میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہے، حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، وزیر اعظم

حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہے، حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، وزیر اعظم

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۵ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان، ترکیے اور سعوی عرب کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں، خطے میں امن کیلئے ہے،

مشرق وسطی میں جنگ سے قیمتی جانیں ضائع اور دنیا کی معیشت متاثر ہوئی

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی

پاکستان نے امریکا اور ایران کو ایک میز پر بٹھایا، جنگ سے آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دباؤ میں آگئے،

میزائل، ڈرونز اور بندوقوں کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہیے، شہبازشریف

بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا

فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے افغان سرزمین استعمال کررہے ہیں

افغان حکام اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنے کیلئے فوری اقدامات کریں، جنرل اسمبلی سے خطاب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہے، حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، پ

اکستان، ترکیے اور سعوی عرب کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں،خطے میں امن کیلئے ہے، مشرق وسطی میں جنگ سے قیمتی جانیں ضائع اور دنیا کی معیشت متاثر ہوئی،فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی،

پاکستان نے امریکا اور ایران کو ایک میز پر بٹھایا، جنگ سے آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دبا ئومیں آگئے،میزائل، ڈرونز اور بندوقوں کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہیے،

بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا، پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا،

کشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصواب رائے ہونا چاہیے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، تھا اور رہے گا،

بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا، اس اقدام کی کوئی حیثیت نہیں، پاکستان کا پانی روکنے یا موڑنے کی کوشش کو اعلان جنگ سمجھا جائے گا، فلسطینی نسلوں سے آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں،

آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو، دہشتگردی عالمی آمن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے،فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے افغان سرزمین استعمال کررہے ہیں،

افغان حکام اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنے کیلئے فوری اقدامات کریں۔ جمعہ کو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے اپنے خطاب کے آغاز قرآن مجید کی آیت کی تلاوت سے کیا۔

شہباز شریف نے کہاکہ 24 کروڑ امن پسند عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے عالیشان ایوان سے چوتھی بار خطاب میرے لئے باعث اعزاز ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے خلیل الرحمان کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔

شہبازشریف نے کہاکہ متحرک قیادت سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، اینا لینا بائر بوک کا بہترین قیادت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ شہبازشریف نے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے سور الانفال کی آیت نمبر 61کا حوالہ دیاکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جائو۔وزیراعظم نے قائداعظم محمد علی جناح کے اقوام متحدہ سے متعلق مشہور قول کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہاکہ ہم اقوام متحدہ کے منشور کے ساتھ کھڑے ہیں، دنیا کے امن اور خوشحالی کے ساتھ ہیں۔ شہبازشریف نے کہاکہ سلامتی کونسل میں قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری عالمی امن کے لئے ہمارے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطی کو جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا، جنگ سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ سے آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دبا ئومیں آ گئے، اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لا کر تاریخی پیشرفت کی گئی،

اس تنازعے کو ختم کرنے کے لئے کئی تاریخی اقدامات کئے گئے۔وزیراعظم نے سفارتی اور دفاعی محاذ پر خدمات پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی۔

شہبازشریف نے کہا کہ نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا کردار بھی قابل تحسین ہے۔انہوںنے کہاکہ سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ملک کی امن کوششوں پر ممنون ہوں۔

انہوں نے کہاکہ افسوسناک طور پر امن دشمن کارروائیوں سے ایک بار پھر خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ شہبازشریف نے کہاکہ میزائل، ڈرونز اور بندوقوں کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی معیشت کے مراکز آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔

انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین ہمارے لئے ریڈ لائن ہے، حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ شہبازشریف نے کہاکہ پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کا تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی امن و استحکام کا ضامن ہے،تینوں ملکوں کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لئے ہمارا اجتماعی عزم ہے۔معرکہ حق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا،

پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں، دو ایٹمی پڑوسی ملک کھلی جنگ کے دہانے پر تھے۔

شہباز شریف نے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ رکوانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان صدر ٹرمپ کی پرعزم اور بصیرت افروز قیادت پر ان کا مشکور ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات و سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیتا ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں بھی کہا کہ تنازعات کے حل اور امن کی بحالی کے لیے مکالمہ اور سفارتکاری کو راستہ بننا چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہاکہ ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ اس صورت حال پر نہ پہنچے، اس کے لیے یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل خطے میں امن کیلئے انتہائی ضروری ہے،

آٹھ دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں،اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصواب رائے ہونا چاہیے، کشمیر میں اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میں کشمیری بہنوں بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ان کیلئے اپنی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے یہاں تک کہ انھیں ان کا حق نہیں مل جاتا، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، تھا اور رہے گا۔

سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ پانی کو ہتھیار کے طور پراستعمال نہیں کیا جانا چاہیے،بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا، اس اقدام کی کوئی حیثیت نہیں، اس فیصلے کو اقوام متحدہ اور مصالحتی عدالت نے مسترد کر دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نسلوں سے فلسطینی عوام آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، غزہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو بھی دیگر بچوں کی طرح جینے کا حق ہے، فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اسرائیل کے نسل کشی کے ایجنڈے کو ظاہر کرتی ہے،

1967سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں، لبنان اور شام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی مخالفت کرتے ہیں،

غزہ میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے،آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔شہباز شریف نے کہا کہ دہشتگردی عالمی آمن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے ،

دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے صف اول کی ریاست کے طور پر دہشتگردوں کا مقابلہ کیا، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ جانوں کی قربانی دی ، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا،

ہماری مسلح افواج اور بہادر شہریوں کی قربانیوں کی بدولت آج دنیا زیادہ محفوظ ہے، امن پسند دنیا پاکستان کی لازوال قربانیوں کو جھٹلا نہیں سکتی ، فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اور فتنہ الہندوستان بی ایل اے افغان سرزمین استعمال کررہے ہیں،

افغان حکام اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنے کیلئے فوری اقدامات کریں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں