میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب

گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب

ویب ڈیسک
منگل, ۲۸ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

غیرقانونی تعمیرات، تنگ راستے، رشوت، ناقص نگرانی اور حکومتی غفلت نے مل کر سانحے کو جنم دیا
عمارت میں اسموک ڈیٹیکٹر، نہ ایمرجنسی اخراج کا نظام، نہ فائر فائٹنگ کا مناسب انتظام تھا، ذرائع

شہرِ قائد کے مصروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے تباہی کی ایسی داستان رقم کی جس نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا۔اچانک بھڑکنے والی آگ نے چند ہی لمحوں میں پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے 75 سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔عینی شاہدین کے مطابق آگ اس قدر تیزی سے پھیلی کہ دکانداروں اور موجود افراد کو سنبھلنے کا موقع تک نہ مل سکا۔ ہر طرف چیخ و پکار، دھواں اور بھگدڑ کا سماں تھا۔ کئی افراد اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے، جبکہ متعدد افراد عمارت کے اندر ہی محصور ہو کر رہ گئے۔ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں ایک ماں اپنے بیٹے کی آخری کال یاد کرتے ہوئے نڈھال ہوگئی، جس میں بچے نے مدد کے لیے پکارا: امی! مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے، مجھے یہاں سے نکال لیں اور پھر فون ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔ماہرین کے مطابق آگ کے ابتدائی چند منٹ انتہائی اہم ہوتے ہیں، مگر جیسے ہی شعلے پھیلتے ہیں تو آتش گیر مواد سے خارج ہونے والی زہریلی گیسیں صورتحال کو بے قابو کر دیتی ہیں۔ گل پلازہ میں بھی یہی ہوا، جہاں 5 سے 7 منٹ کے اندر گرائونڈ فلور مکمل طور پر جل کر تباہ ہوگیا۔ریسکیو ٹیموں کے پہنچنے تک عمارت کے اندر موجود افراد دھوئیں اور آگ کے نرغے میں پھنس چکے تھے۔ کھڑکیوں سے مدد کے لیے اشارے کیے جاتے رہے، مگر شدید دھوئیں اور شعلوں نے تمام راستے مسدود کر دیے۔تحقیقات میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ عمارت میں اسموک ڈیٹیکٹر موجود تھا، نہ ایمرجنسی اخراج کا موثر نظام، اور نہ ہی فائر فائٹنگ کا مناسب انتظام۔ حیران کن طور پر دکانداروں سے ماہانہ لاکھوں روپے مینٹیننس کی مد میں وصول کیے جا رہے تھے، مگر حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر تھے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 4670 آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں کمرشل، رہائشی اور صنعتی عمارتیں شامل ہیںجو شہر میں فائر سیفٹی کے ناقص نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔ماہرین اور شہری حلقوں نے اس سانحے کو محض حادثہ نہیں بلکہ ایک سسٹم فیلئر قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق غیرقانونی تعمیرات، تنگ راستے، رشوت، ناقص نگرانی اور حکومتی غفلت نے مل کر اس سانحے کو جنم دیا۔دوسری جانب مرتضی وہاب سمیت متعلقہ حکام کی تاخیر سے جائے وقوعہ پر آمد پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر بڑے سانحے کے بعد بیانات تو آتے ہیں، مگر عملی اقدامات کا فقدان برقرار رہتا ہے۔گل پلازہ کے متاثرہ خاندان اب بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں، جبکہ کراچی ایک بار پھر اسی کربناک سوال کے ساتھ کھڑا ہے:کیا یہ آخری سانحہ ہے یا ہم مزید المیوں کے منتظر ہیں؟


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں