جلا کراپنے بچھڑ جانے والوں کو یاد کرتے ہیں، اور موم بتی بجھا کر کسی کی سالگرہ مناتے ہیں،ایک ہی شمع ہے ، مگرایک جگہ اس کی روشنی غم کی علامت بن جاتی ہے ، اور دوسری جگہ اس کا بجھ جانا خوشی کی رسم۔
کبھی آپ نے سوچا؟
پائل، جس کی قیمت ہزاروں میں ہوتی ہے ، وہ پیروں کی زینت بنتی ہے ، جبکہ معمولی قیمت کی بندی ماتھے پرسجتی ہے ۔ شاید انسان کی قدر ہمیشہ قیمت سے نہیں، بلکہ مقام سے ہوتی ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
قرآن اور انجیل نے کبھی ایک دوسرے سے جھگڑا نہیں کیا،اختلاف تو انسانوں نے پیدا کیا، جو اکثر اپنی اپنی کتابوں کے پیغام کو سمجھنے سے پہلے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو گئے ۔ کتابیں انسان کو جوڑنے کے لیے آئیں، مگر انسان نے انہیں بھی تقسیم کا ذریعہ بنا لیا۔
کبھی آپ نے سوچا؟
درخت خود کبھی اپنا پھل نہیں کھاتا، دریا اپنا پانی خود نہیں پیتا، سورج اپنی روشنی اپنے لیے نہیں بچاتا، اور پھول اپنی خوشبو خود محسوس نہیں کرتا،قدرت کی ہرخوبصورت چیزدوسروں کے لیے جیتی ہے ، مگر انسان اکثر صرف اپنے لیے جینے میں مصروف رہتا ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم مہنگی گھڑی خرید لیتے ہیں، مگروقت نہیں خرید سکتے ،نرم بسترخرید لیتے ہیں، مگر سکون کی نیند نہیں، بڑی بڑی کتابیں جمع کر لیتے ہیں، مگرحکمت کا ایک سبق نہیں سیکھتے ،دولت بڑھتی جاتی ہے ، مگر دل کا اطمینان کہیں پیچھے رہ جاتا ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم موبائل کی بیٹری ختم ہونے پر فوراً چارجر ڈھونڈ لیتے ہیں، مگرجب رشتوں کی محبت ختم ہونے لگتی ہے تو اسے چارج کرنے کی زحمت نہیں کرتے ۔ شاید اسی لیے آج گھروں میں سگنل تو پورے ہیں، مگردلوں کے درمیان رابطہ کمزورہوتا جا رہا ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم روزآئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنا چہرہ سنوارتے ہیں، مگر دل کے آئینے پر جمی ہوئی حسد، تکبراور نفرت کی گرد صاف کرنے کی فرصت نہیں نکالتے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم قلم خریدنے سے پہلے کئی دکانیں دیکھتے ہیں، مگر الفاظ بولنے سے پہلے ایک لمحہ بھی نہیں سوچتے ۔ حالانکہ ٹوٹی ہوئی نوک والا قلم بدلا جا سکتا ہے ، مگر زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ کبھی واپس نہیں آتا۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم دروازے پراچھا سا تالا لگاتے ہیں تاکہ چورگھر میں داخل نہ ہو سکے ، مگراپنے دل کا دروازہ لالچ، غروراور نفرت کے لیے ہروقت کھلا رکھتے ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا؟
جب جہاز اُڑتا ہے تو ہوا اس کے مخالف ہوتی ہے ، موافق نہیں۔ شاید اسی لیے کامیاب لوگ مخالفت سے گھبراتے نہیں، اسے اپنی پرواز کا سہارا بنا لیتے ہیں، جبکہ ہم معمولی سی تنقید پرہی ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم درخت کاٹنے والے کو مزدوری دیتے ہیں، مگردرخت لگانے والے کو اکثرپاگل سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ایک کلہاڑی چند منٹ میں برسوں کی چھاؤں ختم کر دیتی ہے ، اور ایک پودا برسوں بعد کسی اجنبی کو سایہ دیتا ہے ۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم اپنی خوشیوں کی تصویریں دنیا کو فوراً دکھا دیتے ہیں، مگر اپنے والدین کی خاموش قربانیاں کبھی کسی تصویر میں قید نہیں کرتے ۔ حالانکہ ہماری ہرکامیابی کے پیچھے کسی نہ کسی کی بے آواز دعائیں کھڑی ہوتی ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم مرنے کے بعد قبر پرپھول رکھنے چلے جاتے ہیں، مگرزندہ لوگوں کی زندگی میں محبت کے دو پھول دینے میں کنجوسی کرتے ہیں۔ شاید ہمیں مرنے والوں کی خاموشی تو سنائی دیتی ہے ، مگرزندہ لوگوں کی خاموش تکلیف نہیں۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم دوسروں کی غلطیوں کو یاد رکھنے کے لیے حافظہ تیزرکھتے ہیں، مگردوسروں کے احسان یاد رکھنے میں ہماری یادداشت اکثرکمزور پڑجاتی ہے۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں تاکہ جسم پاک ہو جائے ، مگر دل کو نفرت، حسد اورتکبر سے پاک کرنے کی فکر کم ہی کرتے ہیں۔
کبھی آپ نے سوچا؟
ہم ہرروز دنیا کی خبریں جاننے کے لیے بے چین رہتے ہیں، مگر اپنے ضمیر کی خبر لینے کے لیے چند لمحے بھی نہیں نکالتے ۔ ہمیں پوری دنیا کی فکر ہوتی ہے ، مگر اپنے اندر بستی دنیا اجڑتی رہے تو ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔
اورشاید۔۔ انسان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ وہ دوسروں کی زندگی کتاب کی طرح پڑھ لیتا ہے ، مگر اپنی زندگی کا ایک صفحہ بھی غور سے نہیں پڑھتا۔وہ چاند تک پہنچ گیا، سمندر کی تہہ ناپ لی، آسمان کی وسعتوں کو چیردیا، مصنوعی ذہانت بنا لی، حیرت انگیزمشینیں ایجاد کر لیں۔ مگر اپنے دل کی گہرائی میں چھپی خود غرضی، منافقت، لالچ اورانا پرآج تک قابو نہ پا سکا۔یہ دنیا تضادات سے نہیں، انسان کے تضاد سے بھری ہوئی ہے ۔ ہم سچ کی تعریف کرتے ہیں، مگرجھوٹ بولتے ہیں۔ انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں، مگراپنے مفاد پرانصاف بھول جاتے ہیں۔ محبت چاہتے ہیں، مگر معاف کرنا نہیں چاہتے ۔ عزت مانگتے ہیں، مگر دوسروں کی عزت کا خیال نہیں رکھتے ۔
واہ انسان!!
کیسا ہے تو؟
کب سدھرے گا؟
یا شاید۔۔ سوال یہ نہیں کہ توکب سدھرے گا؟
سوال یہ ہے کہ تو سدھرنا بھی چاہتا ہے ؟
٭٭٭


