مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کریں!
شیئر کریں
امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کی دوسری لہر شروع کر دی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق یہ حملے ایرانی فوجی
صلاحیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جنہیں آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ گزشتہ
روز بھی ایران پر فضائی حملے جاری رکھے، ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذکرنے کے ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر تہران کسی معاہدے پر
آمادہ نہ ہوا تو اگلے ہفتے امریکہ ایران کے بجلی گھروں اور پلوں کو بھی اپنے حملوں کا نشانہ بنائے گا۔فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں
ٹرمپ نے کہا کہ اگلا ہفتہ ان کے لیے بہت برا ثابت ہوگا، کیونکہ اگلے ہفتے ہماری کارروائی بجلی گھروں تک پہنچے گی، اور اگلے ہفتے پل بھی
نشانے پر ہوں گے۔ ہم ان کے تمام بجلی گھرتباہ اور تمام پل گرا دیں گے۔ امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کی تازہ لہر
مکمل کر لی گئی ہے۔ امریکی فوج کے حملوں سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے خلیج فارس کے ساحلی شہر بندر عباس، آبنائے ہرمز کے قریب جزیرہ قشم اور دیگر مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات دی
ہیں۔بعد ازاں سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے بتایا کہ ایرانی افواج نے اردن میں واقع ایک ایسے فوجی اڈے پر ڈرون حملہ کیا جہاں
امریکی جنگی طیارے تعینات ہیں۔ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے امریکی
فیصلے نے ایک طرح سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد میمورنڈم) کو ختم کر دیا ہے۔تاہم، آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف ویسٹرن
آسٹریلیا (UWA) کے دفاع و سلامتی انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ معاون پروفیسر جینیفر پارکر کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنا
دراصل واشنگٹن کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے معاشی دباؤ ڈال کر تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جا رہی
ہے۔انہوں نے سی این اے کے پروگرام ایشیا فرسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بحری ناکہ بندی بنیادی طور پر معاشی جنگ کا ایک ہتھیار
ہوتی ہے، جس کا مقصد دشمن کو ہتھیاروں، ڈرون کے پرزوں، بیلسٹک میزائلوں کے اجزا اور دیگر فوجی سامان کی فراہمی سے محروم کرنا ہوتا
ہے، تاہم اس کے اثرات ظاہر ہونے میں خاصا وقت لگتا ہے،انھوں نے دعویٰ کیا کہ13 اپریل کو نافذ کی گئی پہلی بحری ناکہ بندی نے
ایران کو جون کے وسط میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے
منگل کواپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران نے جان بوجھ کر خطے بھر میں شہریوں کو نشانہ بنایا ہے اور7 تجارتی جہازوں پر
حملے کیے ہیں۔انہوں نے کہاکہ امریکی افواج ایران کو اس بلاجواز جارحیت کا جوابدہ ٹھہرا رہی ہیں جو مسلسل بے گناہ جانوں کو خطرے میں
ڈال رہی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق امریکی افواج نے تازہ حملوں میں بوشہر میں 4مقامات کوبھی نشانہ بنایا۔ بوشہر ہی ایران کے واحد سول
جوہری بجلی گھر کا مقام ہے۔ اس کے علاوہ عراق اور کویت کی سرحد سے متصل ایرانی علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔جواباً ایران نے آبنائے
ہرمز میں 2 جہازوں پر حملہ کیا۔ ادھر بحران سے نمٹنے والی کمپنی ایم ٹی آئی نیٹ ورک کے مطابق منگل کی صبح عمان کے ساحل کے قریب
ناروے کے ایک تیل بردار جہاز کو نامعلوم دھماکا خیز آلے سے نشانہ بنایا گیا۔اطلاعات کے مطابق امریکہ ایران تنازع کے باعث
آبنائے ہرمز ایک دفعہ پھر بند ہونے کی وجہ سے توانائی کا بڑا بحران دوبارہ جنم لے رہا ہے اور خام تیل 85 ڈالر کا ہو گیا ہے جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 79 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے۔
آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت روکنے کے بعد اب ایران نے دنیا کو اپنا سب سے خطرناک ہتھیار دکھانے اور بحیرہ احمر کے انتہائی اہم راستے ‘باب المندب’ کو بھی بند کرنے کا اشارہ دیا ہے، ماہرین کا کہناہے کہ ایران اپنے حلیف حوثی باغیوں کے ذریعے بحیرہ احمر کے انتہائی اہم راستے ‘باب المندب’ کو بھی بند کر سکتا ہے۔اس اقدام سے واشنگٹن کے خلاف ایک نیا محاذ کھل جائے گا اور دنیا کی 2 سب سے اہم تجارتی اور توانائی کی شریانیں شدید خطرے میں پڑ جائیں گی۔برطانوی خبر رساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ایران کے اندر امریکی حملے تیز ہو رہے ہیں حوثیوں کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے، تہران واشنگٹن پر دباؤ بڑھانے کیلئے اس جنگ کا دائرہ کار وسیع کر کے عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو نشانہ بناسکتاہے۔ ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی راستے روک کر پہلے ہی اپنی طاقت کا لوہا منوا چکا ہے ، اور اب وہ باب المندب کو دوسرا دباؤ کا مرکز بنانے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے، جہاں سے سعودی عرب کا تیل اور دنیا کی تجارتی مصنوعات گزرتی ہیں۔رائٹرز کے مطابق، یمن کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے گزشتہ روز خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب نے یمن پر اپنے حملے جاری رکھے تو ملکی افواج باب المندب کو بند کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، جس سے دنیا میں تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔حوثی مزاحمتی تحریک ‘انصار اللہ’ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد الفرح نے ایران کے ‘پریس ٹی وی’ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن حکومت سعودی عرب کو یمن پر حملے کرنے کے لیے اکسا رہی ہے اور یہ اشتعال انگیزی خود امریکہ کے حق میں کبھی بہتر ثابت نہیں ہوگی۔انہوں نے انتباہی لہجے میں کہا کہ اگر موجودہ صورتحال مزید خراب ہوئی توباقاعدہ جنگی اتحاد کے تحت باب
المندب اور آبنائے ہرمز کو مکمل بند کر دیا جائے گا، جس کے بعد تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہوئی200 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچیں گی جو پوری دنیا کے لیے ایک بھیانک دھچکا ہوگا۔رائٹرز کے مطابق، تجزیہ کاراس بات پر متفق نظر آتے ہیں اگر آبنائے ہرمز تہران کا سب سے بڑا ہتھیار ہے تو باب المندب اس کا آخری اور سب سے اہم متبادل پتہ ہو سکتا ہے۔مڈل ایسٹ کے امور کے ماہر اور اسکالر فواد جرجس نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس جنگ میں آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تہران واشنگٹن کو یہ دکھا رہا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں دونوں اہم ترین بحری راستوں کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے یہ لڑائی 2ملکوں کے بجائے پوری دنیا کی توانائی اور معیشت کی جنگ بن جائے گی۔امریکہ نے اگر اپنی جارحانہ روش ترک نہ کی تو تہران اب قریب اور دور دونوں جگہوں پر جنگ بڑھا نے کی صلاحیت استعمال کرسکتاہے اور اس کا پیغام واضح ہے کہ اب صرف ہرمز ہی نہیں بلکہ باب المندب بھی خطرے میں ہے۔
اسپتالوں، بندرگاہوں اور تجارتی راستوں پر منڈلاتے اس خطرے کے حوالے سے کنگز کالج لندن کے سیکورٹی اسٹیڈیز کے ماہر اینڈریاس کریگ نے یمنی حوثیوں کی اس تازہ دھمکی کو ایران کا ‘دوسرا ایٹمی آپشن’ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ایران یہ انتہائی قدم صرف اس صورت میں اٹھائے گا جب پاسداران انقلاب کو یہ یقین ہو جائے گا کہ اب ایک بڑی اور کھلی جنگ سے بچنا ناممکن ہو چکا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کی بنیادی تنصیبات پر حملے تیز کیے تو تہران یمن کے ذریعے باب المندب بند کروا دے گا۔دوسری جانب سعودی عرب میں قائم گلف ریسرچ سینٹر کے چئرمین عبدالعزیز صقر نے کہا کہ خلیجی ممالک اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ایک فاتح ایران یا ایک ہارا ہوا ایران، دونوں ہی صورتیں خطے کے لیے نقصان دہ ہیں، لیکن اگر خطے کا سیکورٹی ماحول ہمیشہ کے لیے پرامن ہو جائے تو بہت سی خلیجی ریاستیں ایران کی شکست کی قیمت چکانا زیادہ پسند کریں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حوثی باغی باب المندب کو بند کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں لیکن وہ تہران کے واضح اشارے کے بغیر ایسا کوئی بڑا قدم نہیں اٹھائیں گے۔امریکہ کے سابق مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کار ڈینس روس کا واشنگٹن سے کہنا تھا کہ اس وقت اصل چیلنج یہ ہے کہ ایران کی سوچ کو کس طرح بدلا جائے تاکہ وہ دوبارہ سنجیدہ مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہو سکے، اور ٹرمپ صرف زبانی باتیں نہ کریں بلکہ ایک ایسا باقاعدہ معاہدہ کریں جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ رواں سال فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی اس جنگ نے پورے خلیج کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس میں اب تک خاص طور پر ایران اور لبنان میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔امریکی صدر جو زبان استعمال کر رہے ہیں اس
سے واضح ہوتا ہے کہ وہ طاقت کے نشے میں یہ سب کچھ کہہ رہے ہیں۔ ان کے ان بیانات پر اور تازہ پیش رفت پر ایران کی جانب سے
شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی فوجی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت امریکہ کو آبنائے ہرمز کے انتظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا اور مستقبل میں بھی ایسا نہیں ہونے دے گا۔خلیجی ممالک میں امریکہ کے اڈوں پر حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی اڈوں پر حملے حق دفاع کے تحت کیے گئے۔ ایران کو دفاع پر موردِ الزام ٹھہرانا سراسر غلط ہے۔ امریکہ کے حالیہ حملوں نے چند ماہ کی تمام سفارتی کوششوں کو بے معنی اور ناکام بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اڈے دینے والے ممالک کو جواب دینا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ مسلسل ایران کے موقف کو نظر انداز کررہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ امریکی صدر کا جارحانہ انداز اور بیانات اس بحران کو مزید گھمبیر بنانے کا باعث بن رہے ہیں۔ ایرانی ردعمل بھی بہت سخت ہے لیکن وہ بہرطور ردعمل ہے۔ اس صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا فریقین اس تباہ کن روش سے واپس آنے کو تیار ہیں یا نہیں۔ اگر امریکہ اور ایران دونوں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کریں اور اس معاہدے کی روح کے مطابق آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھلا رکھیں تو خطہ عدم استحکام کی دلدل سے نکل کر امن کی جانب لوٹ سکتا ہے۔ لیکن اگر کشیدگی جاری رہی تو اس خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
٭٭٭


